مہنگی بجلی کے معاہدوں کے بوجھ سے عام آدمی،صنعتی شعبہ نہ صرف متاثر ہوا ہے،دوسری جانب گردشی قرضوں کا پہاڑ کھڑا ہوگیا ہے- وزیرِ اعظم عمران خان

ویب ڈیسک: وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات میں پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس

وفاقی وزراء اسد عمر، عمر ایوب، میاں محمد سومرو، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاونین خصوصی شہزاد قاسم، ندیم بابر اور ڈاکٹر ثانیہ نشتر و دیگر سینئر افسران شریک

اجلاس میں توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے اوراس حوالے سے مختلف اہداف کے حصول کے لئے مقرر شدہ ٹائم فریم کے حوالے سے وزیرِ اعظم کو تفصیلی بریفنگ-

وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کیے جانے والے مہنگی بجلی کے معاہدوں کے بوجھ سے نہ صرف عام آدمی اور صنعتی شعبہ متاثر ہوا ہے بلکہ سستی بجلی فراہم کرنے کی کوشش میں گردشی قرضوں کا پہاڑ کھڑا ہوگیا ہے،جس کا سارا بوجھ سرکاری خزانے پر پڑ رہا ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ سبسڈی کے نظام کو منصفانہ ، شفاف اور مستحقین تک موثر طریقے سے پہنچانے کے نظام پر خصوصی توجہ دی جائے۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کےحوالے سے بجلی کی پیداوار، ضروریات ، سال کے مختلف مہینوں میں استعمال میں اتار چڑھاؤ کی شرح، پیداواری لاگت ، فروخت اور ریونیو اور بجلی کے نرخوں کی وجہ سے دیگر شعبوں پر اثرات سمیت مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر حکمت عملی اور روڈ میپ کا تعین کیا جائے تاکہ نہ صرف اس شعبے کو بحران سے نکالا جا سکے بلکہ ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے کہ تمام شعبہ جات کی توانائی کی ضروریات احسن طریقے سے پوری کی جا سکیں۔