تقریر کی لذت

اس دفعہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اس کے باوجود بہت گرم رہی کہ سربراہان مملکت کوڈ19کے سبب بنفس نفیس خطاب سے محروم رہے اور معاملات آن لائن چلتے رہے اور بہت عرصے بعد دنیا کے کئی ایک ممالک نے ایک ہی لہجے میں سپر پاور امریکہ پر نگاہیں مرکوز کی تھیں۔ چین جو دھیمے مزاج کا ملک ہے لیکن اُس نے پہلی دفعہ ایک دو ایسے جملے دنیا کے سامنے کہے کہ جو نہ اُس کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی کا عندیہ دیتے ہیں بلکہ اُس میں جارحیت بامر مجبوری کا عنصر بھی شامل تھا۔ یہ ایک جملہ کہ”امریکہ سپر پاور ہے تو سپرپاور ہی کی طرح معاملات نمٹائے” ایک جہان معنی کا حامل ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پہلی دفعہ روس، چین، ایران اور ترکی کے انداز بیان اور تقاریر کی دل پذیری میں بلا کی ہم آہنگی تھی جو واضح طور پر ایشیاء میں ایک نئے اور مضبوط بلاک کے سامنے آنے کی نوید سنارہی ہے۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ اہم اور قابل غور ہے لیکن اپنے وزیراعظم نے بھی کمال تدبیر اور میانہ روای کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان اور عالم اسلام کے سارے بڑے اور اہم مسائل کو بہت خوبی کیساتھ سمیٹتے ہوئے دنیا کے اس اہم فورم پر دنیا کے سامنے رکھے۔ اس وقت ماحولیات (موسموں کی تبدیلی) انسانیت کیلئے بہت اہم مسئلہ ہے۔ عمران خان نے پاکستان میں شجرکاری کا ذکر کرتے ہوئے دنیا کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرائی کہ اب بھی اگر بڑے ملکوں نے ملکر ماحولیات کے مسئلے کو حل نہ کیا تو گلوبل وارمنگ کے سبب آنے والی نسلوں کو بھاری قیمت چکانی پڑسکتی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اوزون کی لہروں اور تہوں کو سلامت رکھا جائے اور آلودگی کی زیادتی سے اُس میں شگاف نہ ڈالے جائیں ورنہ سورج کی شعائیں براہ راست آنے لگیں توسیارہ زمین پر زندگی گزارنا مشکل تر اور پھر ایک ناممکن کی طرف بڑھنا شروع ہو جائیگا۔ مقبوضہ کشمیر کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر میں بھارت نے گزشتہ ایک سال سے اسی لاکھ کشمیریوں کا بد ترین محاصرہ کیا ہے اگر کہیں ترقی یافتہ مغربی ملکوں کے اسی لوگوں کا اسی طرح محاصرہ ہوتا تو کیا دنیا یوں بے حسی کا مظاہرہ کرسکتی۔ یہ جملہ شاید باضمیر لوگوں کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہے۔اس کیساتھ ہی ہندوستان،ہندوتوا، آر ایس ایس اور نازی ازم کو ایک دفعہ پھر یار طرح دار نے جس طرح دنیا کے سامنے آشکار کیا،پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کسی نے کیا ہوگا۔ افغانستان میں امن کی بحالی اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان کے کردار کو بھی بہت برجستہ اوربرمحل انداز میں پیش کرتے ہوئے اپنے دیرینہ مؤقف کا ذکر کیا کہ ہم نے ہمیشہ طالبان کیساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بات کی ہے لیکن اُس وقت غیر تو غیر اپنے بھی عمران خان کو طالبان خان کے نام سے طنزاً پکارا کرتے تھے۔ سپرپاور نے پندرہ بیس برس مسلسل جنگ لڑ کر اور پاکستان پر ڈومور کادبائو رکھتے ہوئے ٹریلین ڈالرز پھونکنے کے باوجود آخر کار زلمے خلیل زاد کو بار بار عمران خان کے پاس بھیج کر طالبان کو دوحہ مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جو آخر کار کامیاب ہوئیں اور اس وقت افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کا دور ہوچکا اور افغانستان کے اہم رہنما عبداللہ عبداللہ پاکستان کا تین روزہ دورہ کر چکے ہیں۔ یہ سب وزیراعظم اور پاک افواج کے ایک صفحہ پر ہونے کے ثمرات ہیں جس کو بعض لوگ باہر اور اندر سے دن رات سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو انشاء اللہ کامیاب نہیں ہونگے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کامیابیوں کی راہ پر گامزن ہے اور انشاء اللہ بہت جلد افغانستان میں امن کے قیام کیساتھ ہی پاکستان میں امن اور خوشحالی آئے گی اور بھارت جیسے غمازوں کو افغان سرزمین پر پائوں لگانے کی جگہ نہیں ملے گی جیسے ایران سے بھارت آئوٹ ہوا، انشاء اللہ بہت جلد اسی طرح افغانستان سے ہوگا۔ اب آئرن برادر چین کے سی پیک کی زنجیرمیں یہ تینوں ممالک ایک الگ انداز سے وسطیٰ ایشیاء تک تجارت اور سیاحت کی راہیں کھلوائیں گے۔ جنرل اسمبلی سے تقریر کا آخری نکتہ بہت ہی اہم اور دوٹوک تھا اور وہ فلسطین کے بارے میں تھا چونکہ آج کل مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے تسلیم کرنے اور اُس کیساتھ پینگیں بڑھانے کی ہوا چلی ہے تو پاکستان پر بھی بعض ”یاروں” کی طرف سے دبائو آتا رہا ہے لیکن وزیراعظم پاکستان نے انگریزی محاورے ونس فار آل یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ پاکستان اسرائیل کو تب تسلیم کرے گا جب اسرائیل1967ء سے قبل کے فلسطینی زمین اہل فلسطین کے حوالے کر کے دوریاستوں کا فارمولہ تسلیم کر کے بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت مان لے۔ ”نہ نومن تیل آئے گا نہ رادھا ناچے گی”گل ہی مک گئی” اور آخری نکتہ اقوام متحدہ کے سٹرکچر، قوانین وضوابط اور سلامتی کونسل کے مستقل اراکین اور ویٹو طاقت کے حوالے سے اصلاحات کی بات تھی جو عمران خان نے بہت زوردار انداز میں پیش کی جس کی بہت ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر یو این کا وہ کردار ادا نہ ہوسکے گا جس کیلئے یہ وجود میں آیا تھا۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو مخلص، دیانتدار اور اہل قیادت سے نواز ے آمین۔