دنیا کسی کمزور اشارے پہ نہیں ہے

اشارے ہماری روزمرہ زندگی میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی کے آگے تعظیماً جھک جانا۔ سینے پہ ہاتھ رکھ کر اپنے پیار اور وفا کا اظہار کرنا۔ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر سلام عرض کرنا ،کسی کو سیلوٹ مارنا،فتح یا جیت کی خوشی میں نہایت جو شیلے انداز میں مکا یا بازو لہرا دینا، ہتھیلی کا چما لیکرچما یافتہ ہتھیلی پر پھونک مار کر اپنے چاہنے والے کو بھیج دینا ، اپنے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں اور شہادت کی انگلیوں کو ملا کردل نما دائرہ بنانا ۔ کسی کو آنکھیں دکھانا ،اثبات میں سر ہلانا،نفی میں سرہلانا ، ۔ سر پیٹ لینا، منہ پر ہاتھ رکھ لینا،غصہ سے لال پیلا ہوجانا، خوشی سے جھوم اٹھنا، ناک بھوں چڑھا نا،
تجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بے باک ہوجانا مرا
اور ترا دانتوں میں انگلی دبانا یاد ہے
اپنے داہنے یا بائیں ہاتھ کی دو انگلیوں سے انگریزی حروف تہجی میں سے ‘وی’ کے حرف کا نشان بنا کر ‘وکٹری یا فتح و کامرانی’ کی علامت بنانا ،
جنہیں ہم باڈی لینگویج کا نام دیتے ہیں ، یہ جو رقص و سرود کی محفلیں سجتی ہیں ، ان میں باڈی لینگویج ہی کا طربیہ اظہار ہور ہا ہوتا ہے ،ضروری نہیں کہ کسی تک اپنے پیغام پہنچانے کے لئے یا کسی کو کوئی مفید مشورہ یا ہدایت دینے کے لئے استعمال ہونے والے اشارے جسم کے کسی حصہ کو خاص انداز میں جنبش دینے سے وجود پذیر ہوتے ہوں ، کسی زمانے میں چوک میں کھڑا ٹریفک پولیس کا اہلکار اپنے ہاتھ اور بازوں کو مختلف زاویوں اور مختلف انداز سے ہلا کر ٹریفک کے بہاؤ کو جاری و ساری رکھتا تھا، لیکن اب یہ کام کسی چوک یا سڑک کے کنارے لگی کمپیوٹرٹرائزڈ لائٹس کے ذریعہ ٹریفک کے بہاؤ کو کنٹرول میں رکھے ہوئے نظر آتا ہے ، وہ جو سڑکوں کے کنارے آویزاں ٹریفک کنٹرول کے سائن بورڈ ہمیں نظر آتے ہیں وہ بھی تو ٹریفک کو چلتا رکھنے کے اشارے ہی ہیں ، یہ ملکوں ملکوں کے لہراتے جھنڈے ان کے رنگ اور ان پر چھپے نشانات اشارے یا علامات ہی تو ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ یہ دنیا کے کس ملک اور قوم کی نشاندہی کررہے ہیں ، اگر اس تناظر میں ہم مقامی سطح سے عالم گیر سطح تک کے اپنے ماحول پر نظر ڈالیں تو ہمارے سامنے بڑے واضح اور نمایاں انداز میں اشاروں اور علاما ت کی اہمیت کا اندازہ ہوجاتا ہے ، ہم اپنے زمانہ طالب علمی میں سکاؤٹ سے تعلق رکھنے والے بہت سے اشاراتی کوڈز سے آگاہ ہوئے تھے ، اور ہمیں بتایا گیا کہ امن اور جنگ کی صورت حال میں اشاروں سے پیغامات رسانی کتنی اہمیت رکھتی ہے اوراس کے عملی اطلاقات کیا کیا ہیں ، اشارے یا علامات جیسی بھی ہوں اگر ان کے ذریعہ کسی مافی الضمیر کا اظہار کیا جانا مقصود ہوتو ہم اسے بلا تامل اشاروں کی زبان کہہ سکتے ہیں۔ جس کا استعمال خاص خاص مواقع پر کیا جاتا ہے ، اوراس تناظر میں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ آج ستمبر کے مہینے کی 23 تاریخ ہے اور پاکستان سمیت ساری دنیا میں اشاروں کی زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہے ، لیکن یہاں آپ کو یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ اشاروں کی یہ خاس زبان قوت گویائی اور سماعت سے محروم افراد کے لئے تیار کی گئی ہے ، جس میں خصوصی لوگوں کو اس زبان میں تعلیم دی جاتی ہے تاکہ وہ اسے سیکھ کر سننے اور بولنے والوں کے شانہ بشانہ چل کر زندگی گزار سکیں ، اشاروں کی زبان کا دن منانے کی منظوری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 97ممبرز کی حمایت سے 19دسمبر 2017کو دی تھی ، او ر یوں ، تب سے اب تک یہ دن ہر سال ستمبر کی 23تاریخ کو منانے کی گرہ ڈال دی گئی ، کہتے ہیں کہ عقل مند کے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے۔ اشاروں کی زبان سمجھنے اور اس سے استفادہ کرنے کے لئے اس عقل کی ضرورت پڑتی ہے جو ہمارے ہاں قائم اشاروں کی زبان کی تعلیم دینے والے ادارے معذورطلباء کو تربیت دے کر ودیعت کرتے ہیں ، لیکن ایک حوالہ کے مطابق اس بات پر اظہار افسوس کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ہمارے ہاں اشاروں کی زبان سکھانے والوں کا وہ معیار نہیں جو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا گیا ہے ، شائد اس لئے کہ سماعت و قوت گویائی سے محروم معصوم او ربے ضرر افراد اپنے حقوق کے حصول کے لئے آواز اٹھانے سے معذور ہیں ، اور یوں ان کے کمزوریوں کو کیش کرنے والے لوگ ان تک وہ مراعات پہنچنے ہی نہیں دیتے جو اقوام عالم نے سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں سے آج کا دن منا کر ان کے حق میں آواز بلند کرنے کی رسم شروع کردی ہے ،جس طرح ہم راہ و رسم دنیا نبھانے کے لئے مختلف تہوار مناتے ہیں ، آج کے دن بھی ایسا ہی ہورہا ہوگا، لمبی لمبی تقریریں کی جارہی ہونگی ، اور عین ممکن ہے کہ محفل محفل ہونے والی ان تقاریر کو اشاروں کی زبان کے قالب میں ڈھال کر قوت گویائی اور سماعت سے محروم افراد تک پہنچایا بھی جارہا ہو، لیکن سچ بات تو یہ بھی ہے کہ آج کے دن کے حوالہ سے فوٹو سیشن منانے والے ارباب بست و کشاد قوت سماعت اور گویائی سے محروم افراد کو کسی خاطر ہی میں نہیں لاتے ، کہ وہ ہوس اقتدار کی جنگ میں اس قدر محو ہیں کہ ان کا یہ رویہ دیکھ کرکلیجہ منہ کو آکر پکار اٹھتا ہے کہ
یہ بات الگ ہے کسی دھارے پہ نہیںہے
دنیا کسی کمزور اشارے پہ نہیں ہے