پاکستان، مدنی ریاست مگر

اس بات میں کوئی دوسری رائے ہے ہی نہیں کہ قیام پاکستان کی تحریک میں سب سے مؤثر اور فعال جذبہ اسلام ہی تھا اور آج بھی اس جذبہ اور نعرہ میں بڑی طاقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لبرل اور سیکولر طبقات شدید خواہش اور کوششوں کے باوجود اس کے نام سے ”اسلامی” کا لفظ ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکے لیکن افسوس اور انتہائی افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ چھہتر برس گزرنے کے باوجود یہاں اسلامی نظام کی حکومت قائم کرنے اور عوام کو اس کے شریں ثمرات سے مستفید ومستفیض کرنے کے مواقع فراہم نہ ہوسکے۔ اسی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ہر شعبہ زندگی میں ایسے عناصر پیدا ہو چکے ہیں جو غریب،کمزور، بے بس اور لاچار عوام کے جان مال آبرو کیلئے ہر وقت خطرہ بنے رہتے ہیں خوراک کی کمی، بجلی گیس، پینے کا پانی تعلیم کا فقدان اور دیگر بہت سارے بڑے بڑے مسائل اپنی جگہ عوام کا جینا دوبھر کرنے کیلئے ہمیشہ سے موجود ہیں لیکن آج سے چالیس پچاس برس قبل چادر چاردیواری کی ایسی بے حرمتی کبھی تصور میں بھی نہیں آتی تھی۔
اس وقت پاکستان بھر میں گزشتہ ایک ہفتہ سے لاہور سیالکوٹ موٹروے پر درندگی کا جو واقعہ رونما ہوا معاشرے کے ہر طبقے میں زیربحث چلا آرہا ہے۔ پاکستان کے چھیانوے فیصد عوام نے اس بہیمانہ جرم کے مرتکب افراد کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ عام آدمی سے لیکر وزیراعظم تک سب اس پر متفق ہیں کہ مجرم بچ کر نہ جائیں اور اُن کو عبرتناک سزائیں دی جائین۔ بجا! برحق لیکن کیا ایسا کرنے سے پاکستان میں پھر ایسا کوئی واقعہ برپا نہیں ہوگا! کیا قصور کی معصوم زینب بی بی کے واقعے کا بہت لمبا عرصہ گزرا ہے کیا اس واقعے کے بعد دو تین اس قبیل کے قبیح واقعات اور نہیں ہوئے ہیں۔
دراصل ہم ایک جذباتی بھیڑ پر مشتمل بے ہنگم سی قوم ہیں، گزشتہ چھہتر برسوں میں بحیثیت قوم ہماری تربیت کا کوئی انتظام ونظام تشکیل نہ ہونے دیا گیا۔ نظام تعلیم میں ایسا نصاب نہ سکول کالجوں میں اور نہ ہی مدارس میں وجود میں لایا گیا جس کے ذریعے اخلاقیات کا معیار بلند ومستحکم کیا جا سکتا ہے۔ اخلاقیات کی تعمیر کیلئے مذہب بلاشبہ سب سے زیادہ طاقتور وفعال کردار ادا کرتا ہے لیکن ہمارے ہاں اس کو بھی روایات میں ڈھال کر صرف ظاہری خانہ پری کی گئی۔ کالجوں وجامعات میں تو لارڈ میکالے کے نظام تعلیم نے ڈگری اور نوکری کو تعلیم کا ماحصل قرار دیا لہٰذا اُس کا اخلاقیات سے کیا تعلق۔ مذہبی تعلیمی اداروں نے بھی قرآن کریم کے حفظ اور فقہ کی چند کتب نے بھی الاماشاء اللہ بحیثیت مجموعی ہمارے معاشرے کو وہ افراد فراہم نہیں کئے جن کی امانت ودیانت کی مثال دی جاسکے ورنہ کیا یہ بات سامنے آنے کے بعد ہم سب حیران وششدر نہ تھے کہ زینب بی بی کا قاتل ساجد نعتیں بھی پڑھتا تھا، کیا جامعات میں اسلامی علوم کے استاد کا براحال ہمارے سامنے نہیں ہے۔درحقیقت جب تک کسی ملک کے تعلیمی نظان کو اُس قبیح پر استوار نہیں کیا جاتا جس کی بنیادوں پر ملک وجود میں آئے ہیں تب تک وہاں کوئی شاندار قوم تشکیل نہیں پاتی، پاکستان کے اسلام کے نام پر وجود میں آنے اور اب گزشتہ دو دھائی برسوں سے مدینہ کی ریاست کی رٹ لگانے کے باوجود نصاب تعلیم اور قانون سازی اور معاشرے کی تعمیر کیلئے کونسے ایسے بنیادی اقدامات کئے گئے جو عوام کے اخلاقی نظام کو مضبوط بنائے۔ اب تک ایسا کوئی انتظام نہ ہوسکا اور نہ مستقبل قریب میں کوئی امکان اور اُمید ہے کیونکہ یہ بہت ہی ہمہ گیر جدوجہد کا متقاضی ہے۔ اس کیلئے سب سے اہم کام مذہبی تعلیمات کی ایسی تقسیم وتشریح کا نظام قائم کرنا ہے جو لوگوں کے اعمال کو اپیل کرے۔ نصاب تعلیم میں انقلابی تبدیلیاں کر کے اس کی اساس قرآن وسنت پر استوار کرنا ہوگی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے صحیح معنوں میں خلوص دل سے کام کرنا ہوگا۔ اسلامی ملک اور اسلامی نظام ہی میں اسلامی سزاؤں سے معاشرے کا سدھار ممکن ہے ورنہ یہود ونصٰاری کے پاس تورات وانجیل کی کتب تب بھی تھیں اور آج بھی ہیں لیکن قرآن کریم نے اُن کے اعمال میں بگاڑ کی جو صورتیں بتائی ہیں کیا آج وہ سب ہم میں پائی نہیں جاتیں، لہٰذا وقتی ارتعاش وجذبات سے ایسے گمبھیر مسائل حل نہیں ہونے ہیں۔