وسائل ملیں گے تو ہی علاقہ ترقی کرے گا

وزیر اعظم عمران خان نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے تمام ضروری مالی وسائل فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ضم شدہ علاقوں کی بلا تعطل تعمیر و ترقی کیلئے پرعزم ہے، صوبوں کے محاصل اور آمدن کی ضلعی سطح پر شفاف اور منصفانہ تقسیم صوبوں میں یکساں تعمیر و ترقی کے عمل کیلئے از حد ضروری ہے، ماضی کی حکومتوں میں وسائل کا بڑا حصہ سیاسی ترجیحات کو مد نظر رکھتے ہوئے محض چند علاقوں تک محدود کر دیا جاتا تھا جس سے پس ماندہ علاقوں میں تعمیرو ترقی کا عمل متاثر ہوا اور ان علاقوں کے عوام میں احساسِ محرومی نے جنم لیا، صوبائی سطح پر آمدن بڑھانے کیلئے آؤٹ آف باکس سلوشنز پر غور کیا جائے۔ وزیر اعظم نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ محصولات کے حوالے سے اضلاع اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ان علاقوں سے حاصل ہونے والے وسائل کو انہیں علاقوں کی تعمیر و ترقی اور سہولیات کی بہتری کیلئے بروئے کار لایا جا سکے۔ اجلاس میں صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا کو واجب الادا پن بجلی منافع کے معاملے پر بھی غور کیا گیا اور اس معاملہ کے حل کیلئے ورکنگ گروپ تشکیل دیدیا گیا ہے تاکہ اس معاملے کو احسن طور پر حل کیا جا سکے۔ قبائلی اضلاع کی ترقی کی خواہش کا اعادہ وزیراعظم کی جانب سے ہر بار ہوتا ہے، وزیراعظم قبائلی اضلاع کیلئے خصوصی فنڈز کی فراہمی کی بھی یقین دہانی کراچکے ہیں لیکن عملی طور پر قبائلی اضلاع کی ترقی وتعمیر کا جب تک قبائلی عوام کی جانب سے اعتراف نہ کیا جائے اور ان کی جانب سے اطمینان کا اظہار سامنے نہ آئے حکومتی مساعی کو مزید مربوط اور بہتر بنانے کیلئے کام میں مزید تیزی لانے پر توجہ کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی بھی ترجیح قبائلی اضلاع کی ترقی ضرور ہے لیکن برسوں سے محرومی وپسماندگی کا شکار ان اضلاع کی مثال اس پیاسی زمین کی ہے جس پر جب تک ابر کرم کھل کر اور پوری طرح اور دیر تک نہ برسے وہ خشک ہی رہتی ہے اور اس کی پیاس کبھی نہیں بجھتی۔ قبائلی اضلاع میں حکومتی ترقیاتی منصوبوں کی مثال بس پھوار پڑنے کے بقدر ہے جس کے باعث برسہا برس سے مسائل اور مشکلات میں گھرے علاقوں میں ترقی کے اکا دکا کام ہی نظر آتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اگر قبائلی اضلاع کو شدید پسماندگی سے نکالنا چاہتی ہے تو قبائلی اضلاع میں میگا پراجیکٹس شروع کئے جائیں جسے قبائلی عوام دیکھ کر محسوس کر سکیں کہ حکومت ان علاقوں کو ترقی دینے میں سنجیدہ ہے۔ بڑے منصوبے شروع کر کے ہی قبائلی اضلاع میں کاروبار اور روزگار کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں، جس سے عوامی مسائل میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ تمام تر مساعی کے باوجود این ایف سی ایوارڈ کا تین فیصد حصہ خیبر پختونخوا کے حصے میں شامل نہیں کیا گیا ہے اور ایک صوبے جتنے علاقے کو صوبائی بجٹ سے حصہ دینے سے صوبے کے خزانے پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے بھی مطلوبہ رقم نہیں ملتی یہ ایک طویل عرصے سے حل طلب مسئلہ ہے اور جب تک این ایف سی ایوارڈ میں تیس فیصد حصہ صوبائی محاصل میں شامل نہیں ہوتا حوصلہ افزاء حالات کی توقع مشکل ہے۔ صوبے کو پن بجلی کے خالص منافع کے معاملے کو اس اجلاس میں حل کرنے کی بجائے کمیٹی کی تشکیل معاملے کو التواء کا شکار بنانے اور ٹالنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ قرض اور واجب الادا رقم کی ادائیگی کیلئے رقم کا بندوبست کیا جاتا ہے اس کیلئے کمیٹی بنانے اور سفارشات پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وزیراعظم کا صوبائی اور اضلاع کی سطح پر آؤٹ آف باکس سلوشنز کا مشورہ ملفوف انداز میں وسائل دینے سے انکار ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ صوبے اور اضلاع اپنے پلے سے مزید آمدنی کے ذرائع پر بہرحال توجہ دے رہے ہیں، گیس اور بجلی کی رائلٹی کو بھی تو اب ایک طرح سے ”آؤٹ آف باکس سلوشن” ہی بنا دیا گیا ہے جو اگر لیت ولعل اور تاخیر کا شکار بنانے کی بجائے صوبے کو دی جائے تو صوبے اور اضلاع کو اپنے وسائل کو مزید نچوڑنے اور عوام پر بوجھ ڈالنے کی ضرورت باقی نہ رہے۔ وزیراعظم عمران خان کی قبائلی اضلاع کی ترقی کی خواہش کی تکمیل اس امر کا متقاضی ہے کہ وفاق صوبے کو قبائلی اضلاع کے عوام کا حصہ دے اور یہاں کے وسائل سے مقامی لوگوں اور صوبائی حکومت کو استفادے کا پورا موقع ملے۔