اپوزیشن کا ایجنڈا ملکی اداروں کو متنازع کر کے ریاست کو کمزور کرنا ہے- وفاقی وزرا

ویب ڈیسک(اسلام آباد): وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے ہمراہ گزشتہ روز ہونے والی اپوزیشن کی اے پی سی پر رد عمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتساب سے بچنے کے لیے یہ سارے لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کسی اور کے بیانیے پر چل رہے ہیں، جو ادارہ نوازشریف کے کنٹرول میں نہیں آتا وہ اس کے خلاف ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف فواد چودھری کی طرح تندرست لگ رہے تھے، ان کی صرف سیاست نہیں جائیدادیں بھی داوَ پر لگی ہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ عمران خان نے پہلے کہا تھا کہ جب احتساب کا عمل آگے بڑھے گا تو یہ سب مل جائیں گے۔

اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن کا اجلاس تضادات کا مجموعہ ہے، آل پارٹیز اجلاس میں مایوسی اور ناامیدی نظرآئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ ملکی معیشت دیوالیہ کر کے گئی تھی، پی ٹی آئی حکومت نے ملک کو مشکل اقتصادی صورتحال سے باہر نکالا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے اپوزیشن کے پاس گئے، انہیں اندازہ تھا کہ حکومت کے پاس نمبرز پورے نہیں ہوں گے مگر اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف بل کی آڑ میں این آراو لینے کی کوشش کی۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے اے پی سی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کس منہ سےوزیراعظم سے استعفیٰ مانگ رہےہیں،عدلیہ کےخلاف جتنی سازشیں ہوئیں، نوازشریف اس کا حصہ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کےذہن میں ہمیشہ امیرالمومنین بننے کا خبط سوار رہا وہ جس بیانیے پرچل رہے ہیں اس کا فائدہ پاکستان دشمنوں کو ہو گا۔