مسئلہ کشمیر کا چھ جہتی حل

کشمیر کا مسئلہ کس طرح حل ہو سکتا ہے؟ہونا تو یہی چاہئے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو حق خودارادیت کو استعمال کر کے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیا جائے یا چلیں موجودہ حالات کے پیش نظر کوئی اس کے قریب تر صورت ہی نکل آئے۔
اب بات کرتے ہیں کہ یہ حل کس طور ممکن ہو سکے گا۔ سب سے پہلے تو اس کیلئے بھارت کو اپنی کشمیر پالیسی یکسر بدلنا ہوگی۔ اس کے بعد کشمیریوں کی نسل کشی کے حوالے سے عالمی برادری کو اپنے روئیے میں بدلاؤ لانا ہوگا اور ان دونوں تبدیلیوں کیساتھ پاکستان اور بھارت، دونوں ایٹمی طاقتوں کے بیچ ازلی مخاصمت کو بھی نرم کرنے کی ضرورت پڑے گی۔
پاکستان کیلئے یہ بات سمجھنا اب ناگزیر ہو چکا ہے اسے بھارت کی خطے میں سیاسی اور معاشی حجم اور اثر ورسوخ، عالمی برادری کی جانب سے سادھی چپ کے مقابلے میں مؤثر سفارتکاری کرنے کیلئے صرف روایتی اور قانونی بیانئے پر ہی اکتفا کافی نہیں ہوگا۔ پاکستان کو اپنی سیاسی، معاشی، انسانی حقوق اور قومی ترقی کے حوالے سے مثبت پہلوؤں کو دنیا کے سامنے لاکر اپنا جمہوری تشخص مستحکم کرنا ہوگا اور اس کے بعد ہی جموں وکشمیر پر ہمارا بیانیہ قوی ہو سکے گا۔
یہ اب اسلئے بھی نہایت اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ پاکستان کی کشمیر، ہندوستان اور افغانستان میں ہونے والی دہشتگردی میں بھارتی سہولت کاری کیخلاف پاکستان کے مقدمے کو بھارت نے کئی مرتبہ دبانے کی کوشش کی ہے۔ ہمیں دنیا بھر میں ایک غیرجمہوری، بدعنوان اور نااہل حکومت کا حامل ملک سمجھا جاتا ہے، یہ تاثر بھارتی عزائم کو مزید تقویت فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اپنی کشمیر سے متعلق پالیسی کو ایک قومی سطح پر اصلاح اور تبدیلی کے پیرائے میں رکھ کر مزید مؤثر کرنے کی ضرورت ہے۔
سو اس تمام صورتحال کے ہوتے ہوئے کشمیر میں امن کے کوئی بہت حوصلہ افزا امکانات موجود نہیں۔ البتہ اگر پاکستان اپنے اندرونی مسائل سے آہنی ہاتھوں نمٹنے کی ٹھان لے اور اس کیساتھ کشمیر کے بابت ایک ٹھوس پالیسی مرتب کر لے تو یہ امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کا کشمیر پالیسی سے متعلق میسر سفارتی یا قانونی چارہ جوئی کے مواقعوں سے فائدہ نہ اُٹھانا بھارتی پراپیگنڈا کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے مترادف ہوگا۔ درحقیقت پاکستان کے پاس کشمیر پالیسی کے حوالے سے کوئی بھی بے خطر راستہ موجود نہیں۔ بھارتی شاطر چالوں کے سامنے کسی بھی طرح ہتھیار ڈالنا پاکستان کے وجود پر خدشات کو جنم دیدے گا۔ ہم اس مقام پر بھارت کی متکبرانہ اور ہٹ دھرم چالوں اور پاکستان کی غیرمؤثر اور دوراندیشی سے خالی پالیسیوں کے سبب پہنچے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان اس وقت اپنی کمزور پوزیشن کے باعث کوئی ایسا ٹھوس چیلنج لینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ البتہ چھ جہتوں پر محیط ایک مؤثر اور مربوط کشمیر پالیسی کئی غیرممکنات کو ممکنات میں بدل سکتی ہے۔ یہ چھ جہتیں کیا ہیں، آئیے دیکھتے ہیں۔
پہلی جہت میں ہمیں اقوام متحدہ کی پاس کردہ قراردادوں کی روشنی میں حل تلاشنے کیلئے بھارت کیساتھ مذاکرات کو ایک مرتبہ پھر بحال کرنا ہوگا۔ یہ مذاکرات پاکستان کی جانب سے کشمیری قیادت کو اعتماد میں لیکر، ایک اصولی حل کیلئے کاوش ہوگی جس کا انکار، پاکستان کی امن کی کوششوں پر بھارتی ہٹ دھرمی کے تاثر کو جنم دے گا۔ اس ضمن میں دوسری جہت بھارت کو 1948کے نسل کشی کنونشن کی روشنی میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کیلئے اقدامات کرنے سے متعلق ہے۔ تیسری جہت میں ہمیں کشمیریوں کی بھارتی مظالم کیخلاف مزاحمت کو زندہ رکھنے میں ساتھ دینا ہوگا۔ یہ مزاحمت عسکری نوعیت کی بھی ہو سکتی ہے کہ اس کی اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین میں مکمل گنجائش موجود ہے، البتہ یہ مزاحمت کسی طور بھی دہشتگردی یا نہتے شہریوں پر حملے کی صورت نہیں ہونی چاہئے۔ چوتھی جہت میں ہمیں پاکستان کے آئین کے آرٹیکل257 کی روشنی میں کشمیریوں کی آزادی یا پاکستان کیساتھ الحاق کے بیچ موجود راستوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یوں پاکستان کے پاس بھارتی مؤقف کے مقابلے میں پیش کرنے کو دو قانونی راستے موجود ہوں گے۔ البتہ اس کیلئے کشمیریوں کا پاکستان پر بھرپور اعتماد ناگزیر ہے۔ پانچویں جہت میں ہمیں سفارتکاری کے محاذ پر اقدامات میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ جس میں مسئلہ کشمیر کا اصولی حل، ان کے سیاسی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے اور عالمی برادری کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلانے جیسی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ چھٹی جہت میں ہمیں ان تمام پانچ راستوں کو باہم متصل کر کے ایک مربوط اور مؤثر لائحہ عمل میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ یہ عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص مضبوط کرنے، مزید پالیسی راستے پیدا کرنے اور دنیا بھر کے دارلحکومتوں میں توانا آواز پہنچانے میں کارگر ثابت ہوگا۔ کشمیر کا مسئلہ ہمارے وجود کا مسئلہ ہے اور اس سے روگردانی کرنا ممکن نہیں۔ ایسے مسائل ممالک کیلئے اکثر کئی نئے مواقع بھی لیکر آتے ہیں۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)