مودی کے بُت پر بلقیس بانو کی کنکریاں

وزیر اعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں جس طرح نریندر مودی اور ان کے بھارت کی عمومی ذہنیت متعصبانہ سوچ اور حکمت عملی کے بخئے ادھیڑ کر رکھ دیے تھے اس سے توقع یہی تھی کہ وہ جواب میں پاکستان اور چین کا تذکرہ ضرور کریں گے ۔کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے کی گردان دہرائیں گے اور دہشت گردی کا منترا پڑھ کر دنیا کو رام کرنے کی کوشش کریں گے۔لیکن مودی کی تقریر نے ان سب کی امیدوں پر اوس ڈال دی ۔مودی نے اقوام متحدہ کے اس عالمی ادارے سے سب سے پھُسپُھسا خطاب کیا ۔حد تو یہ کہ خود بھارت کے ذرائع ابلاغ نے بھی اپنے چھپن انچ چوڑا سینہ رکھنے والے وزیر اعظم کی تقریر کو چنداں اہمیت نہیں دی۔مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کے ایک ارب تیس کروڑ لوگ اقوام متحدہ میںاصلاحات کے مکمل ہونے کے انتظار میں ہیں۔آج بھارت کے لوگ تشویش میں مبتلا ہیں کہ آیا یہ عمل تکمیل کو پہنچے گا بھی یا نہیں؟آخر کب تک بھارت کو فیصلہ سازی سے الگ رکھا جائے گا۔
عمران خان نے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے دعوے دار اور خواہش مند بھارت کو دنیا کا بدترین متعصب ،نسل پرست ،اقلیتوں کے لئے غیر محفوظ اور اقوام متحدہ کے فیصلوں کو روندنے والا ثابت کیا تھا ۔بھارت کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ عمران خان اپنے روایتی کھلے ڈلے انداز میں مودی کی سیاست اور مودی کے ہندوستان کے بخئے ادھیڑ کررکھ دیں گے اسی لئے عمران خان کی تقریر شروع ہوتے ہی بھارتی نمائندہ اجلاس سے واک آئوٹ کر گیا اور تقریر کے جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے بھارتی نمائندے کا یہ کہنا تھا کہ کل آپ نے ایک ایسے شخص کو سنا جس نے پارلیمنٹ میں اسامہ بن لادن کو شہید کہا۔عمران خان کے خلاف چارج شیٹ پیش کرنے کے لئے بھارت کے پاس یہی ایک نکتہ باقی رہ گیا تھا جبکہ عمران خان نے جس تفصیل سے بھارت کی سوچ وفکر اور اس کے نئے اُبھرتے ہوئے خدوخال کو دنیا کے سامنے بیان کرکے مودی اور بھارت کے سارے نقاب نوچ ڈالے ہیں ۔جس کے بعد مودی کے پاس اپنی صفائی میں پیش کرنے کو کچھ بھی باقی نہیں تھا اس لئے نریندر مودی نے تقریر کے نام پر آئیں بائیں شائیں سے کام چلایا۔یہ کمزور تقریر مودی کے لاجواب ہوجانے کا ثبوت ہے اور اس سے بھارت میں عمومی طور پر مایوسی پھیل گئی ہے ۔اقوام متحدہ کوئی کُشتی کا اکھاڑا یا میدان جنگ نہیں ہوتا جہاں زور بازو آزمایا جائے ۔حریف کو چاروں شانے چت کیا جائے اور تیر وتفنگ کو آزمایاجائے ۔یہ سال میں ایک بار منعقد ہونے والا عالمی اجتماع ہوتا ہے جس میں زوربازو کی بجائے زور ِکلام دیکھا جاتا ہے ۔یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس عالمی لیڈر نے اپنا اور اپنی قوم وملک کا مقدمہ کس انداز میں لڑا ۔کرہ ٔ ارض کو درپیش چیلنجز پر کس بصیرت اور خیالات کا مظاہرہ کیا ۔حقیقت میں یہ عالمی راہنمائوں کا تقریری مقابلہ ہی ہوتا ہے جس میں لیڈر شپ کا ویژن تلاش کیا جاتا ہے ۔مودی عالمی فورم پر یہ مقابلہ ہار گیا ہے ۔اس لئے مودی کے پاس اپنے حق میں دلیل کے طور پر پیش کرنے کو باقی نہیں رہا ۔کشمیر میں مودی جو کھیل کھیل رہا ہے اس پر تمام دنیا کے ذرائع ابلاغ مسلسل رپورٹنگ کر رہے ہیں ۔خود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس پر بند کمرہ اجلاسوں میں بات کر چکی ہے ۔بھارتی مسلمانوں کے ساتھ ہونے والا بھی عالمی ذرائع ابلاغ کا موضوع رہ چکا ہے ۔شہریت قانون کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں خواتین کے دھرنے میں متحرک بیاسی سالہ خاتون بلقیس بانو المعروف” شاہین باغ کی دادی” اور ” دبنگ دادی ”کو امریکہ کے شہرہ آفاق میگزین ”ٹائم” کی طرف سے مودی کے پہلو بہ پہلو دنیا کی سو بااثر شخصیات میں شامل کرنا مودی کی جمہوریت اور سیکولرازم کے دعوئوں کا بین الاقوامی استرداد ہے۔میگزین نے مودی کو دنیا کی بااثر شخصیاست میں شامل تو کیا مگر تصویر کے لفظی خاکے اور تبصرے میں سارا مزہ خراب کر دیا۔ میگزین نے ایک جملے میں ہی ان کی سیاست کا بیڑہ غرق کیا کہ ”مودی بھارت کے وزیر اعظم ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ وہ صرف ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کے وزیر اعظم ہیں” یوں مودی کے مقابلے میں مزاحمت اور جرات کی علامت کے طور پر بھارت کی ایک ضعیف العمر اور کمزور مسلمان خاتون کا انتخاب اس کے ٹارزن ہونے کی قلعی کھول دیتا ہے۔ ایسا بھی ہوسکتا تھا کہ مودی کے مقابلے میں مزاحمت کی علامت کے طور پر اسد الدین اویسی یا کسی طالب علم راہنما سمیت کسی اورمسلمان سیاسی شخصیت کا انتخاب کیا جاتا جس نے شہریت کے ترمیمی بل کے خلاف مہم میں مرکزی کردار ادا کیا تھا مگر چھپن انچ چوڑے سینے کے مقابلے میں دھان پان سی خاتون کو مزاحمت کی علامت بنانا ٹارزن کے مجسمے اور امیج کے بت کوکرچی کرچی کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے ۔عمران خان نے مودی کی شخصیت اور سوچ وفکر کے بارے میں جو کچھ کہا ٹائم میگزین کے اس ایک جملے میں اس کاخلاصہ موجود ہے کہ یوں لگتا ہے مودی صرف ایک مذہب کے ماننے والوں کے وزیر اعظم ہیں۔ عالمی ایوان میں ان شواہد اور حقائق کو جھٹلانے کی بجائے مودی نے خاموشی کا ہی راستہ اختیا رکرنے میں ہی عافیت جان لی۔