یکساں نظام تعلیم

پاکستان میں نظام تعلیم یکساں ہونا چاہیے اس کی وجہ یہ ہے کہ قومی وحدت میں تعلیم کا کردار بڑا اہم ہے۔پاکستان میں مختلف قومیتیں آباد ہیں جن کی زبانیں مختلف ہیں ثقافت کے رنگ بھی جدا گانہ ہیں اور کچھ ہمارے مہربانوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے بھی ان کو ایک دوسرے سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے اور وہ اپنی ان کوششوں میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں ہم نے پاکستان میں پاکستانی قومیت کی بات کرنی ہے جب تک پورے پاکستان کی بات نہیں ہوگی تو بات بنے گی نہیں بلکہ بگڑتی چلی جائے گی۔اس وقت وطن عزیز میں مختلف قسم کے نظام تعلیم کام کر رہے ہیں۔ ایک طرف دینی مدارس ہیں جو قرآن و حدیث کی تعلیم دے رہے ہیں ان کے ہاں ایک بات بالکل واضح ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ملت اسلامیہ کی وحدت کی بات کرتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارا اردو میڈیم سرکاری سکول ہیں ہمارے صوبے میں پہلی جماعت سے انگریزی پڑھانے کی جو بات کی جارہی ہے یہ تبدیلی بڑی خوش آئند ہے۔ ہمارے انگلش میڈیم سکول بھی معاشرے میں اپنا کردار ادا کرہے ہیں یہاں چونکہ بھاری بھرکم فیسوں کے بغیر تعلیم حا صل کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے یہاں پڑھنے والے بچے ان گھرانوں سے آتے ہیں جو ان کے تعلیمی اخراجات برادشت کر سکتے ہیںجب بچوں کے والدین بڑی بڑی فیسیں ادا کرتے ہیں تو وہ اس بات کا خیال بھی رکھتے ہیں کہ ان کے بچوں پر کسی قسم کی سختی نہیں ہونی چاہیے بچوں سے بھی باقاعدہ پوچھا جاتا ہے کہ اساتذہ کا رویہ ان کے ساتھ کیسا ہے۔ انگلش میڈیم سکولوں میں بچوں کو ہر قسم کی سہولت دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس وقت یہ تعلیمی ادارے اس وقت ایک بڑی منفعت صنعت میںتبدیل ہو چکے ہیں اور اگر تعلیم کسی بھی حوالے سے دیجاتی ہے تو بہت بہتر ہے لیکن یہ کتنا اچھا ہوتا کہ خیبر سے لے کر کراچی تک سب سکولوں میں ایک ہی نصاب پڑھایا جاتا ۔ہم نے پہلے بھی لکھا تھا کہ مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے مشاہیر کی زندگی کے حوالے سے مضامین کو نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے ۔ نصاب میں عبدا لرحمٰن بابا ، شاہ عبدالطیف بھٹائی ، بابا بلھے شاہ، عارف سید توکلی شامل کیے جاتے اور یہ نصاب پاکستان کے کونے کونے میں پڑھایا جاتاتو بچے چھوٹی عمر ہی سے ان مشاہیر کے بارے میں آگاہی رکھتے اور انھیں اپنا بزرگ سمجھتے۔ اب پنجاب میں بابا بلھے شاہ اگر نصاب میں شامل ہیں تو خیبر پختوانخواہ میں رحمان بابا۔ دونوں صوبوں کے بچے اپنے علاقے میں جنم لینے والے بزرگوں سے شناسائی تو رکھتے ہیں لیکن پاکستان کے دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے بزرگ ان کے لیے اجنبی ہیں۔یہ ذمہ داری حکومت وقت کی ہے کہ وہ پاکستان میں سب کے لیے ایک ہی نظام تعلیم رائج کرے ایک ہی نصاب ہو ! اس وقت تو ہمارے ہاںایسے سکول و کالج بھی ہیں جہاں انگریزی کی جو کتاب نویں جماعت میں پڑھائی جاتی ہے وہ عام سکولوں کے بچے ایم اے انگلش کرتے وقت پڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ایک طرف کلرک پیدا کیے جارہے ہیں تو دوسری طرف ان پر حکمرانی کرنے والے افسران۔اس وقت وطن عزیز میں جمہوریت کے حق میں بڑے نعرے لگ رہے ہیں اور ہر طرف سے بلند و بانگ دعوے کئے جارہے ہیں۔مشہور زمانہ برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل نے تعلیم کے حوالے سے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی بھی سیاسی نظریہ اس وقت تک ناکافی ہوتا ہے جب تک اس کا اطلاق بچوں عورتوں اور مردوں پر نہ ہو۔ رائے اور سیرت سازی میں تعلیم کی بڑی اہمیت ہے اور اسے تسلیم بھی کیا جاتا ہے! اسی وجہ سے اساتذہ پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے بچوں کو کم و بیش اپنے بڑوں کے زیر سایہ رہنا چاہیے کیونکہ وہ اپنے مفادات کے خود محافظ نہیں بن سکتے ۔ تعلیم میں کسی حد تک اختیا ر بہت ضروری ہے اور جو تعلیم دیتے ہیں انھیں ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو بچوں کی آزادی سے مطابقت رکھتا ہو۔اگر جمہوریت کو زندہ رہنا ہے تو سب سے زیادہ ضروری بات جس پر ایک معلم کو توجہ دینی چاہیے یہ ہے کہ وہ طلبہ میں تحمل و برداشت پیدا کرے ۔ انھیں یہ سکھائے کہ انھوں نے دنیا میں کس طرح رہنا ہے اپنا نکتہ نظر بیان کرنے کے ساتھ ساتھ بڑے تحمل اور صبر و برداشت کے ساتھ دوسروں کا نکتہ نظر نہ صرف سننا ہے بلکہ اسے سمجھنے کی کوشش بھی کرنی ہے۔ آج مملکت پاکستان میں جس چیز کی کمی ہے وہ صبر و تحمل ہے کوئی کسی کی بات سننے کے لیے تیا ر نہیں ہے سب دوسروں کو اپنا ہمنوا بنانا چاہتے ہیںاور اگر انھیں اس میں ناکامی نظر آتی ہے تو وہ تشدد پر اتر آتے ہیں!۔