شہباز شریف کی مصالحتی سیاست کی دکان بند

اے پی سی کے بعد یہ بات طے تھی کہ سیاسی ہنگامہ تو بڑھنا ہی ہے لیکن سیاست کی سمت اورشدت میں جو سرپرائز ملے ہیں اور جو ملاقات در ملاقات کے راز و نیاز ڈرائنگ رومز سے نکل کر میڈیا کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں پھیل چکے ہیں، ایسا شاید کسی کے گمان میں نہیں تھا۔
آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ گذشتہ ہفتے کے حالات و واقعات کے بعد تمام فریقوں کی صف بندی کس سمت کو ہے اور اے پی سی کے بعد کون کہاں کھڑا ہے؟
یہ بات تو طے ہے کہ اے پی سی سے سب سے زیادہ سیاسی فائدہ خان صاحب کی حکومت کو ہوا ہے۔ نواز شریف کی تقریر کے بعد وزیراعظم کے لیے پریشانیوں میں کمی ہی آئی ہے جس کا اندازہ ان کا سکون اور اطمینان دیکھ کر ہوتا ہے۔ اگر کسی کے ذہن میں رتی برابر بھی شائبہ تھا تو وہ اب دور ہو جانا چاہیے کیونکہ یہ واضح ہوگیا ہے کہ فیصلہ ساز حلقوں کے پاس خان صاحب کے علاوہ اور کوئی چوائس نہیں ہے۔
طاقتور حلیف کے کھل کر سامنے آنے کے بعد وزیراعظم کے لیے اردو محاورے کے مطابق راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔
پی ٹی آئی کی حکمت عملی فی الحال یہ ہے کہ اپوزیشن نے جن کو للکارا ہے وہ خود ہی ان سے نمٹیں۔ حکومت میں سوائے شیخ رشید کے کسی نے جواب دینے کی خاص زحمت بھی نہیں کی اور شیخ صاحب کو بھی ملاقاتوں کے راز افشا کرنے کی یہ ذمہ داری کم از کم خان صاحب نے نہیں سونپی ہے۔
اب آجاتے ہیں دوسرے فریق یعنی اسٹیبلشمنٹ کے ردعمل پر۔ چونکہ نواز شریف کی طرف سے الزام نما طعنہ سیاست میں مداخلت کا تھا اس لیے اس کے جواب میں ملاقاتوں کے راز افشا ہوئے اور محمد زبیر بیٹھے بٹھائے مشہور ہو گئے۔ لیکن راز صرف یک طرفہ نہیں ہوا کرتے۔ اس لیے جب عبدالغفور حیدری کی طرف سے جواب باالجواب آیا تو راز کھلنے کو بریک لگ گئی۔
اسٹیبلشمنٹ کو قلیل مدتی بیانیے کی سبقت تو ملی ہے مگر لفظی جنگ کے نتیجہ میں تمام رابطے فی الحال منقطع ہوگئے ہیں۔ یہ نظام کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ عمران خان پہلے ہی رابطوں اور گنجائش کے مخالف ہیں اب اگر تمام سٹیک ہولڈرز میں مکمل بریک ڈان ہو گیا تو اس سے فیصلہ سازی اور سیاسی ماحول میں بہتری نہیں ابتری ہی آئے گی۔
کہانی کی تیسری فریق ن لیگ بلکہ نواز شریف نے جب سے کھل کر طبل جنگ بجا کر ایک طرح سے سیاسی واپسی کی ہے، تب سے شہباز شریف کی مصالحت کی سیاست کی دوکان بند ہونے کا انتظام ہوا چاہتا ہے۔ ایک طرف نیب سے کوئی ریلیف نہیں اور دوسری طرف بڑے بھائی کے جارحانہ بیانیے کی حمایت کے علاوہ چھوٹے بھائی کے پاس کوئی چارہ نظر نہیںآتا۔
صحافیوں کے ساتھ بیٹھک میں جب شہباز شریف سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ نواز شریف کی تقریر کے متن سے آگاہ تھے، تو شہباز صاحب کا جواب سے پہلو تہی کر جانا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ نوازشریف تقریر میں کیا کہنے جا رہے ہیں۔
مریم نواز کے جارحانہ بیانیے کے موقف کو محمد زبیر کی ملاقاتوں کی خبر کے بعد کچھ دھچکا تو لگا ہے مگر وہ آگے عوامی محاذ پر فرنٹ فٹ پر ہی کھیلیں گی۔ مریم نواز کے لیے ویک لنک یا کمزور کڑی ان کی پارلیمانی پارٹی ہے۔ محتاط اور مصالحتی سیاست کرنے والے انکلز بیان بازی سے آگے نہیں بڑھیں گے۔ اس لیے ن لیگ کے پاس بھی چوائس محدود ہے۔
پیپلز پارٹی فی الحال اپنی حد تک صرف گلگت بلتستان کے حوالے سے اس ایک ملاقات پر لب کشائی کرکے باقی کارروائی ایک طرف سائیڈ پر کھڑے ہو کر خاموشی سے دیکھ رہی ہے۔ اے پی سی کا فوری رد عمل رابطوں کی معطلی ہے جو بذات خود حالات میں تنائو پیدا کرے گا۔
ان حالات کو معمول پر لانے کی زیادہ ذمہ داری حکومت اور ذمہ دار حلقوں کی ہی ہے کہ کم ازکم ملکی مفاد کے فیصلے اتفاق رائے سے ہوں۔ اس کے اثرات پارلیمانی کارروائی پر بھی ہوں جو پہلے ہی تعطل کا شکار رہتی ہے۔ فی الحال تو سیاسی مطلع ابر آلود ہے۔ اپوزیشن کے فرنٹ فٹ پر کھیلنے کے جواب میں گرفتاریوں اور کریک ڈان کی بھی شنید ہے۔ پھر اس کے بعد، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا!۔