سینیٹر روبینہ خالد اور صوبائی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات گوہر انقلابی کی پریس کانفرنس

ویب ڈیسک (پشاور): پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر روبینہ خالد اور صوبائی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات گوہر انقلابی کی پریس کانفرنس۔ روبینہ خالد نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ملک میں انارکی پھیلائی جارہی ہے۔ حکومتی زمہ دار اپنے بیانات سے ملکی سلامتی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اپوزیشن کی تمام جماعتیں پی ایم سی بل کو مسترد کر چکی ہیں۔ ملک کے ہر شعبے کو تباہی کی جانب لے جایا جارہا ہے۔ حکومت نے پی آئی اے کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ نوشیروان برکی کی ایما پر صوبے کے لوگوں کی صحت سے کھلواڑ جاری ہے۔ اس قانون کے بعد پی ایم ڈی سی کا سلسلہ ختم کیا گیا ہے۔
روبینہ خالد نے مذید کہا کہ امتحانات کا طریقہ کار اور معیار ایسا کردیا ہے کہ اب صرف امیر کا بچہ تعلیم حاصل کرسکے گا۔ مہنگائی نے تباہی مچا رکھی ہے, بجلی بل خون چوس رہے ہیں۔ گیس کی لوڈشیڈنگ سردیوں سے قبل شروع کردی گئی۔ وفاقی کابینہ نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس مہنگائی کے ماحول میں 94 ادویات کی قیمتوں میں 200 سے 250 فیصد اضافہ شرمناک ہے۔ عوام کو سسک سسک کے مرنے کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ آن لائن کلاسز کے حوالے سے تحفظات پر احتجاج کرنے والے طلبا کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی جاتی ہیں۔ ظلم انتہا سے بڑھتا جارہا ہے۔ حکومت پی ایم سی بل سے رہی سہی کثر پوری کررہی ہے۔ احتجاج سب کا حق ہے, حکومت روک نہیں سکتی۔

صوبائی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات گوہر انقلابی نے کہا کہ مہنگائی نے عام آدمی کو بوجھ تلے دبا دیا ہے ہم نے پہلے بھی کہا تھا کے بی آر ٹی حکومت کے لیے کرپشن کا سفید ہاتھی ہے۔ بی آر ٹی اس وقت بند ہے, انکی نااہلی کی وجہ سے۔ آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ نے بی آر ٹی کا پردہ فاش کردیا۔ بسوں کی بیٹریز انتہائی مہنگی ہیں, انکا خیال نہیں رکھا گیا۔ 24 ارب روپے بی آر ٹی میں گھپلہ ہے۔ 1 ارب روپے سے زائد کی بیٹریز ضائع ہوچکی ہیں۔ چینی سکینڈل والوں کو کب ملک واپس لایا جائیگا۔ اپوزیشن ان حالات کے خلاف اب سڑکوں پر ہوگی, عوام کا سمندر ساتھ ہوگا۔
گوہر انقلابی نے مذید کہا کہ سپریم کورٹ کیا پی ٹی آئی کی کرپشن کا بچانا چاہتا ہے۔ بی آر ٹی انکوائری پر سٹے کیوں دے رکھا ہے سپریم کورٹ۔ خیبر پختونخوا کے درجن بھر اربوں روپوں کے کرپشن کے سکینڈل ہیں۔ ان سکینڈلز پر تحریک انصاف کیوں خاموش ہے, اس لیے کہ اس میں انکے اپنے لوگ ملوث ہیں۔