حکمران اور عوام ایک ہی راستے پر گامزن

ہمارا معاشرہ اس وقت کس طرف جارہا ہے یہ ایک بہت بڑا سوال ہے جو ہمارے سامنے دھرا پڑا ہے۔ ہم میں سے اکثریت اس دکھ میں مبتلاء ہے اور اس پر اعتراضات اُٹھاتا رہتا ہے لیکن ہر ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار سمجھتا ہے، کوئی نہ اپنی ذمہ داری محسوس کرتا ہے نہ پوری کرنے کیلئے تیار ہے۔اگر انہیں یہ احساس دلایا جائے تو اسے قبول کرنے کی بجائے اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے لگ جاتا ہے۔ اگر ہم معاشرتی بے راہروی سے بات شروع کریں تو اس کے بہت سے ذمہ دار سامنے آتے ہیں۔ حکومت سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف ہونے کی وجہ سے اس طرف کوئی بھی دھیان دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیںکرتی چاہے جس سیاسی جماعت کی حکومت ہو اس کے خیال میں اس کا کام صرف حکومت کرنا ہے اور کسی بات کی وہ ذمہ دار نہیں۔ وہ معاشرے کے بناؤ یا بگاڑ کاخود کو ذمہ دار سمجھتے ہی نہیں۔ اس کے محکمے تو قائم ہیں کہ وہ مختلف کام کریں اور ان میں چند ایسے بھی ہیں جو براہ راست معاشرے کی تعمیر کے ذمہ دار ہیںلیکن ایسا کچھ ہو نہیں رہا۔ محکمہ تعلیم کو ہی لیجئے اس کا کام گراس روٹ لیول پر معاشرے کی تعمیر کرنا ہے، لوگوں میں شعور پیدا کرنا ہے، برے بھلے کی تمیز سکھانا ہے، ملک کابامقصد اور باشعور شہری بنانا ہے لیکن ہو کیا رہا ہے کہ بچے کتابوں کے بے تحاشا بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اُستاد بس یہ کتابیںپڑھا رہاہے سیکھنے سکھانے تک نوبت ہی نہیں پہنچ رہی کیونکہ مقدار معیار پر غالب آرہی ہے، مقدار کے تقاضے پورے کرتے کرتے معیار پر کوئی توجہ ہی نہیںدی جاسکتی۔ یہی حال ہماری وزارت ثقافت کا ہے جو ثقافت کے نام پر معلوم نہیں کس کی ثقافت کو فروغ دے رہی ہے حالانکہ یہ وہ میدان ہے جو معاشروں کی بنیاد بنتا ہے۔ہم اپنے لوگوں کو ڈر امہ اور فلم کے نام پر جو بیہودگی دکھارہے ہیں وہ ہرگز کسی اچھے معاشرے کی بنیاد نہیں بن سکتا ہم نہ تو لباس کے معاملے کو سنجیدہ لے رہے ہیںنہ حرکات کے۔اگر ہمارا میڈیا اپنے چلن درست کرلے تو ہم معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں لیکن یہاں اگر فلم ہے تو اپنی روایات سے بغاوت دکھا کر کہہ دیا جاتا ہے کہ ہم نے بولڈ موضوع کو لیا ہے یا ہم نے روایت سے ہٹ کر کام کیا ہے یہ نہیں سوچا جاتا کہ اس طرح سے ان خیالات کو ہم ان دماغوں تک پہنچا رہے ہیںجنہوںنے کبھی اس مو ضوع یا حرکت کوسوچا بھی نہیں تھا لیکن ہوتا یہ ہے کہ انہیں گلمرائز کر دیاجاتا ہے اور ایک وبا کی طرح معاشرے میں پھیلادیا جاتا ہے۔ یہ حال تو بالائی سطح پر اقدامات کا ہے لیکن نچلی سطح پر بھی ہم میں وہ تمام برائیاں موجود ہیں جو کسی معاشرے کے زوال کا سبب بنتی ہیں۔ یہاں اگر عام آدمی ہے تو وہ شدید عدم برداشت کا شکار ہے جس کے مناظر آپ کو سڑکوں اور بازاروں میں نظر آتے ہیں۔ ہم صرف اپنے آپ کو ہی اچھا مسلمان سمجھتے ہیں اور ہر دوسرے پر کفر کا فتویٰ لگانا اپنی مسلمانی کی دلیل سمجھتے ہیں اوریوں ہم اقوام عالم میں اس مقام تک نہیں پہنچ پارہے جہاں ہمیں تہتر سالوں میں ہونا چاہئے تھا۔ ہم اپوزیشن میں ہوکر جو بلند بانگ دعوے کرتے ہیں وہ حکومت میں جاتے ہی ناقابل عمل منصوبے بن جاتے ہیں، اسی طرح ایک عام آدمی جو کام دوسروں کو کرنے کی تلقین کرتا ہے وہ اس کام کو کرنااپنی توہین سمجھتاہے۔ ہمارا عام آدمی نوکری نہ ہونے کا گلہ اور شکایت ضرور کرتا ہے لیکن جب اسے نوکری مل جاتی ہے تو وہ کام کرنے کی بجائے آخری تاریخوں اورتنخواہ وصول کرنے کا انتظار شروع کر دیتا ہے۔ آپ کسی کاریگر کو گھرلائیے اور پھر دیکھئے کہ وہ کام کتنا کرتا ہے اور معاوضے کیلئے تقاضا کتنا کرتا ہے۔ مجھے خود ذاتی طور پر گھر کی تعمیر کے دوران اس بات کا تجربہ ہوا کہ مختلف کاریگر کس طرح آپ کے کام کو طول دیتے جاتے ہیںاور کام کے معیاری ہونے یا نہ ہونے کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور بیچارا مالک مکان اس کے سامنے مکمل طور پر مجبور ہوتا ہے۔ ہمارے مبلغین اور علماء معاشرے کے اس پہلو کی طرف بھی توجہ دیتے اور عبادات کیساتھ معاملات کو سدھارنے کی بھی تلقین کرتے تو شاید معاشرے میں بہتری کے کچھ آثار پیداہوتے لیکن دکھ اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب ہاتھ میں پکڑی ہوئی تسبیح کے دانے پھیرتے ہوئے معاملات میں دو نمبری کی جاتی ہے۔میری ارباب اختیار سے، اصحاب علم سے، مبلغین سے اور علماء سے یہ درخواست ہے کہ وہ معاشرے کے اس پہلوکی طرف توجہ دیں۔عام آدمی کو معاملات میں ایمانداری کی اہمیت سمجھائیںان میںقوت برداشت پیدا کرنے کی کوشش کریں انہیں بتائیں کہ معاوضہ وہی حلال ہے جو محنت کے بدلے وصول کیا جائے جب حلال اور حرام میں تمیز سیکھ لی جائے گی تو خود بخود غلط اور صحیح کا فرق بھی سمجھ آجائیگا اور یوں ایک بہتر معاشرے کی بنیاد پڑتی جائے گی۔ ابھی تک ہم نے تعلیم و تربیت کو صرف سکولوں کالجوں تک محدود سمجھا ہوا ہے بلکہ وہاں بھی تربیت پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن اب ہمارے پاس معاشرے کے اس اہم ترین پہلو کو مزید نظرانداز کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ورنہ نہ ہم جرائم پر قابو پا سکیںگے نہ بے راہروی پر اور نہ ہی معاملات میں بے ایمانی پر لہٰذا اب ہمیں اس پہلو پر جنگی بنیادوں پرکام کرنا ہوگا حکومتی سطح پر بھی اور عوامی سطح پر بھی۔