ادویات کی قیمتوں میں اضافہ

وفاقی کابینہ نے زندگی بچانے والی94ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دیدی تا کہ مارکیٹ میں ان کی دستیابی کو یقینی بنایا جاسکے۔ چینی آٹا اور دیگر اشیاء ومصنوعات کی طرح موجودہ دور حکومت میں ادویات کی قیمتوں میں اضافہ بڑا مسئلہ رہا ہے ایک موقع پر وزیراعظم نے اس کا نوٹس لے کر ادویات کی قیمتوں میں کمی کیلئے ٹھوس اقدامات کی ہدایات کی تھی نیز بھارت سے تجارت پر پابندی کے باوجود حکومت نے بھارت سے ادویات منگوانے کی اجازت دی تھی حکومت کے تمام تر اقدامات کے باجوود ادویات کی مہنگائی اور مارکیٹ سے غائب ہونے کا رجحان رہا، حکومت کے حالیہ اقدام سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے اور یہ اس حکومتی نوٹس کا اعادہ بھی ہے کہ بلاخر اس کا نتیجہ متعلقہ چیز کی قیمتوں میں اضافہ کی صورت میں آتا ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ اس ضمن میں ایک اور ایسی چیز کا اضافہ ہے جسے خریدنے اور نہ خریدنے کے انتخاب کی عوام کے پاس گنجائش نہیں۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کی منظوری کے فیصلے کو ادویات کی قلت سے جوڑنے اور ان کو مہنگا کرنے سے مارکیٹ میں دستیابی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کا اعادہ ہے۔ واضح رہے کہ ڈرگ پالیسی2018کے تحت سالانہ کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق دوا ساز کمپنیاں انتہائی اہم ادویات کی قیمتوں میں7فیصد جبکہ غیر اہم ادویات کی قیمتوں میں10فیصد اضافہ کر سکتی ہیں۔ ابھی حال ہی میں وزارت قومی صحت نے سالانہ کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی)کے مطابق دوا ساز کمپنیوں کو انتہائی اہم ادویات کی قیمتوں میں7فیصد جبکہ غیر اہم ادویات کی قیمتوں میں10فیصد اضافہ کرنے کی اجازت دیدی تھی۔ اب مزید چورانوے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی باقاعدہ اجاز دیدی گئی ہے اس ضمن میں جو تاویل پیش کی گئی ہے وہ ڈرگ پالیسی کے تحت اس لئے نہیں آتی کہ اس پالیسی کے تحت 14 جون2020کو ادویات کی قیمتوں میں دس فیصد اضافہ کی اجات دیدی گئی تھی حالیہ اضافہ ادویات کو مہنگا کر کے ان کی مارکیٹ میں دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے کیا گیا ہے جو وزارت صحت، محکمہ ہائے صحت اور نظامت ہائے صحت اور خاص طور پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور متعلقہ محکموں کی کارکردگی اور ان کے موثر ہونے پر سوالیہ نشان ہے۔ ملک میں بننے والی ادویات پہلے ہی اتنی مہنگی ہیں اور خاص طور پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ادویات کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ایران اور بھارت سے سمگل ہوکر آنے والی ادویات کا نہ صرف ملک میں استعمال عام ہے بلکہ یہ ادویات تھوک وپرچون نرخوں پر باسانی اس طرح دستیاب ہیں گویہ پاکستان میں رجسٹرڈ ادویات ہوں جن کی تجارت واستعمال قانونی طور پر ممنوع نہ ہو۔ ادویات کے مزید مہنگا ہونے سے ممکن ہے کہ ان کی دستیابی میں بہتری آئے لیکن ان کی قیمتیں عوام کی دسترس سے مزید دور ہوجائیں گی اور عوام سمگل شدہ ادویات کے حصول واستعمال کی طرف مزید راغب ہوں گے۔ مہنگے علاج کے متبادل کے طور پر ہی عوام دوسرے طریقہ ہائے علاج کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اتائیوں سے رجوع کی جہاں عوام کی لاعلمی وجہالت ایک وجہ ہے وہاں مہنگے علاج کی استطاعت نہ ہونا بھی ان کے پاس جانے کی ایک وجہ ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ بھی تقریباً پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی طرح ہر فرد کو اگر نہیں تو ہر خاندان کو متاثر کرنے کا باعث ضرور بنتا ہے۔ ادویات مہنگی ہونے سے مریضوں اور ان کے کفیل افراد کی مشکلات میں اضافہ ہونا فطری امر ہے۔ جو پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو ایک مرتبہ پھر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹس لیکر ان کی قیمتوں میں اس طرح سے کمی لانے کیلئے اقدامات کی ہدایت کرنی چاہئے جس کے نتیجے میں ادویات کی صنعت اور کاروبار بہت زیادہ متاثر نہ ہو، ان کا شرح منافع معقول اور جائز حد تک رکھا جائے اور حکومت ادویہ سازی کی صنعت کو مراعات دے، ادویات کی قیمتیں پڑوسی ممالک کے برابر لائی جائیں تو سمگلنگ اور مہنگائی دونوں مسائل سے نمٹا جاسکے گا۔ جو ادویات ساز ادارے مارکیٹ سے غائب کرنے میں ملوث ہوں اور ان کی پیداوار جان بوجھ کر کم کریں ان کیخلاف سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ کے دباؤ میں آکر ادویات کی قیمتوں میںاضافہ کرکے عوام پر مزید بار ڈالا جانا چاہئے۔