حکومت نے جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات بتا دیں

ویب ڈیسک(اسلام آباد): وزیراعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ جان بچانے والی ادویات کے غیر معیاری ہونے اور بلیک مارکیٹ میں فروخت کے تدارک کے لیے قیمتوں میں اضافہ ضروری تھا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ ان ادویات کو استعمال کرنے والوں کی تعداد میں کمی ہو گئی تھی اور ان کی قیمتیں بھی کم تھیں، اس وجہ سے مارکیٹ میں فروخت کرنے والوں کی اس میں دلچسپی نہیں رہی تھی اور ادویات ناپید ہو گئی تھیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایسی مخصوص ادویات کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں جو مارکیٹ میں موجود نہیں تھیں۔ کم قیمتیں ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں لائیو سیونگ ادویات میں کسی کا کمرشل انٹرسٹ نہیں ہے، بلیک میں غیر معیاری ادویات مہنگے داموں پر فروخت ہو رہی تھیں۔ اس لیے قیمتیں بڑھانا ضروری تھا۔

کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پمز جیسے اداروں کو پرانے طریقے سے نہیں چلا سکتے، اس میں اصلاحات لا رہے ہیں، ایک ماڈل اسپتال کو چلانے کے لیے بہت سی سہولیات اور افراد کی ضرورت ہے۔

کمیٹی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں ناپید ادویات کو تھوڑے سے اضافے کی ضرورت تھی۔ حکومت اور ڈریپ کا کام ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانا بھی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم ایک نئی ڈرگ پرائسنگ پالیسی پر کام کر رہے ہیں، ادویات اور قیمتوں کی فہرست ڈریپ کی ویب سائٹ پر لگائی جائے گی۔ صحت کے تمام اداروں میں ریفارمز بھی لا رہے ہیں.