جعلی اسناد کا معاملہ

عظیم مادر علمی اسلامیہ کالج یونیورسٹی سے جعلی اسناد کے اجراء میں معدودے چند یا پھر ایک دو افراد ہی ملوث ہوں گے لیکن اس اطلاع کے سامنے آنے سے اسلامیہ کالج جیسے معیاری اور رنیک نام ادارے کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا اس کا ازالہ نہایت مشکل امر ہے۔ آج اسلامیہ کالج سے فارغ التحصیل زندگی کے تقریباً ہر شعبے سے وابستہ قابل ترین افراد کی کمی نہیں اس انکشاف کے بعد تو اب اسلامیہ کالج کے اس دورانئے کے تمام اسناد کو شک کی نظر سے دیکھا جائے گا جس عرصے میں جعلسازی ہوئی ہے، قابل اطمینان امریہ ہے کہ اس امر کا اب انکشاف ہو چکا ہے اور اسلامیہ کالج ہی کے سینئر ترین پروفیسر نے اس معاملے سے چانسلر گورنر شاہ فرمان کو رپورٹ لکھی ہے اور گورنر نے ایف آئی اے کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ تحقیقات کے بعد دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہونے کی ضرور توقع ہے لیکن بعض اوقات بااثر عناصر اور سرپرست بچ جاتے ہیں اور کارندے پھنس جاتے ہیں یا پھر ان کی قربانی دیدی جاتی ہے۔ ایف آئی اے کی ذمہ داری ہے کہ وہ واقعے کی جامع اور تفصلی تحقیقات کرے اور ان تمام ذرائع اور رابطوں تک رسائی حاصل کرے جو طلبہ کو پھانس کر لاتے رہے اور ضامن بنتے رہے، نیز اس امر کی پوری تفصیلی چھان بین ہونی چاہئے کہ یہ فراڈ کس سطح پر اور کن کن عناصر کی ملی بھگت سے اور کتنے عرصے سے جاری تھا۔ یہ اسلامیہ کالج کی ساکھ کا مسئلہ ہے اور ان ہزاروں طالب علموں کے مستقبل اور ان کے اسناد کی ساکھ کا سوال ہے جو میرٹ پر آئے اور پوری محنت کے بعد امتحانات پاس کر گئے۔ اسلامیہ کالج کے سینئر اساتذہ اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس گروپ کے تمام افراد کی نشاندہی میں ایف آئی اے کی مدد کریں اور سارے معاملے کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کر کے اسلامیہ کالج کی ساکھ اور وقار کی بحالی میں اپنا حصہ ڈالیں۔
بیرون ملک کام کرنے والے محنت کشوں کی مشکلات
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مزدوری کرنے والے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افرادکے ویزے دوبارہ ختم ہونے کا امکان صوبے کے سینکڑوں خاندانوں کیلئے سخت آزمائش کا مرحلہ ہے کورونا کی وباء سے متاثر ہونے والے یہ خاندان اور روزگار سے محروم یا معطل ہونے والے افراد پہلے ہی سخت مشکلات سے دوچار ہیں اگر ٹکٹ نہ ملنے کے باعث ان کا روزگار متاثر ہوا تو بڑا نقصان ہوگا۔ یہ درست ہے کہ مسافروں کے مقابلے میں دستیاب پروازوں کی کمی ہے لیکن اس امر سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ پی آئی اے کا عملہ منظور نظر افراد یا پھر ملی بھگت وبدعنوانی سے ٹکٹوں کا اجراء کر رہے ہیں جس کیخلاف مشتعل افراد نے مظاہرہ بھی کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جہاں حکومت کو اضافی پرواز یں چلانے کیلئے سعودی حکومت سے رابطہ کرکے بندوبست کر لینا چاہئے وہاں ترجیحی بنیادوں پر فہرست مرتب کرکے ان افراد کو پہلے ٹکٹ جاری کئے جائیں جن کے پاس ریٹرن ٹکٹ موجود ہیں اور جن کے ویزے کی مدت میں چند دن باقی ہیں، ویزے کی میعاد میں بہتر گھنٹے سے کم مدت رہ جانے پر قوانین کے مطابق یہ مسافر سفر نہیں کر سکتے۔ اس لئے کوشش کی جائے کہ ان مسافر وں کو جلد سے جلد روانہ کیا جاسکے۔ٹکٹوں کے اجراء کے معاملے کی باقاعدہ چھان کی جائے تو بدعنوانی اور ملی بھگت کا راستہ بند ہوگا۔ اسکے انتظام کے باوجود بھی جن لوگوں کے ویزوں کی مدت گزر جائے حکومت متعلقہ سفارتخانوں اور حکومتوں کو ویزے کی مدت میں مزید اضافے کی درخواست کریں تاکہ ویزے کی مدت اختتام اور پروازیں نہ ملنے کے باعث کسی کا روزگار متاثر نہ ہو۔
ایل آر ایچ بندش کے دروازے پر
صوبے کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال لیڈی ریڈنگ میں شعبہ امراض قلب مکمل طورپر بندہونے کا خدشہ ہے جہاں مریضوں اور ان کے لواحقین کیلئے علاج سے محروم رہ جانے کے خدشات کا باعث ہے وہاں یہ حکومت کی ساکھ کا سوال ہے کہ جس ہسپتال کو وہ اولیت دے کر مثالی علاج گاہ بنانے کی سعی میں تھے اس کا نظام اتنا بگڑ چکا ہے کہ اب وہاں سینئر ڈاکٹر خدمات انجام دینے پر آمادہ نہیں اور ہسپتال کا اہم شعبہ بند ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ ہمارے رپورٹر کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران ہسپتال کے انتہائی اہم شعبہ امراض قلب سے متعدد ڈاکٹروں نے استعفے دیئے ہیں جبکہ بعض ڈاکٹرز طویل رخصت پر بھی گئے ہیں۔اس امر کا جائزہ لیا جانا چاہئے کہ آخر ڈاکٹروں سے ہسپتال خالی کیوں ہوتا جارہا ہے اور اس سلسلے کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔ بہتر ہوگا کہ ایسی تبدیلیاں لائی جائیں اور اصلاحات کی جائیں کہ سینئر ڈاکٹرز ہسپتال چھوڑ کر جانے کی بجائے دلجمعی سے کام کریں اور ہسپتال ماہر ڈاکٹروں کیلئے پرکشش جگہ بن جائے۔