کیا ہندو مسلمانوں کے غلام تھے

جب سے بھارت میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے تب سے وہاں پہلے انتہا پسند ہندوؤں نے یہ ہاہاکار مچا رکھی ہے کہ مسلمان غیرملکی ہیں، ان کو بھارت سے نکال باہر کرو، انہوں نے سینکڑوں سال بھارت کے اصل باشندوں کو اپنا غلام بنائے رکھا۔ اسی طرح بھارت میں کوئی واقعہ ہو جاتا ہے، اس واقعہ کی رپورٹ ابھی تک جائے وقوع سے باہر بھی نہیں ہو پاتی کہ بھارتی نیتا فوری طور پر اس کا الزام پاکستان پر دھر دیتے ہیں۔ ان دنوں مقبوضہ جموں کشمیر میں تعینات بھارتی فوجیوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، صرف دوہفتے سے کم عرصہ میں پانچ بھارتی فوجی اہلکاروں نے خودکشی کر لی۔ تازہ ترین واقعہ مقبوضہ کشمیر کے شمالی ضلع کپواڑہ کے ہند وارہ میں تعینات سشسترا سیمابل کے اُمت کمار نامی ایک فوجی نے خود پر گولی چلا کر خودکشی کرلی۔ یہ واقعہ گزشتہ روز اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو پیش آیا۔ بھارتی حکومت خودکشی کرنے والوں کے صحیح اعداد وشمار نہیں بتا رہی ہے تاہم مقبوضہ کشمیر کے حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔بھارت جس کو ایک سیکولر اسٹیٹ کی شرط پر آزادی ملی تھی اب وہاں عملاً انتہاپسند ہندو ریا ست کی بنیا د رکھ دی گئی ہے۔ ویسے تو بھارت میں سب اقلیتوں کیساتھ دین ومذہب کی بنیاد پر جبر کیا جا رہا ہے لیکن مسلمانوں کو خصوصی طور پر ہدف بنایا ہوا ہے، حتیٰ کہ ایودھیا ضلع میں تپسوی چھاؤنی کے پرم ہنس اچاریہ نے بھارتی حکومت سے ملک کو ہندو راشٹر قرار دئیے جانے تک گزشتہ پیر کے دن سے غیرمعینہ بھوک ہڑتال کا ڈھونگ رچا رکھا ہے، اس سے پہلے بھی یہ شخص ایودھیا میں رام مندر تعمیر کیلئے بھوک ہڑتال کر چکا ہے۔ اس شخص نے اس وقت بھوک ہڑتال توڑی جب اتر پردیش کے وزیراعلیٰ آدھیہ ناتھ نے بذات خود ایودھیا آکر اسے رام مندر کی تعمیر کا تیقن دیا تھا۔ اسی طرح جب انگریز نے ہندوستان کو مذہبی بنیاد پر تفرقہ ڈالنے کی سازش کی تو یہ کام جیمس مل کو سپرد کیا جس نے ہندوستان میں انگریزوں کی پالیسی ”تقسیم کرو اور حکمرانی کرو” کو جلا بخشنے کیلئے ہندوستان کی جس تاریخ کو جیسے پروان چڑھایا اس میں اس نے مسلم دور، ہندو دور اور انگریز دور کو تقسیم کر دیا تاکہ انگریز کی حکمرانی بڑھاوا دینے کیلئے ایک آلہ عطا کر دیا اور ایک ایسا طبقہ پیدا کیا جس نے مذہبی منافرت کو خوب پھیلایا اور فرقہ واریت کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا۔ اس سازش کیساتھ ہی ہندو فرقہ پرستوں نے یہ دعویٰ شروع کر دیا کہ مسلمان غیرملکی باشندے ہیں، ان کو باہر نکال دو کیونکہ قدیم زمانے سے ہندوستان ہندوؤں کا دیس ہے اور وہی اس کے اصل باشندے ہیں، اس منافرت کا اندازہ یوں بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدھیہ ناتھ نے اعلان کیا آگرہ میں قائم کیا جا رہا مغل میوزیم کا نام مغل میوزیم نہیںہوگا بلکہ اس تاریخی میوزیم کو کسی ذات کے تابع رکھنا غلامی کی نشانی ہے۔ واضح رہے کہ یہ میوزیم دنیا کے سات عجوبوں میں شامل ہے اور تاج محل سے متصل بھی ہے جس میں ہندوستان کے بادشاہوں، ہتھیار اور تہذیبی پہلوؤں کو اُجاگر کیا جانا ہے، ساری دنیا میں تاج محل کو تعجب کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، مگر انتہا پسند ہندو اس کا درجہ گھٹانے کے درپے ہیں۔ تاج محل کو ایک انتہا پسند ہندو تاجو مہالیہ اور اس زمین کو جس پر یہ تعمیر ہوا ہے اسے شیومندر سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے، اس کا دعویٰ ہے کہ یہاں کبھی تاجو مہالیہ شیومندر ہوا کرتا تھا جس کو شاہ جہان بادشاہ نے مسمار کر کے تاج محل اور مقبرہ میں تبدیل کر دیا ہے جبکہ شاہ جہان کے سیکرٹریٹ کے کاغذات سے معلوم ہوتا ہے کہ تاج محل کو پیسوں کی کمی کی وجہ سے مرحلہ وار وقفے وقفے سے بنایا گیا اور یہ زمین شاہ جہان نے راجہ جئے سنگھ جو زمین کا مالک تھا کو ایک ایک پائی باقاعدہ ادا کرکے زمین خریدی تھی، جب سے بی جے پی برسراقتدار آئی ہے اور اس نے یوگی آدھیہ ناتھ کو چیف منسٹر تعینات کیا ہے تب سے اس نے یو پی صوبہ کے اہم تاریخی اثاثہ کو اہم مقامات کی فہرست سے نکال دیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ بھارت کے موقع پر اسی وزیراعلیٰ نے تاج محل کی پینٹنگ پیش کی جبکہ یہ انتہاپسند مغلوں کی یادگاروں کو غلامانہ ذہنیت کی علامت قرار دیتے ہیں۔ اسلام کو غیرملکی مہذب اور مسلمانوں کو بیرونی باشندہ قرار دیتے ہیں جبکہ بھارت کے قدیم ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ جن مسلمان بادشاہوں نے اس سرزمین پر حکومت کی انہوں نے یہاں پائی جانے والی متنوع روایات اور تہذیبوں کا احترام کیا۔ خود گاندھی جی نے تسلیم کیا وہ کہتے ہیں کہ ہندو رعایا مسلم حکمرانوں کے تحت پنپتے رہے اور مسلمان ہندو حکمرانوں کیساتھ پنپتے رہے، مگر آج سیکولر بھارت میں عملاً مسلمانوں کو غلام بنا کر رکھ دیا گیا ہے لیکن انگریز نے بڑی ہوشیاری سے ہندوستان کی دو بڑی اکثریت میں پھوٹ ڈالی، مسلمانوں کے دورحکومت میں ہندوستان کا عالمی جی ڈی پی تقریباً تیس فیصد تھا، اور جب انگریز ہندوستان چھوڑ گئے تو اس وقت ہندوستان کا عالمی جی ڈی پی صرف تین فیصد رہ گیا تھا۔ مسلمان آئے اور اسی سرزمین کو بیٹے ہو رہے آج بھی ان کی نسلیں آباد ہیں انگر یز تو ہندوستان کا ساراحسن لوٹ کر لے گیا جس کو مسلمانوں اور ہندووں نے ملکر سنوارا تھا۔