قسطوں میں ولیمہ

کالم کا آغاز کرنا ہمیشہ سے ہی میرے لئے ایک مسئلہ رہا ہے کیونکہ بعض اوقات ہوتا یہ ہے کہ جس موضوع پر لکھنا ہو اس کے کئی پہلو ہوتے ہیں تو بڑی دیر تو اس سوچ میں گزر جاتی ہے کہ آغاز کہاں سے کیا جائے۔ آج بھی ایسی ہی صورتحال درپیش ہے بہر حال ابتداء تو کرنی ہی ہے جو بہرطور ہو بھی چکی ہے سو اب موضوع کے مختلف زاویوں کو کسی نہ کسی طور یکجا کرنے کی کوشش کریں گے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں تو اب تقاریب پر پابندیوں کا سلسلہ بھی اگرچہ موقوف ہوچکا ہے تاہم کوئی بھی تقریب منعقد کرنے والوں کیلئے ہر ملک کے اندر مقامی حالات کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں،یہ الگ بات ہے کہ کہاں ان ہدایات پر کس حد تک عمل کیا جارہا ہے، خصوصاً شادی بیاہ کی تقاریب کیلئے جو ایس او پیز جاری کی گئی ہیں ان کی کم از کم ہمارے ہاں بعض خبروں کے مطابق دھجیاں بکھیری جارہی ہیںتاہم بعض ممالک میں ایسا نہیں ہے اور اس بات کا علم مجھے یوں ہوا کہ میرے ایک بہت ہی عزیز دوست جو کوئٹہ میں مقیم ہیں اور جن سے تعلق خاطر اپنی ملازمت کے دوران ریڈیو پاکستان کوئٹہ70ء کی دہائی کے اواخر سے قائم ہے دراصل میرے اس دوست ارشاد رضا کا بھی ریڈیو کوئٹہ سے تعلق یوں بنتا ہے کہ اس دور میں وہ ایک بہت ہی مقبول پروگرام بولان ہٹ پریڈ کو اپنی خوبصورت آواز سے سجایا کرتے تھے جو دور دور تک سنا جاتا تھا، یوں گویا وہ آج کے حساب سے اس دور کے ڈی جے ہوا کرتے تھے، اب تو یہ نہ صرف ملازمت (واپڈا)بلکہ ریڈیو پروگر اموں سے بھی ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں ،ان کے چھوٹے بھائی خالد رضا بھی پاکستان ائیر فورس میں ایک اہم عہدے پر ملازمت کرکے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور ان دنوں اپنے خاندان کیساتھ اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں،چند روز پہلے خالد رضا نے واٹس ایپ پر اپنے برخوردار کی شادی کا کارڈ کینیڈا سے بھیجا اور ساتھ ہی فرمائش کی کہ اس موقع کیلئے میں دولہا دلہن کیلئے بطور نیک خواہشات چند الفاظ کا تحفہ بھج دوں، اس دوران میں نے نہ صرف تین اشعار کہہ کر اپنے برخوردار منصور مشتاق کے ذریعے کمپیوٹر پر ڈیزائن کرواکر کینیڈا واٹس ایپ کردیا بلکہ ارشاد رضا کو بھی کوئٹہ بھیج دیا کیونکہ وہ صاحب فراش ہونے کی وجہ سے خالد رضا کی خواہش کے باوجود کینیڈانہیں جاسکے۔تاہم موضوع زیر بحث کی اصل صورتحال سے یوں آگاہی ہوئی کہ میرے اشعار ملتے ہی خالد رضا نے جس خوشی کا اظہارکیا وہ تو خیر ہے ہی جبکہ ارشاد رضا نے کوئٹہ سے فون کر کے بتایا کہ جب خالد اور اس کی اہلیہ کینیڈا پہنچے تو باوجود پاکستان میں اختیار کی گئی تمام احتیاطی تدابیر اور میڈیکل سرٹیفکیٹ کے حصول کے انہیں وہاں سیلف کوارنٹائن سے گزرنے کی ہدایات جاری کی گئیں اور انہیں پندرہ روزتک اپنے برخوردار کے گھر پر سیلف آئسولیشن میں رہنا پڑا،اور گزشتہ روز یہ مدت پوری ہونے کے بعد ہی انہوں نے اپنے برخوردار کی شادی کی تقاریب کا ایک میلادالنبیۖ کے بابرکت پروگرام سے آغاز کیا جبکہ جس ہوٹل میں بارات اور ولیمہ کا اہتمام کیا گیا ہے وہاں سے انتہائی سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ مہمانوں کی تعداد انتہائی مختصر ہونی چاہئے بصورت دیگر تقریبات منعقد کرنے کا اجازت نامہ منسوخ کردیا جائے گا۔ اس صورتحال میں ایک پاکستانی کو دیارغیر میں کیا مشکلات پیش آسکتی ہیں اس صورتحال پر غلام بھیک نیرنگ کا شعر یاد آنا تو فطری امر ہے کہ
جائے ماندن ہمیں حاصل ہے نہ پائے رفتن
کچھ مصیبت سی مصیبت ہے خداخیر کرے
اس صورتحال سے نبردآزما ہونے کا اہتمام یوں کیا گیا (کہ آخر کو ہم پاکستانی ہی تو ہیں اور ایسے نایاب نسخے ہم ہی سوچ سکتے ہیں) ارشاد رضا نے اپنے چھوٹے بھائی کو یہ نادر نسخہ سمجھا یا کہ وہ متعلقہ پولیس کی کارروائی سے بچنے کیلئے مہمانوں کو دویاتین گروپوں میں بانٹ کر ہرگروپ کو دو دو گھنٹے کے وقفے سے دعوت پر بلائیں’یوں ایس اوپیز پر کینیڈا کی حکومت کی ہدایات پر عمل بھی ہو جائے گا اور تمام ضروری مہمان بھی نمٹ جائیں گے۔ یعنی بقول حسن نثار
شہر آسیب میں آنکھیں ہی نہیں ہیں کافی
اُلٹا لٹکو گے تو پھر سیدھا دکھائی دے گا
ویسے یہ پرچہ ترکیب استعمال ان ممالک میں تو چل سکتا ہے کہ آپ قانون کا احترام بھی کریں اور اپنا مقصد بھی حاصل کرلیں،تاہم اگریہ طریقہ ہمارے ہاں کوئی استعمال کرنا چاہے تو قطعاً ناممکن ہے کہ یوں”قسطوں میں شادی”یعنی ولیمہ منعقد کیا جاسکے،اس لئے کہ دنیا کے دیگر حصوں میں لوگ نہ صرف قانون کی پابندی کرتے ہیں بلکہ وقت کی قدر وقیمت وہاں کے لوگوں سے کوئی سیکھے،اور نہ صرف تقاریب میں وقت کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے اور مہمانوں کو جو بھی وقت دیاجاتا ہے اس سے ایک لمحہ ادھر نہ ادھر،تقریب میں شرکت کرتے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں تو وقت مقررہ پر خود دولہا، دلہن تو ایک طرف شادی والے گھرانے کے میزبان بزرگ بھی مہمانوں کے بعد پہنچتے ہیں، اس لئے اپنے اپنے وقت کی پابندی کون کرے گا۔اس لئے یہاں ولیمے قسطوں میں تقسیم کرنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔بقول فیض احمد فیض
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لادوانہ تھے