تین بہترین کتابیں

تین کتابیں پڑھنے کا ہمیشہ بڑا لطف آیا، دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ تینوں کتابیں لیکچرز یعنی خطبات پر مشتمل ہیں۔ علامہ اقبال کے خطبات پر مشتمل کتاب ”اسلامی الہیات کی تشکیل نو” ڈاکٹر حمید اللہ کی ”خطبات بہاولپور” اور ڈاکٹر محمود غازی کے لیکچرز پر مشتمل ”محاضرات حدیث” پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کتابوں میں علم کا سمندر موجزن ہے، 1930ء میں شائع ہونیوالی کتاب
The reconstruction of religious thoughts in Islam علامہ اقبال کے ان انگریزی لیکچرز پر مشتمل ہے جو آپ نے مدراس، حیدرآباد اور علی گڑھ میںدئیے۔ مدارس میں مسلم ایسوسی ایشن کی درخواست پر دئیے گئے ان خطبات میں علامہ اقبال نے اسلام کی فلسفیانہ روایات اور انسانی علم کی حالیہ ترقی کے تناظر میں مسلم مذہبی فلسفہ کی تشکیل نو کی کوشش کی ہے۔ میرے خیال کے مطابق اس کتاب کی بہترین ”شرح” لکھنے کی ضرورت ابھی باقی ہے تاکہ یہ باآسانی قاری کو سمجھ آسکے اور دوم، اس موضوع پر مزید طبع آزمائی ہو۔ علمی لحاظ سے اس کتاب کا جو مقام ہے ابھی تک اس کے شایان شان ”شرح” نہیں لکھی جاسکی چنانچہ آج تک اس کتاب کا حق ادا نہیں کیا جاسکا۔ اس ضمن میں حافظ ابن حجر عسقلانی کی ”شرح بخاری” کا تذکرہ ذہن میں آ رہا ہے۔ ابن خلدون نے صحیح بخاری کے متعلق کہا تھا کہ اس کتاب کے شایان شان آج تک شرح نہیں لکھی گئی ہے اور یہ بات تقریباً بخاری شریف کے 500سال بعد کہی گئی۔ بعدازاں جب حافظ ابن حجر عسقلانی نے صحیح بخاری کی شرح فتح الباری لکھی تو اس پر اجماع اُمت تھا کہ انہوں نے بخاری شریف کی شرح کا حق ادا کر دیا ہے۔ یہی بات میرے ذہن میں علامہ اقبال کی ”اسلامی الہیات کی تشکیل نو” کی بابت آتی ہے۔ اللہ کرے کہ اقبالیات پر لکھنے والا کوئی دیوانہ اُٹھے اور یہ حق ادا کر دے۔ علامہ اقبال کی شاعری کا قرض تو اُمت مسلمہ کے وجود پر ہمیشہ قائم رہے گا لیکن انہوں نے اس کتاب میں جدید فکر کی مدد سے مذہب کا جواز جس طرح مہیا کرنے کی سعی کی ہے اس کو خراج تحسین پیش کرنا ہم سب پر فرض ہے۔
اب آئیے ان تین اُستاد شاگردوں کی طرف کہ جن کی علمی صلاحیتیں ایک دوسرے سے بڑھ کر تھیں اور یہ علم پھیلانے کی ایک ایسی ”Chain” بنی جس کی ایک دنیا معترف ہے۔ میری مراد مولانا مناظر احسن گیلانی، ڈاکٹر حمید اللہ اور ڈاکٹر محمود غازی سے ہے۔ برسوں قبل مولانا مناظر گیلانی کی کتاب ”امام ابوحنیفہ کا سیاسی مسلک” پڑھنے کا موقع ملا تو ان کی تحقیقی صلاحیتوں کا معترف ہوا۔ ڈاکٹر حمید اللہ تو اس تحقیقی میدان کے مینارہیں۔ ڈاکٹر حمید اللہ کی کتاب ”خطبات بہاولپور” بھی جب جب پڑھی ہے ہر دفعہ پہلے سے زیادہ لطف آیا ہے۔ یہ کتاب ڈاکٹر حمید اللہ کے ان خطبات پر مشتمل ہے جو انہوں نے 1980ء میں جامع عباسیہ بہاولپور (اسلامی یونیورسٹی بہاولپور) میں دئیے۔ ان خطبات کی تعداد بارہ ہے جنہیں علمی وادبی حلقوں میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر محمود غازی کی ”محاضرات حدیث” بھی بارہ لیکچرز پر ہی مشتمل ہے۔
ڈاکٹر محمود غازی نے حدیث کے موضوع پر جو گفتگو فرمائی ہے وہ اتنی جامع ہے کہ ”محاضرات حدیث” پڑھنے کے بعد احادیث کی کتابوں اور علم کی بابت کوئی اور کتاب پڑھنے کی حاجت نہیں رہتی۔ ڈاکٹر صاحب نے علم حدیث کے تعارف سے لیکر علم اسناد، علم رجال اور کتب احادیث کی خصوصیات تک تمام موضوعات کا جامع احاطہ کیا ہے۔ سچ بات یہ ہے کہ جب بھی اس کتاب کے مطالعے کا موقع ملا دل سے ڈاکٹر صاحب کیلئے دعا نکلی جنہوں نے ہم جیسے کم علموں کیلئے نہایت محنت سے معلومات کو مرتب کیا اور کتب احادیث کی اہمیت کو درست تناظر میں سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ آج کل یہ کتاب میرے زیرمطالعہ ہے اور یہی آج کا کالم لکھنے کی وجہ بنی ہے۔ خطبات بہاولپور کی طرح محاضرات حدیث کی خاص بات سوال وجواب کا سلسلہ ہے۔ ذہن میں اُٹھنے والے اکثر سوالات کے جوابات مجھے یہاں سے ملے جو احباب حدیث، علوم حدیث، تاریخ تدوین حدیث اور مناہج محدثین کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں ان کیلئے ”محاضرات حدیث” کا مطالعہ کسی نعمت سے کم نہیں ہوگا۔ احادیث کی کتاب جماع، سنن ، مُسنَد، معجم، صحیح، مستدرک اور مستخرج کیوں کہلواتی ہیں اس بارے میں جو اصطلاحیں استعمال کی جاتی ہیں جیسے مُسنِد، محدث’ حافظ، الحُجہ اور امیر المؤمنین فی الحدیث کی بابت جاننے کا موقع بھی اسی کتاب کی وجہ سے ملا۔ علم اسناد اور علم رجال کا باب بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ سید التعابعین حسن بصری اور محمد بن سیرین سے شروع ہونے والے رجال کے علم کے بارے میں معلومات اور جرح وتعدیل کا باب بھی خاصی دلچسپی کے حامل ہیں۔