جب خوں بہا طلب کریں بنیاد کچھ تو ہو

امریکہ کے مشہور میگزین ”فارن پالیسی ” کی اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد قومی سلامتی سے متعلق وزیراعظم کے معاون خصوصی نے جس طرح دہشتگردی کا الزام بھارت پر اُلٹ ڈالا ہے وہ یکسر ایک نئی بھارت پالیسی کا اظہار وانداز ہے۔ جس میں بھارت کو داعش کا نیا چہرہ قراردے کر کئی ملکوں میں دہشتگرد نیٹ ورکس کی سرپرستی کا انکشاف کیا گیا ہے۔اس مضمون میں کہا گیا ہے کہ بھارت دنیا میں مسلمانوں کی تیسری بڑی آبادی والا ملک ہے اور وہاں مسلمانوں کو داعش میں بھرتی کرکے مختلف ملکوں میں لڑنے کیلئے بھیجا جا رہا ہے۔ شام کی لڑائی میں بھارت کے شہری شریک رہے ہیں اور اگست میں افغانستان کی جلال آباد جیل پر داعش کے حملے نے بھی اس موقف کو تقویت دی کہ بھارت افغانستان میں بھی شدت پسندی کا نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ مضمون میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ نائن الیون حملوں کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے ایک بھارتی ہندو سے بھی روابط رہے ہیں۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ اگر دنیا نے بھارت کی اس دہشتگردی کو نظرانداز کیا تو امن عالم کیلئے اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ پہلے بھارت صرف خطے میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث تھا اب یہ سلسلہ بڑھ رہا ہے۔ ترکی، سری لنکا، افغانستان، سینٹ پیٹرز برگ روس سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں ہونے والی جن دہشتگردانہ کارروائیوں میں داعش ملوث رہی ہے ان کے پیچھے بھارت ہی ہے۔ فارن پالیسی میگزین کی یہ رپورٹ بھارت کی امن پسندی اور رواداری کے نقاب اُتار رہی ہے۔ بھارت اس وقت جس قسم کی انتہا پسندی کا مرکز بن رہا ہے اسے مزید تقویت دینے کیلئے ایک مخصوص مخالف کی ضرورت ہے تاکہ ہندو انتہا پسندوں کو اس خوف میں مبتلا رکھا جائے کہ اگر انہوں نے آر ایس ایس کا ساتھ نہ دیا تو مسلمان انتہا پسند انہیں کھا جائیںگے اور وہ اپنے وطن میں بے وطن ہو جائیں گے۔ اس خوف کا نام داعش رکھا گیا ہے۔ اس سے جہاں ایک طرف انتہاپسند ہندوؤں کی زیادہ سے حمایت سمیٹی جاتی ہے وہیں اسلام کا نام بھی بدنام ہوتا ہے اور مسلمانوں پر دہشتگردی کا لیبل بھی پختہ ہوتا ہے۔ اس کیساتھ ہی جب داعش کسی مسلمان ملک میں کارروائی کرتی ہے تو خون بھی مسلمانوں کا بہتا ہے اور وہ مسلمان ملک انتشار کا شکار بھی ہوتا ہے۔ داعش کے نام پر مشرق وسطیٰ میں جو کھیل کھیلا گیا اب باقی مسلمان دنیا میں وہی عمل دہرایا جانا مقصود ہے۔ ڈاکٹر معید یوسف نے بھارتی اینکر کرن تھاپر کو ایک انٹرویو میں پاکستان اور خطے بھارت کی دہشتگردانہ سرگرمیوں کا بھرپور پوسٹمارٹم کیا ہے۔ پہلی بار کسی پاکستانی ذمہ دار شخصیت نے بھارت کی خفیہ اور اعلانیہ دہشتگردی کو پوری تفصیل اور شواہد کیساتھ پیش کیا ہے۔ معید یوسف نے کہا کہ وہ خود ایک اقتصادی پس منظر کے حامل ہیں جبکہ دوسری طرف بھارت میں مشیر قومی سلامتی ایک قطعی مختلف یعنی جاسوسی اور فوجی پس منظر کے حامل ہیں یہ دو مائنڈ سیٹس کی عکاسی ہے۔ معید یوسف نے بھارت کی کارروائیوں کی تفصیل بیان کرنے کے بعد کچھ شرائط کیساتھ مذاکرات کی پیشکش بھی کی۔ یہ تمام شرائط مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے گرد ہی گھومتی ہیں۔ انہوں نے پورے اعتماد کیساتھ کہا کہ آرمی پبلک سکول، چینی قونصل خانے، سٹاک ایکسچینج اور گوادر ہوٹل پر حملوں کا ذمہ دار بھارت ہے اور دہشتگردوں اور ان کے بھارتی ہینڈلزرز کے درمیان روابط کے ثبوت بھارت کو دئیے جاتے رہے ہیں۔ ‘را’ افسروں کی نگرانی میں افغانستان میں ٹی ٹی پی کے مختلف دھڑوں کو ضم کیا گیا۔ معید یوسف نے کہا کہ اگر بھارت مقبوضہ کشمیر میں سیاسی قیدیوں کو رہا، محاصرہ ختم اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے والے قوانین کو واپس لے اور پاکستان میں دہشتگردی کو روکے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ معید یوسف نے بھارت کی میڈیا میں جس طرح بھارت کا چہرہ دکھایا اس کی مثال ماضی میں بہت کم ملتی ہے۔ جنرل پرویز مشرف سے لاکھ اختلاف سہی مگر وہ بھارتی میڈیا کا سامنا پورے اعتماد کیساتھ کرتے تھے۔ بھارت کے معاملے میں پاکستان کے صاحب اقتدار اور بااثر شخصیات کو ہمیشہ احساسِ کمتری کا کورونا لاحق ہوتا رہا ہے۔
بھارت کیخلاف عالمی فورمز اور میڈیا میں سخت مؤقف اپنانے کاکریڈٹ وزیراعظم عمران خان کو جاتا ہے جنہوں نے بھارت کے بارے میں روایتی مصالحانہ اور تجارتی اور سیاحتی ضروریات پر مبنی بیانیہ اور پیرایۂ اظہار تبدیل کرکے جنرل اسمبلی کے ایوان میں بھارت کو پوری طرح بے نقاب کیا۔ حکمران کا لہجہ اور دہن پوری ریاستی پالیسیوں اور رائے عامہ پر اثر چھوڑتا ہے۔ معید یوسف کی پراعتمادی اور خوداعتمادی کے پیچھے بھی یہی حقیقت ہے۔ یہ اعتماد اگر دفتر خارجہ سے سفارتخانوں تک سرایت کرجائے تو بیرونی دنیا میں کشمیر کے حوالے سے حالات تبدیل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان نے بھارت کو مذاکرات کیلئے جو شرائط پیش کی ہیں مودی کی طرف سے ان کا مثبت جواب آنا قطعی ناممکن ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے حوالے سے جو چارج شیٹ تیار کی ہے اسے ایف اے ٹی ایف میں پیش کیا جانا چاہئے تاکہ عالمی عدالت انصاف کے بعد بھارت کیخلاف دہشتگردی کے ثبوت ایف اے ٹی ایف کے ریکارڈ پر بھی آجائیں۔ بقول فیض
خوں پر گواہ دامنِ جلاد کچھ تو ہو
جب خوں بہا طلب کریں بنیاد کچھ تو ہو