ستائش۔۔ انسان کیلئے ایک ایندھن

دنیا کے کامیاب بندوں کی شخصیت پہ غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی کسی نہ کسی نے ضرور تعریف کی تھی، تھپکی دی تھی یا حوصلہ افزائی کی تھی۔ مشہور امریکی مصنف نپولین بل کا کہنا ہے کہ ایک دن میرے باپ نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے میری سوتیلی ماں سے کہا ” یہ ہمارے محلے کا سب سے بڑا بدمعاش اور لفنگا ہے، بس یہی تمہیں تنگ کرے گا۔ نپولین کا کہنا ہے کہ میری سوتیلی ماں نے یہ سن کر میری طرف دیکھا، میرے قریب آئی اور پھر میری ٹھوڑی کو اپنی دو اُنگلیوں سے چھوکر میرا منہ اپنے منہ کی طرف کیا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک محبت بھری نظر ڈالی اور میرے باپ کی طرف مڑ کر کہا: یہ کوئی لفنگا بچہ نہیں ہے، یہ بہت ذہین اور سمجھ دار بچہ ہے، ایک دن یہ بچہ بڑا نام کمائے گا، بس اسے یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو کس مقصد کیلئے استعمال کرے؟ نپولین نے زندگی میں پہلی بار اپنے لئے تعریفی کلمات سنے تھے اور ان کلمات نے ہی اس کی زندگی کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ وہ کہتا ہے کہ میری سوتیلی ماں نے جو تعریف اور ستائش میری کی، وہ تعریف اور ستائش نہ ملنے کی وجہ سے ہزاروں لاکھوں نوجوان ناکامی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرجاتے ہیں۔
تعریف وتوصیف ہر انسان کی فطری کمزوری ہے، انسان کی صفات تعریف وتوصیف کی متقاضی ہیں۔ ہم میں سے ہر انسان اپنی تعریف کا خواہش مند ہوتا ہے، یہ انسانی فطرت ہے ہم اس سے انکار نہیں کرسکتے نہ ہی انحراف کرسکتے ہیں۔ یہ انسانی کمزوری ہی سہی مگر اس کمزوری کے اندر بعض اوقات انسان کی طاقت پنہاں ہوتی ہے۔ تعریف سننے کی آرزو میں انسان کے اندر کا خوابیدہ فنکار بیدار ہوتا ہے، نامور ماہر نفسیات ڈاکٹر الفریڈ ایڈر کا کہنا ہے ”انسان کی سب سے بڑی فطری خواہش یہ ہے کہ اس کی تعریف کی جائے، اس کی حوصلہ افزائی کی جائے، اسے سراہا جائے، خوشامد نہیں ستائش اور آپ دوسروں کو صرف ”ستائش” ہی سے خوش رکھ سکتے ہیں”۔
یاد رکھیں تعریف خوشامد نہیں، خوشامد بغیر صفت کے تعریف ہے۔ خوشامد اس بیان کو کہتے ہیں کہ جس کے کرنے والا جانتا ہے کہ جھوٹ ہے اور سننے والا سمجھتا ہے کہ سچ ہے، خوشامد سننے کا طالب مریض ہے اور خوشامدی اس مرض میں اضافہ کرتا ہے۔
زندگی میں بے شمار لوگ ہماری تعریف کرتے ہیں اور یہ تعریف ہمارے لئے ایک ایندھن کی حیثیت رکھتی ہے، جو پل بھر میں کسی بھی نازک سی کلی کو تناور درخت بنا دیتی ہے، چاہے کسی بھی میدان کا کوئی بھی شہسوار ہو اگر اس کی حوصلہ افزائی کی جائے تو اسے اس میدان کا بے تاج بادشاہ بننے سے کوئی بھی روک نہیں سکتا۔ تعریف بندے کو بنا دیتی ہے، تعریف کا مطلب ہی یہ ہے کہ کسی نے آپ کی کسی خوبی کو، آپ کے کسی کام کو یا کسی رزلٹ کو اُجاگر کیا یا سراہا۔
یاد رکھیں! اس کے برعکس اگر آپ لوگوں کی تعریف کرنے کی بجائے ان پر بے جا تنقید کریں گے یا ان کے کام میں نقص نکالیں گے تو وہ باصلاحیت ہونے کی باوجود بھی اکثر ناکامی کے اتھاہ گہرائیوں میں ضرور گر جائیں گے۔ اگر زندگی کے کسی موڑ پر تعریف کرنے والے ان کی تعریف کرنی بند کر دیں تو وہ بددل ہوکر اچھے کام کرنے چھوڑ دیں گے۔ اگر آپ کسی کی دل سے تعریف شروع کریں تو ہوسکتا ہے کہ وہ کل کو بڑا انسان بن جائے اور پھر جب مڑ کر پیچھے دیکھے تو اس کی دل سے آپ کیلئے دعا نکلے۔ بعض اوقات کسی کی تعریف اندر کی یاد بن جاتی ہے پھر بندے کو یاد آتا ہے کہ فلاں شخص نے میرے متعلق کیا بات کی تھی۔ اس لئے دوسروں کی تعریف کیجئے، وہ آپ کے گرویدہ بن جائیں گے۔
لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں کچھ محبت میں کمی ہورہی ہے، ہم تعریف کے معاملے میں بخل سے کام لے رہے ہیں۔ایک صاحب کہیں جارہے تھے، راستے میں ان کا کوئی پرانا واقف کار مل گیا۔ انہوں نے سلام دعا کے بعد حیرت سے پوچھا، ”کمال ہے، آپ زندہ ہیں؟ میرا تو خیال تھا، آپ اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں”۔ بہت خوب ”ملاقاتی نے ہنس کر کہا ”یہ خوش فہمی آپ کو کیوں ہوئی؟” اس نے جواب میں کہا کہ دراصل کل آپ کا ہمسایہ مل گیا تھا اور وہ آپ کی بڑی تعریف کر رہا تھا”۔ بقول اشفاق احمد ”ہمارے ہاں یہ رواج فروغ نہ پاسکا کہ تعریف وتوصیف بھی واجب ہے، بدقسمتی سے ہمارے ہاں آدمی کے چلے جانے کے بعد اس کی تعریف ہوتی ہے، بہتر تو یہی تھا کہ اس کے ہوتے ہوئے اس کی کچھ تعریف وتوصیف ہوجائے تو اس کو بھی پتہ چلے میرے اردگرد بھی میرے چاہنے والے موجود ہیں۔”
اس لئے جو لوگ صحیح معنوں میں تعریف کے مستحق ہیں ان کے جیتے جی دل کھول کر ان کی تعریف کیجئے، حوصلہ افزائی کیجئے، اس قیمتی تحفے کو فراخدلی سے تقسیم کیجئے، اس معجزاتی دوا کو ہر ایک تک پہنچائیے۔ صرف ایک بار اس دوا کو آزمائیے پھر آپ خود ہی اس کی معجزاتی تاثیر کے قائل ہوجائیں گے۔