دفترخارجہ کو اصلاحات کی ضرورت ہے

کسی بھی ادارے کی مؤثر کارکردگی کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اردگرد ہوتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ رہنے کیساتھ ساتھ، عالمگیریت کے سبب قریب آتی دنیا میں ترقی کے مواقع تلاش کرے اور رونما ہوتے نئے مسائل سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہے۔ کارکردگی کا متواتر جائزہ اور بروقت اصلاحات کسی بھی ادارے میں نئی روح پھونکنے اور اس کے اصل مقاصد کے حصول کیلئے نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ وزارت خارجہ کو بھی اسی اصول کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
دہائیاں بیت گئیں مگر اب تک اس ادارے کے طریقہ کار، انتظامی ڈھانچے اور اہلکاروں کی تربیت اور بھرتی کے نظام میں کوئی خاطرخواہ تبدیلی نہیں آئی اور یہی وجہ ہے کہ اس کی ساکھ اور نقطہ نظر میں بھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوسکی۔ ہمیں وزارت کی جانب سے یہ شکوہ سننے کو ملتا ہے کہ وہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ خارجہ پالیسی میں اپنا مرکزی اور کلیدی کردار اس سول ملٹری اکھٹ سے چلنے والے ملک میں دیگر فریقین کے ہاتھوں کھو چکی ہے۔ مگر اس شکوے کا حل یہ ہے کہ وزارت خود کو مزید اہم اور ناگزیر بنانے کیلئے کام کرے، وہ پالیسی معاملات میں اپنا حصہ سب سے بڑھ کر ڈالے اور ان جہتوں میں باقیوں سے آگے رہنے کیلئے خود کو تیار کرے۔ وگرنہ ایسے شکن حوصلوں اور شکوؤں سے تو کوئی بھی ادارہ اپنی وقعت کھو دیتا ہے۔
وزارت کو اپنا مرکزی کردار دوبارہ بحال کرنے کیلئے محکمے کے سربراہ اور سیکریٹری خارجہ کو اس کی مہاریں اپنے ہاتھ میں لینا ہوں گی۔ دیگر متعلقہ فریقین کی اس قدر تابع فرمانی دفترخارجہ کے موجودہ ذمہ داران کی پہچان بن چکا ہے۔ وہ زمانہ گیا جب نوے اور دو ہزار کی دہائی میں سیکرٹری خارجہ فوجی حکمرانوں کے سامنے مضبوطی سے کھڑے ہو کر امورخارجہ کے بابت وزراء اعظم کو پالیسی مشورے دیتے تھے حالانکہ اکثر اوقات وہ مشورے آمروں کے مزاج اور نقطہ نظر سے مختلف ہوتے۔ سیکریٹری خارجہ کی یہ کلیدی ذمہ داری ہے کہ وہ نہایت متحرک انداز میں وزارت کے امور سنبھالے اور ہر قسم کے سیاسی، حکومتی یا ذاتی مفاد اور دباؤ سے بے نیاز ہوکر دانشمندانہ مشورے اور تحریک دے۔ ہمیں اس حوالے سے آزادانہ مکالمے کی روایت کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے نہ کہ ذاتی نظریات کو ملکی معاملات پر تھوپنے کی۔ خارجہ مشنز میں اضافے کیساتھ ساتھ مزید قابل اہلکاروں کی ضرورت بڑھ رہی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر دن دبدن پیچیدہ اور گمبھیر ہوتے مسائل کے سبب سفارتکاری کے محاذوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔
دوسرے نمبر پر وزارت سے متعلقہ چھوٹے چھوٹے امور بھی سیکریٹری کے دفتر میں حل ہونے کی روش کا خاتمہ ضروری ہے۔ ہمیں ایڈیشنل سیکریٹریز کو مزید ذمہ داریاں تفویض کرکے اس قابل بنانا ہوگا کہ وہ روزمرہ کے معاملات کو سلجھا سکیں۔ اسی طرح وزارت میں ایک نئی اور تازہ سوچ پروان چڑھ سکے گی۔ ہر ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل کو نئے خیالات اور آئیڈیاز کو پروان چڑھنے کیلئے موزوں اور حوصلہ افزا ماحول پیدا کرنے کی بھی ذمہ داری لینا ہوگی۔
تیسری انتظامی اصلاح باہمی رابطوں کی طریقہ کار کو بہتر کرنے سے متعلق ہے۔ ہیڈکوارٹر، ڈویژنز اور مشنز کے مابین مسلسل اور بہتر روابط کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس ذہنیت کو بھی تبدیل کرنے کی ضروت ہے جو معلومات کا خود تک رکھنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہے۔ ہمیں ادارے میں معلومات کی ترسیل کیلئے مربوط طریقے وضح کرنا ہوں گے۔
چوتھے نمبر پر بات کرتے ہیں اہلکاروں اور افسران کی تربیت پر۔ آغاز میں فراہم کی جانے والی تربیت کو بدل کر ہمیں مزید جدید، موزوں اور عملی تربیت کو متعارف کرانے کے ضرورت ہے جس کے بعد ہمارا عملہ سفارتکاری اور خارجہ پالیسی کے عملی پہلوؤں کے بارے میں آگاہ رہ سکے۔ نئے طرز تربیت میں ہمیں مذاکرات کرنے، رابطے استوار کرنے، عوامی سفارتکاری اور ذرائع ابلاغ کو بہتر طور پر استعمال کرنے پر زور دینا ہوگا۔ عالمی مسائل پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور ان سے نمٹنے کیلئے ہمیں متفرق مہارتوں پر عبور حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
آخر میں ہمیں وزارت کو براہ راست بھرتیاں کرنے کی بھی اجازت دینے پر غور کرنا چاہئے کہ سول سروس کا طریقہ اس کیلئے غیر موزوں ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ وزارت خارجہ دوسرے سرکاری محکموں کی نسبت مختلف طور پر کام کرتی ہے سو اس کی بھرتیوں کیلئے بھی اس کی ضروریات کے عین مطابق، ایک مخصوص امتحان لیکر موزوں بندے چننا ہوں گے۔ اس طرح بہتر اور سروس کیلئے موزوں لوگوں کو سامنے آنے کا موقع ملے گا۔ یہ امتحان البتہ وفاقی پبلک سروس کمیشن کے تحت لیا جا سکتا ہے۔ وزارت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے بہت سی اصلاحات کی ضرورت ہے البتہ حکومت اس مقصد کیلئے ایک ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لاکر اسے ایک وقت مقررہ کے دوران اصلاحات تجویز کرنے اور انہیں وزیراعظم سے منظور کرانے کی ذمہ داری دیکر اس جانب پہلا قدم اُٹھا سکتی ہے۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)