ناکامیوں کی ڈائمنڈ جوبلی

اقوام متحدہ اپنے قیام کے پچہتر سال مکمل ہونے پر امسال اپنی ڈائمنڈ جوبلی منارہی ہے۔ پچہتر برس کی تکمیل کا یہ جشن اس بار نیویارک میں اقوام متحدہ کے ایوانوں میں منعقد ہونا تھا مگر کورونا نے اس رنگ میں بھنگ ڈال دی اور چار وناچار اقوام متحدہ کو اپنا پچہترواں اجلاس وڈیو لنکس کے ذریعے جاری رکھنا پڑا۔ عالمی راہنما وڈیولنکس کے ذریعے اپنے اپنے دفتروں میں بیٹھ کر خطاب کرتے ہیں۔ اکثر نے تو پہلے سے ریکارڈ کئے ہوئے خطاب جاری کرنے پر اکتفا کیا۔ یوں بھی اگر یہ خطاب اقوام متحدہ کے ایوانوں میں بھی ہوتے تو انسانوں کی حالت زار بدلنا تھی نہ ان کی بدبختی کو خوش بختی میں بدلنا تھا۔ ان کے عتاب کم ہونا تھے نہ عذاب رخصت ہونا تھے۔ چوہتر برس سے یہ ادارہ ڈیبیٹنگ کلب بنا ہوا ہے جس میں عالمی لیڈر ہر سال جمع ہوکر خوشنما اور خوش کن تقریریں کرتے ہیں، واہ واہ ہوتی ہے، قراردادیں پاس ہوتی ہیں، اعلامئے جاری ہوتے ہیں، لنچ اور ڈنر کے دور چلتے ہیں، فوٹو سیشن ہوتے ہیں مگر دنیا ویسی کی ویسی ہی رہتی ہے یہاں تک اگلے اجلاس کے دن آجاتے ہیں۔ یوں دنیا کو بدلے بغیر ایک گردش ہے جو جاری ہے۔ اقوام متحدہ کا سب سے بڑا کارنامہ اور سب سے بڑی کامیابی اگر کچھ ہے تو وہ صرف اپنا وجود برقرار رکھنا ہے۔ باقی سب چھوٹی موٹی کامیابیاں بھی اسی بڑی کامیابی سے جڑی ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ اپنے وجود کی جوازیت کیلئے کچھ سماجی اور کچھ فوجی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، دوسری عالمی جنگ کی راکھ سے جنم لینے والا یہ ادارہ اگر تیسری عالمی جنگ کے چیلنج کا سامنا نہ کرپایا تو اس میں ادارے سے زیادہ ان تباہ کن ہتھیاروں کا دخل ہے جو ڈیٹرنس کا کام دے گئے۔ سوویت یونین اور امریکہ یا مغربی بلاک کے درمیان اگر جنگ نہ ہوئی تو اس کی وجہ امن کی محبت نہیں بلکہ دونوں طرف سے طاقت کا توازن اور ہلاکت خیز ہتھیاروں کی موجودگی ہے۔ جاپان پر ایٹم بم گرائے گئے تو وہ ایک عام فوجی طاقت تھا۔ اگر جاپان کے پاس بھی ایٹم بم ہوتا تو شاید اس حملے کی نوبت ہی نہ آتی۔ اس بار پہلی دفعہ لوگ اقوام متحدہ کے کردار سے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دیکھے گئے اور خود اقوام متحدہ کے ذمہ دار بھی تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظر سے ناخوش دکھائی دئیے۔ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اقوام متحدہ کے وجود کیلئے سوال کھڑے کرتی جاری ہے۔ یہ سرد جنگ کسی مرحلے پر گرم تصادم میں بدلی تو اقوام متحدہ کا وجود تو شاید برقرار رہے مگر ممکن ہے کہ یہ حالات ایک متوازی عالمی ادارے کو جنم دینے کا باعث بنیں۔ چین کے صدر سے ترکی کے وزیراعظم اور پاکستان کے وزیرخارجہ سے فرانس کے وزیراعظم تک سب اقوام متحدہ کی تعریف کرنے کیساتھ اگر مگر کیساتھ اس کے کردار اور ناکامیوں پر بات کرگئے حتیٰ کہ نریندر مودی نے بھی اپنی مستقبل نمائندگی کا رونا رو کر اقوام متحدہ کے ڈھانچے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ دنیا کے اُلجھے ہوئے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے میں اقوام متحدہ کا کردار بری طرح ناکام ہوا ہے۔ صرف ان سیاسی مقدمات اور مسائل کے حل میں اس ادارے نے کچھ دلچسپی دکھا کر کامیابی حاصل کی ہے جہاں اس کے سب سے بڑے فنانسر امریکہ کا مفاد تھا۔ اقوام متحدہ نے اپنے مقاصد کیلئے اقوام متحدہ سے قراردادیں منظور کروا کر عمل درآمد کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔ جہاں خالص انصاف کا معاملہ تھا اقوام متحدہ وہاں گونگا بہرہ ادارہ بن کر رہا۔ یہ احساس تاریخ کے ہر دور میں موجود رہا اور اقوام متحدہ کی اس پالیسی کو ہر دور ہدف تنقید بنایا جاتا رہا۔ اس کے متبادل بھی دنیا کے پاس کوئی اور نظام نہیں تھا اسی لئے دنیا چار وناچار اسی سسٹم کیساتھ وابستہ رہی۔ اقوام متحدہ کے پچہترویں اجلاس سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی خطاب کیا ہے۔ انہوں نے جہاں اس ادارے کی کچھ کامیابیوں کا ذکر کیا وہیں اس کے ناکامی کا تذکرہ بھی نہیں بھولے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل اقوام متحدہ کی ناکامی کے مظاہر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل اور اقوام متحدہ کی عمر ایک ہی ہے۔ یوں یہ مسائل اقوام متحدہ کے جنم کیساتھ ہی چلتے آرہے ہیں مگر پچہتر برس میں اقوام متحدہ نے ان دیرینہ مسائل کے بارے میں تقریری مقابلے کرانے اور زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ مسائل آغاز میں اگر پھوڑے پھنسیاں تھے اور اب پیچیدہ ہو کر ناسور بن چکے ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ خلیج کو عدم استحکام کا شکار بنائے ہوئے ہے تو کشمیر کا مسئلہ پورے ایشیا کے امن واستحکام کے اوپر تلوار کی طرح لٹک رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کیساتھ اسرائیل اور بھارت اپنے ان مقبوضہ علاقوں کی پیچیدگی کو بڑھا رہے ہیں اور یوں امن کی منزل دور سے دور تر ہوتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے سلور جوبلی بھی منائی گولڈن جوبلی بھی اور اب بات ڈائمنڈ جوبلی تک پہنچ گئی مگر اس کے ہم عمر مسائل نہ صرف اپنی جگہ موجود ہیں بلکہ مزید لاینحل ہو کر رہ گئے ہیں۔ حالات یونہی جاری رہے تو جوبلیاں منائی جاتی رہیں گی مگر اس قالین تلے مسائل ایک ٹائم بم کی طرح خطرہ بنے موجود رہیں گے۔