تعلیم اور بیروزگاری،عجیب بات!

قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں نوکریاں اور ملازمتیں بہت اور کوالیفائیڈ افراد کی کمی ہوتی تھی۔ کراچی میں دارالحکومت کے دفاتر میں بھارت سے ہجرت کر کے آنے والے تعلیم یافتہ اُردو سپیکنگ لوگوں اور پنجاب یونیورسٹی کے فارغ التحصیل افراد کی کثرت ہوتی تھی، اندرون سندھ، صوبہ سرحد اور بلوچستان کی نمائندگی شرح تعلیم کم ہونے کے سبب برائے نام ہوتی تھی، صوبہ سرحد اور بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں زیادہ تر اساتذہ بھی پنجاب اورکراچی سے آتے تھے اور 1960ء کے عشرے میں پاکستان اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی منزل کی طرف بڑھنے لگا تو تعلیمی اداروں کی تعداد اور سماجی وشعوری بیداری کی لہر کے سبب شرح تعلیم میں بتدریج اضافہ ہوا اور ہر صوبہ خود کفالت کی طرف بڑھنے لگا۔لیکن اس دوران پاکستان کی آبادی میں ایسا بے ہنگم اضافہ ہونے لگا کہ حکومت وسائل اور مسائل کے درمیان تناسب بری طرح متاثر ہوا، اس کیساتھ ایک اور المیہ جو سامنے آیا وہ یہ تھا کہ وطن عزیز میں شرح تعلیم میں اضافہ پر زور دیا جانے لگا جس کے نتیجے میں میٹرک سے ایم اے تک کے تعلیم یافتہ کھیپ کی کھیپ تیار ہوئی لیکن حکومتی سطح پر اس بات کا تردد بہت کم دیکھنے میں آیا کہ ایک منظم مردم شماری کے نتیجے میں حکومت اور ملک کے مختلف شعبوں کیلئے ضروری اور درکار افراد کی فہرست سازی ہوتی اور تعلیمی اداروں سے اُن تقاضوں اور ضرورت کے مطابق افراد سازی ہوتی۔یورپ،جاپان اور چین وکوریا وملائیشیاء جیسے ملکوں نے اپنی ملکی ضروریات کے مطابق نصاب ہائے تعلیم مرتب کرواکر ایسے افراد تیار کر والئے جنہوں نے فارغ التحصیل ہونے کے فوراً بعد ملکی تعمیر وترقی میں اپنا حصہ ڈالنا شروع کیا اور یوں بیک وقت بامقصد نظام تعلیم کے ذریعے ترقی کیساتھ ساتھ بیروزگاری کی شرح بھی قابو میں رہی بلکہ اپنی بہترین صنعتی نظام وڈھانچے کے ذریعے روزگار کی اتنی بہتات ہوئی کہ پاکستان اور تیسری دنیا کے ہنرمند اور باصلاحیت افراد دھڑا دھڑ ان ملکوں میں بہترین روزگار حاصل کرنے کیلئے ہجرت کر گئے۔جس سے پاکستان جیسے ملکوں میں برین ڈرینج کے سبب باصلاحیت افراد کی کمی محسوس ہونے لگی، ہمارے ہاں1980ء کے عشرے کے بعد تعلیمی نظام میں جو خامیاں پیدا ہوئیں اُن میں ایک بڑی خامی یہ تھی کہ تعلیم کے نام پر کاغذ کی ڈگریاں تقسیم ہونے لگیں۔ ملکی سیاست اور نظام حکومت اور عدل وانصاف کے فقدان کے سبب قابلیت وصلاحیت (میرٹ) کی بنیاد پر ڈگری حاصل کرنے والے اور دو نمبری کے ذریعے ڈگریاں حاصل کرنے والے ایک ہی صف میں شمار ہوئے اور عملی زندگی میں دو نمبری والے مضبوط سماجی ومعاشرتی وخاندانی پس منظر اور سفارش ورشوت کے طفیل میرٹ کو پائمال کرتے ہوئے ملک عزیز میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے اوریوں ترقی کا پہیہ اگر اُلٹا نہیں گھوما تو رکا ضرور۔ آج سندھ اور بلوچستان میں علمی وتعلیمی صلاحیت کا جو حال ہے وہ اہل نظر کے سامنے ہے اور ان میں سے ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کی ڈگری کے حوالے سے ملفوظ تو ضرب المثل بن چکا ہے کہ”ڈگری ڈگری ہوتی ہے”۔ پاکستان میں انجینئرنگ کے اداروں اور جامعات سے فارغ التحصیل ہونے والے ہزاروں انجینئرسول،میکینکل،الیکٹریکل اور دیگر شعبوں کی ڈگریاں تھامے بیروزگار پھر رہے ہیں اور پرائمری سکول میںPTCکی پوسٹ پر کام کرنے کیلئے درخواستیں دیئے ہوئے ہیں اور بعض کام کر رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دیگر مضامین بالخصوص آرٹس اور سوشل سائنسز کے مضامین میں ایم اے کرنے والوں کا کیا حال ہوگا۔ پرائیویٹ نظام تعلیم میں بعض اچھے ادارے ہونے کے باوجود زیادہ تر ادارے تعلیم کے نام پر تجارت کر رہے ہیں، میڈیکل کی تعلیم تو خالص تجارت بن چکی ہے۔ پختونخوا میں بعض میڈیکل کالجز ایسے ہیں جن کے مالکان میڈیکل کالج کی پشت پر سے کبھی نہیں گزرے ہیں لیکن اس وقت کامیابی کیساتھ وطن عزیز کو ڈاکٹرز فراہم کر رہے ہیں۔ حکومت کے ذمہ داروں بالخصوص وزارت تعلیم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ وطن عزیز میں تعلیم،تعلیمی اداروں اور فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کے بارے میں تھینک ٹنکس کے ذریعے مطالعہ وتحقیق کروا کر ان مسائل کا حل ڈھونڈ یں۔سردست نظام تعلیم میں جن باتوں کی اشد ضرورت ہے وہ اخلاقیات اور ٹیکنیکل تعلیم یعنی ہنرمندی کی تعلیم کی شمولیت ہے۔ورنہ ہمارانظام تعلیم یوں ہی بیروزگاروں کی فوج ظفرموج پیدا کرتا رہیگا اور باصلاحیت وہنرمند افراد کے فقدان کے سبب معاشرہ وملک یونہی پسماندہ اور جدید حرکیات وترقی سے دور رہے گا۔