کتنے عظیم بروج گریں گے

جی ہاں دیکھئے کہ مارچ میں کون کونسے بڑ ے بڑے برج ڈھے جائیں گے، جی ہاں 21مارچ کو سینیٹ کے انتخاب ہورہے ہیں، ویسے تو سینیٹ کی عمر چھ سال کی ہوتی ہے مگر جن ممبروں کے چھ سال پورے ہو جائیں ان کو سینیٹ سے فراغت مل جاتی ہے کیونکہ سینیٹ تحلیل نہیں ہوا کرتی پاکستان کے آئین کے مطابق وہ مستقل ادارہ ہے اس لئے کوئی بھی اس کو تحلیل کرنے کا مجاز نہیں ہوتا اگرچہ مارشل لا لگ جائے تب بھی سینیٹ کو تحلیل نہیں کیا جا سکتا، البتہ قومی اسمبلی کو آئین کے مطابق کسی بھی وقت تحلیل کیا جا سکتا جیسا کہ اس وقت حزب اختلاف کا اتحاد پاکستان جمہوری تحریک کا مطالبہ ہے، چنانچہ آئین پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ کا جڑواں نام مجلس شوریٰ ہے۔ آئین کی رو سے چھ سال کی مدت پوری کرنے والے ریٹائرڈ ہو جائیں گے جن میں بڑی بڑی پارٹیوں کے بڑے بڑے برج فارغ کر دئیے جائینگے، مارچ میں کس کا نقصان ہوگا اور کس کو فائدہ ہوگا۔ لگتا ایسا ہے کہ گھاٹا مسلم لیگ ن کا ہوجائے گا اور پی ٹی آئی منافع میں چلی جائے گی۔ اس وقت وطن عزیز کی حالت یہ ہے کہ صرف ایک لمحہ میں کچھ بھی تو ہو سکتا ہے، یوں ہے کہ مجلس شوریٰ کے ایوان زیریں میں ہر صوبے کی آبادی کی بنیاد پر نشستیں رکھی جاتی ہیں جیسا کہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے سو اس کی سیٹیں دیگر صوبوں سے زیادہ ہیں لیکن سینیٹ میں نشستیں ہر صوبے کی برابر برابر تعداد میں ہوتی ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ کوئی صوبہ اپنی اکثریت کی بنیاد پر دیگر صوبوں پر اپنی مرضی نہ تھوپ پائے، قومی اسمبلی کے ووٹر عوام الناس ہوتے ہیں جبکہ سینیٹ کے ووٹر صوبائی اور قومی اسمبلی کے ارکان ہوتے ہیں چنانچہ چھ سال کی مدت پوری کرنے والوں کی اس وقت سب سے زیادہ تعداد پنجاب کے سینیٹروں کی ہے اور سینیٹ میں اکثریت مسلم لیگ ن کی ہے، اس لئے سب سے بڑا نقصان مسلم لیگ ن کا نظر آرہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رحمان ملک اور اعظم طارق جا رہے ہیں، پیپلز پارٹی کیلئے کوئی خوف نہیں ہے کیونکہ سندھ میں اکثریتی پارٹی پی پی پی ہے چنانچہ وہ اپنی نشستیں بچا لیں گے۔ بڑے بروج میں مولانا فضل الرحمان کے بھائی مولانا عطاء الرحمان ہے، ان کا تعلق صوبہ کے پی سے ہے وہ اس صوبائی اسمبلی میں اس حیثیت میں ہیں کہ وہ اپنی نشست واپس لے جائیں گے، اسی طرح بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے جمال دین ہیں چونکہ مینگل گروپ اب حکومتی اتحاد سے الگ ہو چکا ہے تاہم ان کی قوی اُمید ہے کہ وہ بھی دوبارہ سینیٹ پہنچ جائیں گے۔ بڑے بروج میں جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم کا نام آتا ہے، ان کا تعلق پنجاب اور مسلم لیگ ن سے ہے اگرچہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی نے اپنی اکثریت قائم کر رکھی ہے تاہم مسلم لیگ ن کی بھی اچھی خاصی تعداد وجود رکھتی ہے۔ لیکن پاکستان میں سیاسی معجزے اورکرشماتی تبدیلیاں بہت ظہور پذیر ہو جایا کرتی ہیں تو یہ جیسا کہ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین اور ایف اے ٹی ایف کے بل کی منظوری پر ہوا تھا۔ بلوچستان سے جمعیت العلمائے اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری ہیں جنہوں نے خفیہ ملاقات کے بارے میں ایک اہم راز اُگل کر سارے ملک میں ارتعاش پیدا کر دیا، وہ بھی اپنی کرسی بچا لے جائیں گے۔ ایم کیو ایم کے بیرسٹر محمد علی سیف جو کسی زمانے میں پاسبان کے لیڈر ہوا کرتے تھے لیکن ایم کیو ایم میں شامل ہوئے اور ان کے کندھوں کے سہارے سینیٹر بن گئے۔ ان کا تعلق تو ویسے مردان صوابی سے ہے ان کی واپسی کا ستارہ روشن نظر نہیں آتا۔ اسی طرح ایک نام عثمان کاکڑ کا ہے جو ملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں وہ واپسی کے خوش نصیبوں میں نام لکھوا سکتے ہیں، لیکن بلوچستان کے معاملے میں ایک اندیشہ ہے کہ وہاں تبدیلی کرشماتی طور پر ہوجاتی ہے جیسے کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے موقع پر ہوا۔ ایک اہم نام مشاہد اللہ خان کا بھی ہے ان کی واپسی مشکل تر ہے کیونکہ ان کا مسلم لیگ ن سے اور سندھ اسمبلی سے تعلق ہے جہاں مسلم لیگ ن کا کھک نہیں ہوسکتا ہے کہ ان کی پارٹی کارکردگی پر نواز شریف پنجاب سے ان کو نواز دیں۔ پی پی کی ایک اہم برج میں شریں رحمان بھی ہیں ان کا امکان ہے کیونکہ سندھ میں پی پی کی اکثریت ہے۔ ایک بہت بڑا نام سراج الحق کا بھی ہے، افسوس ان کے سینیٹ میں واپس آنے کیلئے امکانات قطعی نہیں ہیں، ان کو یہ نشست بھی پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے اتحاد سے حاصل ہوئی تھی۔ اب وہ اس منہج پر کھڑے ہیں جہاں ان کی نظر میں عمران خان سمیت سب ہی چور ہیں، لگتا یہی ہے کہ ایم ایم اے کے اتحاد کی فہرست میں جماعت کا نام تو شامل ہے لیکن جماعت عملی طور پر غیرحاضر نظر آتی ہے۔ ویسے تو سینیٹ کے آئندہ الیکشن کے بارے میں اعداد وشمار اور دیگر حالات واقعات کے قصے تو بہت ہیں تاہم بدہضمی کے خوف کی وجہ سے کالم کے پیٹ میں ٹھونسا نہیں جا سکتا، کیونکہ گنجائش نشتہ بہرحال اگر موجودہ سیٹ اپ برقرار رہے تو سینیٹ میں اکثریت پی ٹی آئی کی ہو جائے گی۔ اس طرح ان کرشماتی ہاتھوں کی عید کھری ہو جائے گی، چھوٹی عید سے بڑی عید میں تبدیل ہو جا ئے گی جو پاکستان کے متفقہ آئین کا حلیہ بدلنے کیلئے راتوںکو بھی جاگتے ہیں اور اس کیساتھ ہی ملک کا پارلیمانی نظام صدارتی نظام میں تبدیل کرنے کا جشن بھی منا سکیں گے اور آئین کے آرٹیکل18 کی تبدیلی کے خواب کی تعبیر پوری ہوجائے گی مگر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ جس جانفشانی سے جدوجہد جاری رکھنا چاہتی ہے اس میں بازی کے پلٹاؤ کا بھی کافی امکان پایا جاتا ہے۔