کھیتوں میں بھوک اُگتی کب تک رہے گی یونہی

آج اکتوبر کے مہینے کی سولہ تاریخ ہے اور پاکستان سمیت ساری دنیا میں عالمی یوم خوراک منایا جارہا ہے، خوراک یا غذا انسان ہی کی نہیں ساری دنیا کے حشرات وحیوانات کی بنیادی ضرورت ہے، اس قول کی حقیقت جاننے کیلئے آپ صبح سویرے آسمان پر اُڑتے ان پرندوں پر نظر ڈال لیجئے جو اپنے گھونسلوں یا رین بسیروں سے نکل کر دانہ دنکا چننے کی تلاش میں اُڑنے لگتے ہیں، ان میں چہچہاتی چڑیاں بھی شامل ہوتی ہیں اور اپنی بھدی سی آواز میں کائیں کائیں کرتے کوے بھی، گوشت خور پرندے ان مقامات پر پائے جاتے ہیں جہاں ان کو زندہ رہنے کیلئے اپنی من بھاتی خوراک ملتی ہے، جب راقم السطور ریڈیو پاکستان پشاور میں ایک کمپیئر کی حیثیت سے ہوا کے دوش پر حاضری دینے نکلتا تھا، تو پشاور کے اس نشریاتی ادارے کی پرشکوہ عمارت کی چھت پر لگے انٹیناز پر درجنوں کی تعداد میں چیل اور کوؤں جیسے گوشت خور پرندوں کو دیکھ کر سوچا کرتا تھا کہ دانشوروں اور مبلغوں کے اس ادارے کی عمارت پر ایسے پرندوں کا کیوں قبضہ ہے، ہم شائد اس وقت تک اپنی اس بات کا کوئی جواب نہ پاسکتے جب تک ہمیں اس بات کا علم نہ ہوپاتا کہ جس مقام پر ریڈیو پاکستان کی آسمان سے باتیں کرتی اونچے اونچے انٹینا لگی عمارت ایستادہ ہے اس کے عین پیچھے ایک آدھ فرلانگ کے فاصلے پر چرگانو چوک ہے جہاں زندہ اور ذبح شدہ مرغیوں کا کاروبار ہوتا ہے اور یہ پرندے ریڈیو پاکستان کی اس اونچی عمارت کے انٹیناز پر اس لئے قبضہ جمائے بیٹھے ہیں کہ یہاں سے دور تک ذبح ہونے والی مرغیوں کی باقیات کو وہ اپنی چیل جیسی تیز نظروں سے بھانپ سکتے ہیں اور یہاں سے اُڑکر وہ ذبح شدہ مرغیوں کی باقیات سے اپنے پیٹ کی آگ بجھا سکتے ہیں، جب تک راقم السطور کا دانہ پانی شہر پشاور میں تھا، وہ ہر صبح فضا کی انتہائی بلندیوں میں زمین پر نظریں جماکر اُڑنے والی چیلوں کو دیکھا کرتا تھا، لیکن یہ عجیب اتفاق ہے کہ وہ آج کل پشاور شہر کی ہمسائیگی میں جس مقام پر اٹھ آیا ہے، وہاں چیل نام کی کوئی چیز فضاؤں میں اُڑتی نظر نہیں آتی، البتہ ہر صبح چڑیوں، بلبلوں، کوئلوں اور من بھاتے نغمے گاتے چہچہاتے پرندوں کی آوازوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا ہے، طوطے مینا اور کوے کوئل سب ہی اپنی رزق یا خوراک کی تلاش میں صبح دم نکلتے ہیں اور کبھی کبھی سفید رنگ کے وہ بگلے بھی نظر آجاتے ہیں جو جانان کلی کے پہلو میں بہتے دریا کی مچھلیوں کا شکار کرکے اپنے پیٹ کا دوزخ بھرا کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ رزق پہنچانے والا پتھر میں پلنے والے کیڑے کو بھی رزق پہنچاتا ہے لیکن سچ تو یہ بات بھی ہے کہ بھوک مٹانے والا کوئی بھی نوالہ اپنے آپ کسی کے پیٹ میں نہیں جاتا، بڑی محنت اور تگ ودو کرنی پڑتی ہے، میں نے رزق متلاشی پرندوں کا تذکرہ اس لئے کیا کہ آپ کو یہ اظہر من الشمس حقیقت یاد دلا سکوں کہ خوراک کے بغیر حیوان ناطق تو کیا جہاں بھر کے چرند پرند، حتیٰ کہ درخت اور پودے تک زندہ نہیں رہ سکتے، وہ اگر اس دنیا میں آئے ہیں تو اس خوراک کی وجہ سے جو انہیں شکم مادر میں ودیعت ہونے لگی اور اگر وہ زندہ ہیں تو اس خوراک کی وجہ سے جو انہیں زندگی بھر جینے کی آرزو میں تگ ودو کرتے ہوئے نصیب ہوتی رہی، صبح سویرے آپ اپنے گھر کے قریب کسی بھی گزرگاہ پر نظر ڈالیں آپ کو ہر کوئی کسی سواری پر یا پاپیادہ کہیں جاتا نظر آئے گا، یہ سب ایسا کیوں کر رہے ہیں، کسی کو دفتر میں پہنچنے کی جلدی ہے اور کوئی اپنی دکان کھولنے جارہا ہے، کوئی ٹیکسی رکشہ کی سواری کی تلاش میں ہے اور کسی کو ٹیکسی یا رکشہ یا بس لاری کے ذریعے اس مقام پر پہنچنے کی جلدی ہے جہاں اس کا اور اس کے زیرکفالت کنبے کے افراد کی رزق روٹی ملنے کے امکانات ہیں، رزق روٹی یا خوراک تلاش کرنے کی یہ تگ ودو صدیوں سے جاری ہے اور شائد اس وقت تک جاری رہے جب تک زندہ رہنے کیلئے کھانے پینے کی ضرورت ہو، کہتے ہیں کچھ لوگ کھانے پینے کیلئے زندہ رہتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہنے کیلئے کھاتے پیتے ہیں، زندہ رہنے کیلئے کھانے پینے یا خوراک کی تلاش کرنے والوں میں ایسے لوگوں کو کوئی کمی نہیں جن کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں آتی، آپ کو اگر میری بات کا یقین نہ آئے تو آپ کوڑے کے ڈھیروں میں رزق روٹی تلاش کرنے والوں کو ایک نظر دیکھ لیں، یہ فاقہ زدہ چیتھڑے پہنے لوگ آج 16اکتوبر کو عالمی یوم خوراک منانے والوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتے ہوئے اپنی زندگی کی اتنی بڑی قیمت ادا کرنے کا جواز پوچھتے ہیں، ایک اندازے کے مطابق 870ملین افراد بھوک اور افلاس کے ہاتھوں دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں، ایک طرف پیٹ پیٹ فاقے پل رہے ہیں اور دوسری طرف فاقہ مستی طرفہ تماشا رچائے بیٹھی ہے، چوری کاری، ڈاکہ زنی، عصمت فروشی اور جہاں بھر کے جرائم اس غربت اور خوراک کی کمی کے باعث جنم لیکر اپنے طاغوتی اور انسانیت سوز قہقہوں کے ذریعہ ہمارا مذاق اُڑا رہے ہیں اور ایسے میں عالمی یوم خوراک کے حوالہ سے منایا جانے والا آج کا یہ دن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ
کھیتوں میں بھوک اُگتی کب تک رہے گی یونہی
کب تک پیاسے کنویں، مانگیں گے بوند پانی
سستا رہے گا کب تک یہ خون اور پسینہ
کب تک رہے گی شہر میں ہر جنس کی گرانی