خدارا!کچھ تو کیجئے

کب سوچا تھا کہ یہ ملک ایسا ہو جائے گا کب سوچاتھا کہ باہر نکلتے ہوئے دل کو خوف گرفت میں لے گا کہ کون جانے کب کسی درندے کا جھپٹ پڑنے کو جی چاہے اور وہ دانت نکوستا کسی بھی کونے سے نکل کر سامنے آجائے اور پھر کوئی فرار کی راہ بھی نہ ملے اور کسی مسیحا کی بھی کوئی امید نہ ہو۔وہ بھی لوگ اسی ملک میں ہونگے جو کبھی انجان ہوتے ہوئے بھی،سر پر ہاتھ رکھ دیا کرتے تھے اب بجائے ایسا کرنے کے درندوں کے منہ میں چھوڑ کر اپنی بہنوں کو،اپنی جان بچاکر نکل جائینگے کون جانتا تھا کہ اس ملک میں ہمارے بچے بھی محفوظ نہ ہونگے۔مائیں بچوں کو اپنی آنکھ سے اوجھل ہونے دینے سے گھبرائیں گی کہ کون جانے کب کوئی سایہ ان پر جھپٹ پڑے اور انہیں بھنبھوڑ کر کسی کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دے یا آگ لگا دے۔وہ لوگ جو اس ملک کی طرف ہجرت کر کے آئے تھے،جنہوں نے اپنے جان ومال کی قربانی دی تھی وہ لوگ تو ظلم ہی سے بچنا چاہتے تھے۔وہ راجیش کی گرفت سے بھاگے تھے،انہیں کرتارسنگھ کی کرپان کا خوف تھاانہیں بھی اسی خطرے سے نجات درکار تھی کہ ان کے اپنے ہی گھر کی دیواریں انکی بے بسی سے گھٹی ہوئی چیخوں کی تاریخ اپنے سینے میں نہ سمیٹ لیں انہیں بھی اسی بے بسی سے نجات چاہیئے تھے کہ کسی بد بخت کے ظلم کے سامنے کوئی معصوم عورت بلبلاتی،واسطے دیتی بھسم نہ ہوجائے اور ظلم تلے دبی آوازوں کی سیکوں اور کُرلاہٹ کی وحشت درودیوار پر آسیب کی مانند نہ چڑھ بیٹھے۔لیکن وہ جو جنت کی تلاش میں قربانیوں کے بیتے خون سے لت پت ہوئے یہاں پہنچے تھے وہ اس ملک میں آکر یا خود ظا لم بن بیٹھے یا ان کے دامن انکے آنچل،ظلم کی اس آگ سے پناہ نہ پاسکے۔اور یہ ملک جس کے نام کے معنی کبھی کوئی پاک استھان یعنی پاک جگہ بتایا کرتا تھا وہ آواز ہی اسی گلے میں دبادی گئی۔اب یہ ملک کسی نظریے کے تحت بنایا ملک نہیں رہا۔اب اس میں پاکی اور پلیدی سب آپس میں مل گئی ہے ۔اب اس ملک میں پناہ دینے کی سکت باقی نہیں رہی۔اب یہاں صبح نہیں ہوتی۔کھیتوں کھلیانوں میں خوشی کانور نہیں پھیلتا،کوئی سنہرا سویرا نہیں ابھرتا،کیونکہ اس کی رات بہت بھیانک بہت طاقتور ہو چکی ہے ہرروز اس کی رات کا آسیب کسی ننھی معصوم جان کو کسی مجبور کو کسی بے بس کو چاٹ جاتا ہے اور صبح کی روشنی میں اس کا بے جان جسم اپنے نو کیلے پنچوں والے ہاتھ سے صبح کے دامن میں لڑھکا دیتا ہے اب کوئی نوحہ لکھنے کو جی ہی نہیں چاہتا۔اب دل وارث شاہ کو زور سے آواز دینے سے بھی ڈرتا ہے کہ کہیں کسی نے سُن لیا تو کوئی درندہ میرے گھر کی دیوارنہ پھاندلے۔اس ملک نے سب کے بچوں کو سانجھا سمجھنے والے معاشرے کوپروان چڑھانا تھا۔اس نے درندوں کے دانت نوکیلے کیسے کر دیئے۔