کھلا ہے جھوٹ کا بازار آئو سچ بولیں

سوال مگر اپنی جگہ بنتا تو ہے کہ وہ چینی ماہرین اس وقت کہاں تھے جب بی آرٹی بسیں مکمل ہو کر قابل فروخت قراردی گئی تھیں یعنی مینو فیکچرنگ کے پراسیس سے گزر کر گاہک کے حوالے کی جارہی تھیں، کیا ان کی حالت اس قدر تسلی بخش تھی کہ پشاور روانہ کر دی گئی تھیں؟ یقینا یہ کوئی چابی کے کھلونوں کا سودا نہیں تھا جن میں اگر پورے لاٹ میں ایک آدھ دانہ خراب نکلے تو خریدار بھی زیادہ پروا نہیں کرتا یہاں تو ان بسوں سے ایک پورا منصوبہ چلایا جانا تھا جس کیساتھ حکومت کی نیک نامی یا بدنامی وابستہ تھی حالانکہ جب سے اس ادھورے منصوبے کو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے ”نامکمل” ہی چلایا گیا ہے اور اس پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آرہے ہیں، میں نے جان بوجھ کر اس حوالے سے کوئی کالم لکھنے کی کوشش نہیں کی کہ اس سلسلے میں انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی بہترین لائحہ عمل سمجھتا تھا، اب بھی منصوبے پر کوئی اعتراض کرنا نہیں چاہتا بلکہ میرا مطمح نظر تو ان بسوں کی موجودہ حالت زار کے حوالے سے سپلائرز کا غلط طرزعمل ہے یعنی متعلقہ کمپنی یا ادارے نے اتنی ناقص بسیں جو سپلائی کی ہیں اور ان کو ہر لحاظ سے محفوظ بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے اب تک غالباً 7بسیں آگ پکڑ کر ناکارہ ہو چکی ہیں، تاہم اللہ کا شکر ہے کہ ان حادثات کی وجہ سے انسانی جانوں کو نقصان نہیں پہنچا اور اب اس پورے منصوبے کو ہی معطل کر کے بسوں کا معائنہ کرنے کیلئے چینی کمپنی کے ماہرین کو بلوا لیا گیا ہے مگر جیسا کہ اوپر کی سطور میں سوال اُٹھایا گیا ہے کہ بسوں کو فائنل ٹچ دینے سے پہلے ان کو ہر لحاظ سے تسلی بخش قرار دینے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی گئی اور اب ان کا معائنہ تو بعد ازمرگ واویلا ہی قرار دیا جا سکتا ہے تو کمپنی کے ماہرین سے پوچھنا تو بنتا ہے ناں کہ تو درون درچہ کردی کہ بیرون خانہ آئی؟ بلکہ صورتحال تو یہ ہے کہ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت، حالانکہ دنیا بھر کی ٹرانسپورٹ کمپنیاں اپنی گاڑیوں کو مارکیٹ کرنے سے پہلے ان کو مختلف ٹیسٹوں سے گزار کر ہر لحاظ سے گاہکوں کیلئے قابل اطمینان بنانے پر ریسرچ کے شعبے کے ذریعے کروڑوں ڈالر خرچ کرتی ہیں، آپ نے مختلف دستاویزی فلموں میں بسوں، ٹرکوں، موٹرکاروں وغیرہ کو ایسے جانچ پرکھ سے گزارتے ہوئے ضرور دیکھا ہوگا۔ سو یقینا متعلقہ بس کمپنی نے بھی ایسا ریسرچ کر کے ہی یہ بسیں پشاور ٹرانس کمپنی کے حوالے کی ہوں گی، تاہم یہ جو ہمارے ہاں ”چین مال” کے حوالے سے ایک تصور ہے کہیں یہ سارا معاملہ بھی اس تصور کو حقیقت کا رنگ دینے والا تو نہیں؟