زندگی کیا ہے سفر کی بات ہے

ہمیں سندباد جہازی کے ایڈ ونچرز اور گلیور ٹریولز کے وہ چشم کشا کردار آج بھی یاد ہیں ، ہم حاتم طائی کے ملکوں ملکوں، جنگلوں بیابانوں اور جادونگریوں میں گھومنے اور بھوتوں چڑیلوں کا مقابلہ کرکے بدرالبدور شہزادیوں کے سوالوں کے جواب تلاش کرنے کیلئے نکلنے اوران سوالوں کے جوابات تلاش کرکے شہزادی یا بادشاہ تک پہنچا دینے کا وہ منظرنامہ کبھی نہیں بھول سکتے جو ہم قصے کہانیوں کی کتابوں میں پڑھا کرتے تھے یا اپنی دادی اور نانی اماں سے سنا کرتے تھے ، طلسم ہوشربا اور الف لیلوی داستانوں کے تسلسل میں لکھی، پڑھی اور سنائی جانے والی کہانیاں تھیں جن پر مبنی کتابیں کتب خانوں کی طاق پر پڑی اپنے قارئین کے انتظار میں اب بھی موجود زبان حال سے اپنی اہمیت اُجاگر کر رہی ہیں ، آج کل عادت مطالعہ میں نمایاں کمی کے سبب ان کتابوں کو پڑھنے یا ان سے استفادہ کرنے والے نہیں رہے لیکن سمعی اور بصری ادب کی انقلاب آفرینی کے اس دور میں ان داستانوں پر مبنی متعدد ڈرامے فلمیں اور کارٹون دیکھنے اور سننے والے بچوں ، جوانوں اور بوڑھوں کا دل بہلا رہے ہیں اور اس تجسس میں بھرپور اضافہ کررہے ہیں جس کے نتیجے میںدیگر شعبہ ہائے زندگی میں نگر نگر کی سیر وسیاحت کے شعبہ کی اہمیت نے اپنا آپ منوالیا ہے ، اگر حق اور انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ بات تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ کل تک دور دیشوں کی سیر و سیاحت کی داستانیں ہم تک الف لیلوی کہانیوں کی صورت میں پہنچتی تھیں ، تو آج ان کا ایک روپ ملکوں ملکوں کی سیر پر مبنی سفر ناموں کے روپ میں پہنچ رہی ہیں ، جو سیر و سیاحت کے شوق کو جلا بخشنے کا باعث بن رہی ہیں ،
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہیں
سفر وسیلہ ظفر ہے ، یہ بات ان لوگوں نے کہی ہے جو حرکت کو برکت کا باعث سمجھتے ہیں ، اور یہ بات ہے بھی سو فی صد حقیقت کہ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اپنے ارد گرد پھیلے رنگ و نور کے حسیں نظاروں سے لطف اندوز ہونا بے حد ضروری ہے ، سیر وسیاحت سے لطف اندوز ہونے کے شوق نے سیاحت کو ایک منافع بخش صنعت کا درجہ دیدیا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال ایک ارب کے قریب افراد عالمی طور پر سیاحت کیلئے گھروں سے نکلتے ہیں جبکہ اندرون ملک سیاحت کرنے والوں کی تعداد ان سے کئی گنا زیادہ ہے ، سیاحت پر مزید بات کرنے سے پہلے ہم یہ بات آپ پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ستمبر کے مہینے کی 27 تاریخ ہے اور آج پاکستان سمیت ساری دنیا میں سیاحت کا عالمی دن منایا جارہا ، عالمی سطح پر سیر و سیاحت کے حوالہ سے یہ دن منانے کا آغاز 1980میں کیا گیا ، جو تادم تحریر نہ صرف جاری و ساری ہے ، اور اس اہمیت میں اس ہی تیز رفتاری سے اضافہ ہورہا ہے جس تیز رفتاری سے ہمارے ہاں ہی نہیں دنیا بھر میں سیاحت کے شوقین لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ، یو ں لگتا ہے کہ اس دنیا میں آنکھ کھولنے والا ہر نومولود اپنے ارد گرد کے ماحول کو جاننے کے علاوہ تحیر کدہ عالم کی سیر کرنے یا اس کو دیکھنے کاشوق لیکر پیدا ہوتا ہے اور اس کا یہ شوق اس کی بڑھتی عمر کیساتھ جوان ہوتا رہتا ہے اور ایک دن وہ بھی آتا ہے جب اسے اس بات کا ادراک ہوجاتا ہے کہ کسی مقام پر ایک ہی جگہ کھڑا رہنے والا پانی جوہڑ کہلا نے لگتا ہے جبکہ اپنی منزل کی تلاش میں آگے ہی آگے بڑھنے والا پانی ندیوں ، نالوں نہروں اور دریاؤں کے پر منظر روپ میں ڈھل جاتا ہے اور اپنے ارد گرد کے نظاروں میں نکھار یا حسن پیدا کرنے کا باعث بن جاتا ہے زندگی سے صحیح معنوں میں لطف اندوز ہونے والے لوگ ایک جگہ رکے رہنے کی بجائے دنیا کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہونے کیلئے موقع پاتے ہی محو سفر ہوجاتے ہیں ، اور ان کے اس شوق سیاحت کے پیش نظر ملکوں ملکوں سیر وسیاحت سے وابستہ ادارے ہمہ وقت موجود رہتے ہیں جو چشم ما روشن دل ماشاد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے شایان شان استقبال کیلئے اس مقام کو زیادہ سے زیادہ پر کشش بنانے کی کوشش میں مگن نظر آتے ہیں جو دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے قابل دید سمجھے جاتے ہیں، سیاحت سے وابستہ ادارے سیر بینوں یا سیاحت کا ذوق لطیف رکھنے والوں کیلئے ٹریولنگ گائڈز شائع کرتے ہیں یا سمعی و بصری مواد کے علاوہ دیگر سہولیات مہیا کرتے ہیں، اس سلسلہ میں ٹریولنگ ایجنسیاں اپنے حصہ کا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے اس کاروبار میں شریک سفر رہتی ہیں ، لیکن سچ تو یہ ہے کہ دنیا کے دیگر پر فضا مقامات کی طرح ہمارے پیارے ملک پاکستان میں ایسے مقامات کی کوئی کمی نہیں جہاں ملک اور بیرون ملک کے کونے کونے سے ناموافق موسموں اور نامہربان ماحول سے جان کی پناہ پاکر پہنچنے والوں کا ایک جم غفیر امڈ آتا ہے اور یہاں پہنچ کر انہیں سندباد ایڈونچرز ، اور گلیور ٹریولز ، یا کوہ قاف کی کہانیوں کے کردار بھول جاتے ہیں ، ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ زندگی از خود تحیر کدہ عالم کاسفر ہے ،اور کسی کی بات کہ ” سفر کا مزہ لینا ہو تو سامان کم رکھیں اور اگر زندگی کا مزہ لینا ہو تو ارمان کم رکھیں ، ہم شب بھر قیام کیلئے آئے ہیں ، جہاں سے ہم نے جلد یا بدیر چلا جانا ہے ،
آئے ٹھہرے اور روانہ ہوگئے
زندگی کیا ہے سفر کی بات ہے