یہ ملک کسی بد صورت ،بد ہیت،بد زبان افسر کے چہرے کی بے حس اور رعونت کو بھی نوچ لینے کی طاقت نہیں رکھتا جو ظلم کا شکار ہو جانے والی بے بس ماں پر تہمت باندھتا ہے۔اس ملک میں انصاف کہیں بھی نہیں ہاں بس باتیں ہی باتیں ہیں ۔شرمناک باتیں،دل افسوس اور غم بھر دینے والی باتیںاور دعوے جو خودعفریت بن جاتے ہیں،حوالے کھوکھلے ہیں کہ ان سے گزرتی ہوا کی آواز بین بن جاتی ہے۔کون کیا کہے گا اور اسمیں کیا سچائی کی کوئی رمق کبھی ہوگی۔اب تو یہ سوچنے کی بھی خواہش نہیں۔
کون یاد کرے تقسیم کے وقت شہداء کی لاشوں سے بھری ،خون روتی ہوئی ٹرینوں کو جو اپنے چاک سینوں کے ساتھ اس ملک تک اسکے جاں نثاروں کے بے جان جسم لاتی رہیں۔اب تو ہم روز اپنی گلیوں کے خاموش کونوں سے اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں اورانہیں ہمارے ساتھ رہتے ،ہم جیسے نظر آتے درندے بھنبوڑ دیتے ہیں اب ان عورتوں کا کیا ذکر کریں جنہوں نے عزتیں بچانے کے لئے کنوئوں میں چھلانگ لگادی اس ملک میں تو اب کنوئیں کھدوانے کا وقت ہے کہ جب کوئی پاس سے منہ موڑ کر نکل جائے تو عورتیں اپنی عزتیں بچانے کو کنوئوں میں کود سکیں ورنہ ان کے بچے ان کے شوہر انکی پامالی کے منظر اپنی آنکھوں سے کبھی دھونہ سکیں گے۔ہم نے ہمیشہ ہر بات میں کسی اور کی سازش دیکھی۔ہم نے کسی غلطی کو کبھی اپنی خطاء نہ مانا لیکن اب کیا اب کون کہے گا کہ عابد ملہی اور شفقت بھارت کے سدھائے ہوئے تھے۔کون کہے گا کہ زینب کا قاتل،امریکہ سے تنخواہ پاتا تھا۔کوئی مجھے بتائے کہ کراچی میں پانچ سالہ معصوم کو اسرائیل نے دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔کتنے نام لکھنے اور بتانے کی ضرورت ہے۔اس ملک میں تو نہ کوئی بچی محفوظ رہی ہے نہ بچہ،نہ کوئی عورت محفوظ ہے اور نہ کوئی بے زبان،ہر ایک کمزور کی عصمت اس لئے محفوظ ہے کیونکہ کسی درندے کو اس کا خیال نہیں آیا اور اب کوئی کسی کو مدد کے لئے نہیں پکارتا کیونکہ کون جانے جو مدد کے لئے آئیں ان کی نظر میں کیسی ہوس ہو۔یہ کس کی غلطی ہے کس حکومت پر کس نظم پر اس کا الزام دھریں گے۔ہم اس ملک کی دولت لوٹنے والوں کو سزا ئیں دینے کی بات کرتے تھے اب اگر بچیوں اور بچوں پر ظلم کرنے والوں کی سزائوں کی اپیلیں کریں تو بیت المقدس کی دیوارگریہ چھوٹی لگے۔اتنے تو اسرائیل میں اندھے دلدل نہ تھے جتنے اس ملک میں درندے ہیں ہر ایک کونے ہر ایک نکڑ پراپنے چہروں پر نقاب ڈالے بیٹھے ہیں خدارا انہیں مارڈالیں انہیں دفن کرآئیں جیسے عرب میں لوگ کیا کرتے تھے اور پھر کنویں کھدوائیں کہ یہ مائیں ان میں کود کر جان دے دیں کم از کم یہ درندگی کی اذیت تو نہ کاٹیں گی ۔خدارا کچھ تو کیجئے ۔