حالانکہ مغربی دنیا میں بھی چینی مصنوعات کی بہت زیادہ کھپت ہے اور وہاں تو معیار پر کسی سمجھوتے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو امریکہ کی مارکیٹوں پر چینی مال کے قبضے کا خوف ٹرمپ کو کبھی نہ ہوتا جو کسی نہ کسی بہانے چین پر تجارتی پابندیاں لگانے کی کوششیں کرتا رہا ہے اور چین کیساتھ تجارتی معاہدوں کو اپنے ملکی مفاد کیخلاف سمجھتا ہے، اس صورتحال کا نظارہ خود ہمارے ہاں بھی بعض چینی مصنوعات کی درآمد کے حوالے سے دیکھا جا سکتا ہے اور اکثر چیزیں جو مغربی دنیا کیلئے آرڈرز کے تحت چین میں بنتی ہیں ان کے ”بقایاجات” پاکستان کی مارکیٹوں میں بھی آسانی سے اور سستے داموں مل جاتی ہیں دراصل ہوتا یہ ہے کہ مغربی دنیا کی اعلیٰ برینڈ کی مصنوعات متعلقہ کمپنیاں چین سے اپنے مقررہ سٹینڈرڈ کے مطابق بہت بڑی مقدار میں بنواتی ہیں مثال کے طور پر کمپیوٹر، موبائل فونز، کمپیوٹر بیگز، جوتے، ٹیلیویژن، ریفریجریٹرز، ڈیپ فریزر، ایئرکنڈیشنز وغیرہ وغیرہ، لاکھوں کی تعداد میں بنتی ہیں کیونکہ وہاں رامیٹریل اور لیبر سستی ہے، اب مینوفیکچرز کو اگر فرض کر لیں ایک لاکھ کی تعداد کا آرڈر ملتا ہے تو وہ ڈیڑھ لاکھ دانے بنا لیتے ہیں، متعلقہ کمپنی کے ماہرین آکر اپنے آرڈر کے مطابق دانے چن کر الگ کر لیتے ہیں، اس طرح بچ جانے والی مصنوعات آگے کسی بھی گاہک کو سستے داموں لاٹ کے لاٹ فروخت کر لئے جاتے ہیں، ہمارے ہاں بھی ایسی مصنوعات پر یہاں کے مینوفیکچرر اپنی کمپنی کے ٹیگ وغیرہ لگا کر درآمد کر لیتے ہیں اور مارکیٹ کر دیتے ہیں جبکہ اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب مبینہ طور پر بعض مصروف مارکیٹوں کے حریص لوگ وہاں جا کر انہی مصنوعات کے دو، تین بلکہ بعض اوقات چار نمبر کی مصنوعات بنوا کر درآمدکر لیتے ہیں اور پھر ان مارکیٹوں میں دونمبری کی مسابقت کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں کم اور پست معیار کے جنریٹرز اور دیگر بجلی سے چلنے والے ہوم ایپلائنسز کی ان مشہور ”مارکیٹوں” میں بھرمار ہے اور لوگ سستا سمجھ کر دھوکہ کھاتے رہتے ہیں، قتیل شفائی نے اگرچہ کہا تھا کہ
کھلا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیں
نہ ہو بلا سے خریدار آؤ سچ بولیں
مگر ان مارکیٹوں میں کھلے بندوں اور دھڑلے سے جھوٹ بولا جاتا ہے اور اصل کے نام پر نقلی مال گاہک کو پکڑا کر انہیں لوٹا جاتا ہے، مرزا محمود سرحدی نے بھی تو کہا تھا کہ
جھوٹ کہتا ہوں اور بے کھٹکے
کون سچ کہہ کے دار پر لٹکے
اس قطعے کے دوسرے دو مصرعے توجہ کے طالب موجودہ صورتحال کے حوالے سے خاصی اہمیت کے حامل ہیں کہ یہ جو بی آرٹی کو فراہم کی گئی دو یا تین نمبر بسوں کی حالت زار ہے ان کی اصل حقیقت کیا ہے یعنی
کیا کہوں کیسے آسماں سے گرے
اور کیوں کر کھجور میں اٹکے؟
غیرجانبدار تحقیقات جب بھی ہوں گی تو سارا کھچا چھٹا کھل کر سامنے آجائے گا، بس ذرا وقت کا انتظار کیجئے!۔