متاثرین کی جلد امداد اور آئندہ کیلئے لائحہ عمل کی ضرورت

ہمارے نمائندے کے مطابق دیربالا کے علاقہ املوک نار میں زمین سرکنے لگی ہے۔ زمین سرکنے سے دراڑیں آہستہ آہستہ بڑی اور گہری ہوتی جا رہی ہیں۔ علاقہ کی رابطہ سڑکوں میں دراڑیں پڑنے سے ٹریفک کی آمد ورفت بھی معطل ہوگئی ہے۔ دریں اثناء وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی کو ضلع چترال بالا کے دورے کے موقع پر بتایا گیا کہ قدرتی وسائل اور سیاحت کیلئے بے پناہ مواقع کا حامل علاقہ قدرتی آفات کے لحاظ سے بھی سب سے زیادہ خطرے کی زد میں ہے۔ پندرہ سال قبل آنے والے زلزلے کے بعد سے صوبے کے مختلف حصے کسی نہ کسی طرح آفات وحوادث کی زد میں ہیں، صوبے میں جہاں کئی مقامات پر خطرناک فالٹ لائینز ہیں وہاں ماحولیاتی اور موسمی تبدیلی کے باعث بھی سیلاب کی تباہ کاریاں،گلیشیرز کا شق ہونے اور پگھلنے کے باعث آبادی کو خطرات اور بعض علاقوں کے سرے سے صفحہ ہستی سے مٹنے کے خطرات ہیں۔ حال ہی کی ایک رپورٹ میںان مقامات کی تفصیلی نشاندہی کی گئی ہے اور اس کیلئے بین الاقوامی طور پر امداد کا بھی بندوبست ہورہا ہے۔دیر بالا کا املوک نار میں زمین سرکنے کا واقعہ علاقہ مکینوں کیلئے بالخصوص اور اردگرد کے علاقے کے لوگوں کیلئے بالخصوص تشویش کا باعث امر ہے، اس طرح کی صورتحال میں تو حکومت اور آفات سے نمٹنے کیلئے متعدد ادارے وضلعی انتظامیہ سبھی بے بس ہوتے ہیں سوائے اس کے کہ علاقے کے لوگوں کو جلد سے جلد محفوظ مقام پر منتقل کر کے ان کی عارضی وبعد ازاں مستقل رہائش کا بندوبست کیا جائے۔ دیر کے مذکورہ علاقے میں امدادی کام جاری ہے اور ان سطور کی اشاعت تک منتقلی کا کام مکمل ہونے کی بھی اُمید ہے جس کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ ماہرین ارضیات سے املوک نار کے علاقے میںزمین کے سرکنے کی وجوہات معلوم کر کے ان سے سفارشات لی جائیں اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ کتنا مزید علاقہ خطرات کی زد میں آسکتا ہے، وہاں کی آبادی کیلئے بھی متبادل بندوبست کیا جائے اس کیساتھ ساتھ اس امر کا بھی جائزہ لیا جانا چاہئے کہ اس کے اثرات سے کتنے دور تک علاقے متاثر اور کتنے علاقوں کو خطرہ ہوسکتا ہے اور اس کے تدارک کی اگر کوئی تدبیر ممکن ہو تو ایسا کرنے میں ظاہر ہے تاخیر کی گنجائش نہیں۔ حال ہی میں آنے والی رپورٹ کی روشنی میں جتنے بھی علاقوں کی نشاندہی ہو چکی ہے آفت کے ظہور سے قبل حکومت وہاں کے لوگوں کو منتقلی اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرے اور ان کی منتقلی وآبادکاری کا متبادل بندوبست جتنا جلد ممکن ہو سکے کیا جائے ۔
سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات
رواں ماہ کی ابتداء میں سرکاری ملازمین کے اسلام آباد میں احتجاج کے کچھ ہی دن بعد آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (ایپکا)، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور مختلف یونینز کا اپنے مطالبات کے حق میں اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرناحکومت کی توجہ حاصل کرنے کی ایک اور بڑی کوشش ہے۔ احتجاجی مظاہرے میں خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین اور خواتین کی بھی بڑی تعداد موجود تھیں۔ مظاہرین سروس اسٹرکچر بدلنے، پنشن، لائف انشورنس دینے، تنخواہوں میں اضافے اور انسداد پولیو مہم میں تحفظ دینے کے مطالبات دہرارہے تھے۔ایک ہی ماہ میں تھوڑے وقفے سے سرکاری ملازمین کا اسلام آباد میں دو بڑے احتجاج اس طرح کی صورتحال نہیں جسے نظر انداز کیا جا سکے اور نہ ہی ان کے مطالبات کو تادیر ٹالنا ممکن ہوگا۔ اسلام آباد میں خواتین ملازمین سمیت دیگر ملازمین کے مطالبات اس طرح نہیں کہ ان کو بلاجواز قرار دیا جا سکے بلکہ یہ بنیادی مطالبات ہیں جن کیلئے صوبائی سطح پر جدوجہد کے بعد اب ملازمین نے وفاق اور وزیراعظم پاکستان سے امیدیں وابستہ کرلی ہیں۔ان ملازمین کے جائز مطالبات حل کرنا حکومت کی ذمہ داری اور وقت کا تقاضا ہے اس ضمن میں حکومت کو جلد سے جلد لائحہ عمل مرتب کرنے اور خاص طور پر جن جن محکموں اور اداروں کے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں مہینوں سے واجب الادا ہیں ان کیلئے فوری فنڈز کا بندوبست کیاجائے تاکہ سرکاری ملازمین احتجاج کی بجائے اپنے کام پر توجہ دے سکیں۔
بی آرٹی رپورٹ
چینی کمپنی پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ ( بی آرٹی ) بسوں کو ایک ایسے موسم میں دوبارہ قابل سفر بنا رہی ہے جب یہاں کا موسم ٹھنڈا ہورہا ہے، بنابریں اصل صورتحال آئندہ سال جون جولائی اگست کے مہینوں ہی میں سامنے آئے گی کہ بسوں میں تبدیلی اور انتظامات وتنصیبات کو کس حد تک بہتر بنایا گیا ہے۔ فی الوقت تو کمپنی کی فراہم کردہ بسوں کا معیار ناقص اور حفاظتی اقدامات کا فقدان سامنے آیا ہے جو اپنی جگہ سوالیہ نشان ہے، ٹیسٹ سروس کے آخری مرحلے کے بعد بسیں پھر سے چلنا شروع ہوں تو اُمید کی جا سکتی ہے کہ شدید رش میں کمی اور بسوں پر اضافی اور ناقابل برداشت بوجھ کا کوئی حل تلاش کیا جا چکا ہوگا، بسوں کی تعداد میں اضافہ اور زو ایکسپریس سروس بھی چلے گی۔