ضم شدہ اضلاع کی تیز رفتار ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیر اعلیٰ محمود خان

ویب ڈیسک (پشاور)وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کا کور کمانڈر پشاور کے ہمراہ ضلع خیبر کا دورہ۔وزیر اعلی نے 35 کلومیٹر لمبی داواتوئی سڑک کی تعمیر کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔وزیراعلی نے تیراہ ایجوکیشن کمپلکس میں ہاسٹل کی عمارت کا بھی افتتاح کیا۔ وزیر اعلی نے ضلع خیبر کے علاقہ تیراہ میں قبائلی عمائدین کے جرگے سے خطاب کیا۔ محمود خان نے جرگے سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ قبائلی عوام کی مشکلات سے بخوبی واقف ہوں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عوام سب سے ذیادہ متاثر ہوئے، ضم شدہ اضلاع کی تیز رفتار ترقی تحریک انصاف حکومت کی اولین ترجیح ہے، انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے حقوق کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھا رہا ہوں، قبائلی اضلاع کی ترقی کے لئے سالانہ 100 ارب روپے کے فنڈز کو یقینی بنایا جائے گا، وزیر اعلی نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع کے مسائل کے حل کے لئے سب ڈویژن کی سطح پر جرگے منعقد کئے جائیں گے، قبائلی اضلاع جرگوں کا پرانا نظام برقرار رکھا جائے گا، تیراہ سب ڈویژن کے قیام کا کام تیز کیاجائیگا، تیراہ سب ڈویژن کے قیام سے علاقے کے لوگوں کے مسائل مقامی سطح پر حل ہونگے، ضلع خیبر میں روڈ انفراسٹرکچر کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے، محمود خان کا کہناتھاقبائلی اضلاع میں معدنیات کے لئے الگ قانون بنایا گیا ہے، ضم شدہ اضلاع میں معدنیات کی لیز صرف مقامی لوگوں ہی دئے جائیں گے، جبہ ڈیم کی بحالی پر کام شروع کیا گیا ہے، باڑہ ڈیم کی تعمیر کے لئے فیزیبلٹی اسٹڈی کروائیں گے، ان ڈیموں کی تعمیر سے علاقے میں پانی اور بجلی کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع خیبر میں پریس کلب سمیت دیگر سرکاری عمارتیں ترجیحی بنیادوں پر تعمیر کئے جائیں گے، خیبر پاس اکنامک کاریڈور کی منظوری ہوگئی ہے ۔یہ منصوبہ 18 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ ضلع خیبر میں اسیپشل اکنامک زون کے قیام پر بھی کام ہو رہا ہے، خیبر پاس اکنامک کاریڈور ، ڈی آئی خان، سوات اور چترال موٹروے منصوبوں کی تکمیل سے یہ صوبہ تجارتی حب بن جائے گا، قبائلی اضلاع میں مختلف صنعتی زونز قائم کئے جائیں گے، قبائلی اضلاع سمیت پورے کا مستقبل تابناک ہے، پیڈو کی پیدا کردہ بجلی ایک روپے فی یونٹ کے حساب سے مقامی صنعتوں کو فراہم کیا جا رہا ہے، اس اقدام سے صوبے میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا،ضم شدہ اضلاع میں پولیس سمیت دیگر محکموں کی خالی اسامیوں پر مقامی افراد کو بھرتی کیا جائے گا، وزیر اعلی نے علاقے میں ایک گرلز اور ایک بوائے ڈگری کالج کے قیام کا اعلان کیا۔ اگر فیزیبل ہوا تو ضلع خیبر میں کیڈٹ کالج بھی قائم کریں گے، قبائلی اضلاع میں تعلیم کے فروغ کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں گے، اب قبائلی بچوں کے ہاتھوں میں بندوق کی بجائے قلم اور کتاب ہونگے، وزیر اعلی کا تباہ شدہ گھروں کے مکینوں کے لئے ایک ہزار خیمے فراہم کرنے کا اعلان۔ علاقے میں کاروبار کو پہنچنے والی نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے ٹیمیں بھیجی جائیں گی۔