کورونا وائرس اور تبلیغی جماعت پر الزامات

بلیغی جماعت اور تبلیغ کے خلاف کورونا وائرس کے حوالے سے منظم طریقے پر مسلسل پروپیگنڈا کیا جاتا رہا۔چنانچہ پنجاب حکومت نے رائیونڈ میں تبلیغی مرکز کو بند کرنے کے علاوہ صوبے بھر میں تبلیغی مراکز کو بند کردیا جس کا اثر ملک بھر کی مساجد پر ہوا اور انہیں بھی تبلیغ کے کام کیلئے تو بند کیا ہی گیا تھا لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت بھی نہیں تھی ان کارروائیوں کے نتیجے میں پورے ملک میں تبلیغی مراکز میں تبلیغی سرگرمیاں معطل کردی گئیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ تبلیغی جماعت کے اکابرین نے تبلیغی جماعت کے خلاف ہونے والے اس بے بنیاد اور بے ہودہ پروپیگنڈا کے جواب میں ایک لفظ تک نہیں کہا اس صورتحال میں بعض جگہ پر خود حق شناس لوگوں نے ٹی وی چینلز پر حق بات کہی بھارت کے ایک ٹی وی چینل پر تبلیغی جماعت کے خلاف کورونا وائرس کے پروپیگنڈا کے سلسلے میں ایک مذاکرہ کے ہندو مبصر نے تبلیغی جماعت کووائرس پھیلانے کا ذمہ ٹھہرانے والوں سے سوال کیا کہ اگر ہندو ہستان میں کورونا وائرس تبلیغی جماعت پاکستان سے لائی ہے تو ایران میں کورونا وائرس کون لے گیا ہے کیونکہ تبلیغی جماعتوں کا ایران میں داخلہ بند ہے۔
بھارت کی ہندو نواز حکومت کے پاس یہ جواز تھا کہ اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تبلیغی جماعت کے خلاف بغیر ثبوت اور بلا دلیل اقدامات کرنے کا سلسلہ جاری ہے تو ہندوہستان کی حکومت کو بھی ایسا کرنے سے کون روک سکتا ہے دنیا بھر میں یہودی اور غیر مسلم معتصبانہ میڈیا نے رائیونڈ اور تبلیغی جماعت کے خلاف بھر پور پروپیگنڈا کیا حالانکہ یہ پروپیگنڈا کرنے والے بدقسمت افراد کے پاس اپنے دعوے کے ثبوت میں کوئی سائنسی اور اعقلی دلیل موجودنہیں تھی مگر پھر بھی وہ لوگ تبلیغی جماعت کو مسلسل کئی ماہ تک اس پروپیگنڈا اور نفرت کا نشانہ بناتے رہے اب اللہ تبارک و تعالی کے بہت بڑے احسان اور مہربانی کے نتیجے میں دنیا بھر میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں کورونا وائرس دم توڑ رہا ہے۔
اب تقریباً یہ بیماری پاکستان میں اختتام کے قریب ہے کئی معتصب اور گمراہ افراد یہ بات تسلیم نہیں کرینگے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے خاتمے کی وجہ اللہ پاک کی وہ مہربانی اور احسان ہے جو ملک بھر کے علمائے کرام اور دین دار افراد کے رونے دھونے اور عاجزانہ دعاں اور نوافل کے نتیجے میں ہوا۔
تعلیمی ادارے رفتہ رفتہ دوبارہ کھل رہے ہیں تجارتی اور کاروباری معاملات بھی تقریبا معمول پر آچکے ہیں دنیا بھر میں اس حقیقت کو تسلیم کرلیا گیا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس اختتام پذیر ہے اسی حقیت کے پیش نظر دنیا کے مالدار ترین کاروباری شخصیت بل گیٹس نے پاکستان کو اس کامیابی پر ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے کوئی مانے یا مانے مگر حقیقت یہ ہے کہ غریب عوام علماکرام اور دین دار افراد کے اللہ کے حضور میں رونے دھونے اور گڑ گڑ ا کر مانگی گئی دعائیں رنگ لائیں ہیں اور دنیا بھر میں صرف پاکستان کو ہی کورونا وائرس کے حوالے سے اللہ کی طرف سے ریلیف ملا ہے۔
جن لوگوں نے اپنے تعصب اور فرقہ واریت کے جنون میں تبلیغی جماعت کے خلاف منفی پروپیگنڈے کئے تھے وہ اب اپنے ماضی پر شرمسار ہو کر اللہ تبارک و تعالی سے اور تبلیغی جماعت کے اکابرین سے معافی مانگ لیں مگر ایسا صرف وہ لوگ کرینگے جو سچ کو سچ کہنے کے قائل ہیں فرقہ پرست اور دین بیزار عناصر سے اس کی بھی توقع نہیں۔
پاکستان کے ہر مسلمان کو دنیا بھر میں خصوصاً مسلمانوں اور عمومی طور پر سارے انسانوں کیلئے دعاں کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے تاکہ اللہ تبارک و تعالی ساری انسانیت کو کورونا وائرس کے عذاب آزمائش اور ابتلا سے نجات عطا فرمائے۔وزیراعظم عمران خان اور تمام وزرائے اعلی سے گزارش ہے کہ وہ ملک میں کورونا وائرس کے خاتمے پر یوم تشکر منائیں اور خصوصی نوافل پڑھیں یہ نوافل ہر سطح پر پڑھے جانے چاہئے سب سے پہلے اس کا سلسلہ وزیراعظم عمران خان اور صدر مملکت کی طرف سے شروع کیا جانا چاہئے علمائے کرام بھی اپنے دینی مراکز میں لوگوں کو شکر کے نوافل پڑھنے کی ترغیب دے سکتے ہیں کیونکہ اس حقیقت سے کوئی باشعور اور عقل والا شخص انکار نہیں کرسکتا کہ اللہ کی خاص مہربانی کے نتیجے میں پاکستان میں کورونا وائرس اختتام پذیر ہے اس کے علاوہ اگر سرکاری طور پر یوم تشکر کا اہتمام نہ ہو تب بھی تعلیمی اداروں اور دفاتر اور تجارتی مراکز میں افراد کو اپنے طور پر یوم تشکر کا اہتمام کرلینا چاہئے کم از کم ہر مسلمان دو نفل شکرانے کے ضرور پڑھ لے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اللہ کا شکر کرنے سے ملک میں حالات مزید پر امن ہوجائینگے۔
گزشتہ روز کے کالم میں کالم نگار کا نام قیصر محمود بٹ شائع ہوگیا تھا۔موصوف قیصرمحمود بٹ کی بجائے قیصر بٹ کے نام سے کالم لکھتے ہیں۔ قارئین آگاہ رہیں۔