گرمی، گھڑمس اور مہنگائی

سیاست کے میدان میں گرمی اور گھڑمس دونوں ہیں، الزامات وضاحتیں اور بہت کچھ اور بھی ہے لیکن پہلے اس پر بات کر لیتے ہیں کہ اس ساری گھڑمس کے دوران وفاقی کابینہ نے 90سے زائد ادویات کی قیمتیں بڑھانے کی منظوری دیدی۔ ادویات کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران حکومت نے دوسری بار اضافے کی اجازت دی، کیا حکومت عوام کی دم توڑتی قوت خرید اور پھر کورونا کے دوران بڑھی بیرزگاری کیساتھ دوسرے مسائل سے آگاہ نہیں؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق وزیرصحت عامرکیانی کے دور وزارت میں 15فیصد اجازت پر 60سے 150 فیصد قیمتوں میں اضافہ کا معاملہ ابھی جوں کا توں ہے، عوام کی کھال اُتارنے والے سرمایہ داروں کے تو سب دوست، مربی، معاون ومددگار ہیں اور عوام کا صرف خدا۔ تنقید برائے تنقید ہرگز نہیں بلکہ کڑوا سچ یہ ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کی حالیہ منظوری ظالمانہ فیصلہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان ماضی میں سوئی گیس، بجلی، ادویات اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے جو کہا کرتے تھے کسی دن اگر وقت نکال کر اپنے ہی اُن ارشادات کو سن لیں تو یہ عوام کے حق میں بہتر ہوگا۔ حکومت ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے حالیہ فیصلے کو فوری طور پر واپس لے بلکہ اس کیساتھ ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں لگ بھگ 15سے 21 روپے فی لیٹر بھی کمی کرے، بجا ہے کہ اس کمی سے حکومتی ٹیکس آمدنی میں کمی ہوگی لیکن یہ بھی دیکھا جانا چاہئے کہ مہنگائی سے بدحال ونڈھال شہریوں کو ریلیف نہ دیا گیا تو اس سے سنگین مسائل پیدا ہوں گے۔ ثانیاً یہ کہ کیا وزیراعظم اس امر سے آگاہ ہیں کہ جب وہ اقتدار میں آئے تھے تو چینی 55روپے اور آٹا 40روپے کلو تھا، اب چینی 105روپے کلو اور آٹا 70 سے75روپے کلو فروخت ہوتا ہے (یہ نرخ بڑے شہروں کے ہیں) دور دراز کے علاقوں میں صورتحال زیادہ خراب ہے۔ ثانیاً یہ کہ ابھی تک اس 6لاکھ ٹن گندم بارے بھی کوئی حقیقت واضع نہیں ہوئی جس کے غائب ہو جانے پر خود وفاقی وزیر جناب سید فخر امام نے حیرانی کا اظہار کیا تھا۔
ہمارے سیاستدانوں اور انتخاب کردہ شخصیات کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اقتدار میں آکر عوام الناس سے دور ہوجاتے ہیں، براہ راست معلومات میں کمی اور دفتری بابوؤں کی رپورٹوں پر نظام چلانے سے ان کے اور عوام کے درمیان دوریاں بڑھتی رہتی ہیں۔ ہمارے ہمزاد فقیر راحموں کہتے ہیں وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ اپنی جماعت کے ابتدائی زمانہ کے کارکنان کی چاروں صوبوں میں خصوصی کمیٹیاں بنائیں اور ان کیلئے ہفتہ وار رابطہ کا دن مقرر کر کے ان سے مہنگائی، غربت، لاقانونیت، بیروزگاری اور دوسرے مسائل کے حوالے سے معلومات حاصل کر کے دفتری بابوؤں کی رپورٹوں سے ان کا تقابل کر کے دیکھ لیں، انہیں پتہ چل جائے گا کہ عوام کس حال میں جی رہے ہیں۔ یہ حقیقت گلی محلہ کا عام کارکن ہی وزیراعظم کو بتا سکتا ہے کہ بجلی اور گیس کے بل عام صارف پر ماہوار عذاب کی صورت ہیں۔ سیاسی کارکن ہی انہیں بتا سکتے ہیں کہ پچھلے چھ ماہ (یہ کم ازکم عرصہ ہے) کے دوران مہنگائی میں 180فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، اپنے کارکنوں کے ذریعے وہ معلوم کروا لیں کہ کورونا لاک ڈاؤن سے قبل قیمتیں کس سطح پر تھیں اور اب کس سطح پر ہیں۔ اندریں حالات دست بدست درخواست یہی ہے کہ عوام الناس خصوصاً سفید پوش اور نچلے طبقات کی زندگیوں میں درآرئی مشکلات کے ازالے کیلئے حکومت فوری طور پر اقدامات کرے۔
سیاست کے میدان میں گرمی اور گھڑمس کے حوالے سے ابتدائی سطور میں جو اشارے دئیے تھے ان پر بھی بات کرلیتے ہیں، مسلم لیگ(ن) کا خیال ہے کہ نوازشریف کے ایلچی کی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ہوئی ملاقاتوں کی خبر ایک سازش کے تحت لیک کی گئی۔ کچھ حلقے ایک بریفنگ یا ملاقات کی خبر کو بھی سازش قرار دے رہے ہیں۔ یہاں بطور اخبار نویس دو باتیں ان صاحبان کی خدمت میں عرض کرنا ضروری ہیں، اولاً یہ کہ خبر فقط خبر ہوتی ہے، نوازشریف کے ایلچی نے ملاقاتیں کیں اور یہ پہلا موقع نہیں تھا بلکہ اس سے قبل جب نواز شریف لاہور کے ہسپتال میں داخل تھے تو مریم نواز کے سمدھی سمیت دو مزید افراد ذمہ دار شخصیات سے ملاقاتیں کرتے رہے، یہی ملاقاتیں ریلیف کا ذریعہ تھیں۔ سوال یہ نہیں کہ ملاقات ہونی چاہئے یا نہیں سوال یہ ہے کہ جس اسٹیبلشمنٹ پر اپوزیشن سیاسی معاملات میں مداخلت کے الزامات لگاتی ہے اس سے ملاقات یا ملاقاتیں کیا خود سیاسی عمل کی توہین نہیں؟ جہاں تک بریفنگ والی کہانی کے کوبہ کو پھیلنے کا تعلق ہے تو کیا اپوزیشن رہنماؤں کا فرض نہیں تھا کہ وہ تشریف لیجانے کی بجائے تشریف لانے کی دعوت دیتے اور پارلیمان کے کمیٹی روم میں ساری باتیں ہوتیں، عشائیہ قومی اسمبلی کے سپیکر کی طرف سے ہوجاتا؟ اب یہ کہنا کہ ہمارے خلاف سازش ہورہی ہے، عجیب سی بات ہے یعنی سیاستدانوں کی حماقتوں اور غیرجمہوری رویوں کا بھی آسمانی کلام سمجھ کر دفاع کرنا ہوگا۔ واہ سبحان اللہ سیاستدانوں کو ٹھنڈے دل سے سوچنا ہوگا کہ اگر حکومت، نیب اور اسٹیبلشمنٹ گٹھ جوڑ بارے اس کا مؤقف درست ہے تو اس مؤقف کی بنیاد پر پارلیمان کے اندر اور باہر جدوجہد کریں، عوام کو اعتماد میں لیں، آخری بات یہ ہے کہ بدترین مہنگائی اور دوسرے مسائل پر بھی سیاستدان بات کریں کس نے روکا ہے؟۔