چارسدہ سے تعلق رکھنے والی دو پیدائشی سر جڑے جڑواں بہنیں سرجری کے بعد لندن سے اپنے آبائی گاوں پہنچ گئی

ویب ڈیسک (چارسدہ): چارسدہ سے تعلق رکھنے والی دو پیدائشی سر جڑے جڑواں بہنوں صفا اور مروا کو خالق کائنات نے نئی زندگی دے دی، چارسدہ کے مضافاتی علاقے ڈھیری زردار سے تعلق رکھنے والی صفا اور مر وا پیدائشی طور پر سرجڑے تھے، افسوسناک امر یہ تھا کہ سر جڑے بہنوں کی پیدائش سے ڈیڑھ ماہ قبل ان کے والد دنیا سے رحلت کر گئے تھے، غربت اور لاچاری کی وجہ سے بچیوں کا علاج معالجہ ممکن نہ تھا، اس حوالے سے میڈیا نے سر جڑے بہنوں کے اپریشن کےلئے بھر پور انداز میں آواز اٹھائی اور سر جڑے بچیوں کے آپریشن پر 20 کروڑ روپے کا خرچہ آتا تھا اور لندن میں مقیم پاکستان سے تعلق رکھنے والی بزنس مین مرتضیٰ لاکھانی اور ڈاکٹر اویس جیلانی کواللہ تعالی نے اس کارہائے نمایاں سے ممتاز کیاجس کے بعد گریٹ آرمنڈ سٹریٹ چلڈرن ہسپتال لندن میں سر جڑے بچیوں کے اپریشن کےلئے بھاری بھرکم رقم جمع کر ائی جس میں سے 18 کروڑ روپے مرتضی لاکھانی نے اور دو کروڑ روپے ڈاکٹر اویسی جیلانی نے ڈاکٹروں کے کمیونٹی سے جمع کئے۔
ہسپتال کے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے سرجڑے بہنوں کا سارا میڈیکل ریکارڈ طلب کرکے مشاورت کی جس کے بعد دونوں بچیوں کو 10اگست 2018 کو چارسدہ سے اسلام آباد اور بعد ازاں لندن منتقل کیا گیا، لندن پہنچنے کے بعد پرو فیسر ڈاکٹر ڈوناوے اور سرجن ڈاکٹر اویس جیلانی کی نگرانی میں 20 رکنی میڈیکل ٹیم نے سرجڑے بہنوں صفا اور مر وا کا 50 گھنٹے طویل اپریشن کیا، 50 گھنٹے طویل اپریشن سے پہلے دونوں بچیوں کے متعدد چھوٹے چھوٹے اپریشن بھی کئے گئے، ابتدائی مرحلے میں میڈیکل ٹیم نے بچیوں کے دماغ کے سل علیحدہ کئے اور دماغ کی خالی جگہ پلاسٹک ٹرانسپلانٹ کرکے بچیوں کے سر پر انہی کے جسم کا چمڑا لگایا، سرجڑے بہنوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرنے اور بحالی میں 11 مہینے لگ گئے، بعد ازاں دونوں بچیوں کو پرائیوٹ رہائش گاہ منتقل کیا گیا جہاں بھی چھ ماہ تک صفا اور مر وا ڈاکٹروں کی نگرانی میں رہی، بچیوں کے خاندانی ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں نے اس کے بعد صفا اور مر وا کو پاکستان منتقل کرنے کی ہدایت کی اور دونوں بچیاں صفا اور مر وا لندن سے اسلام آباد پہنچیں جہاں سے اپنے آبائی گاوں ڈھیری زرداد پہنچ گئی تاہم کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر گھر والوں نے بچیوں سے کسی قسم کا انٹرویو کرانے سے معذرت کرلی۔