بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی

سیاست میں ایک یہی تو اچھی بات تھی کہ اس میں حرف آخر کچھ بھی نہیں۔ کوئی مستقل دوست ہے نہ دشمن۔ سیاست میں تو بات ہوتی تھی، بات سے بات چلتی تھی۔ ملاقاتیں ہوتی تھیں کبھی نتیجہ خیز اور کبھی بے نتیجہ لیکن بات چیت کے راستے کھلے رہتے تھے۔ آج ہم سیاست کی اس روایت سے بھی گئے۔ادھر حکومت منہ پھلائے بیٹھی ہے، ادھر اپوزیشن ادھار کھائے بیٹھی ہے، یہ آپس میں ملتے ہی نہیں۔ کوئی ایسا عشائیہ نہیں ہو رہا جہاں عمران خان، مریم نواز، بلاول، داوڑ، چوہدری، مولانا، ایم کیو ایم کے بھائی یہ سب مل بیٹھیں۔ پاکستان نہ سہی اس پاکستان کے دم سے چلتی اپنی سیاست بچانے کو ہی مل لیں۔ سوچتی ہوں آنے والے شادی بیاہ کے موسم میں کسی جنرل کے بیٹے بیٹی کی شادی کی تقریب ہی آجائے کہ سب ٹیکنوکریٹس، بیوروکریٹس، جج، مولوی، سیاست دانوں اور جنرلوں کو ایک دوسرے کا آمنا سامنا کرنا پڑے۔ انہیں ایک دوسرے کو شرمندہ کرنے، شکوے کرنے، آنکھیں دکھانے، کھری کھری سننے اور سنانے کا موقع ملے۔کاش کہ یہ سیاستدان دہکتے سلگتے ٹاک شوز کے علاوہ بھی کہیں ملیں، ایک دوسرے کو سنیں، یہ عوام کی جان بخشیں، یہ ان کے اعصاب پہ رحم کھائیں۔ایک دوسرے کو انجام سے ڈراتے، بپھرتے، غراتے لیڈرز کی پریس کانفرنسز دیکھ کر سخت بوریت ہونے لگی ہے۔ یہ سب آپس میں بات کیوں نہیں کرتے؟کیوں کوئی اتنا معترض ہوتا ہے کہ لندن میں جہانگیر ترین نواز شریف سے خفیہ طور پر ملیں۔ ملنے دیں! یہی تو سیاست ہے۔ اگر ن لیگ کے شرقپوری کی وزیراعلیٰ پنجاب بزدار سے ملاقات ہوتی ہے تو ہونے دیں، وفاداری ڈنڈے کے زور پہ نہیں کروائی جاتی۔اگر شیخ رشید جی ایچ کیو کے مہمانوں کی فہرست سناتے ہیں تو برا نہ منائیں، بس اتنا کریں کہ آئندہ پوری قوم کو بتا کر ملنے جائیں۔ بتائیں کہ یہ ملاقاتیں قوم کے بھلے کیلئے ہوتی ہیں۔ جہاں دو پاکستانی ایک چائے کے کپ پر ملتے ہیں اور پاکستان کا اچھا سوچتے ہیں، یقین جانیں لوگ تو اسے بھی جمہوریت کا حسن گردانیں گے۔کیا یوں اچھا ہے کہ سب اکڑ کر بیٹھ جائیں، بات کرنا تو کیا ایک دوسرے کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہ کریں؟ میثاق جمہوریت ایسے ہی رویوں کو ختم کرنے کی جانب بینظیر بھٹو اور نواز شریف کا پہلا قدم تھا نا؟ تو پاکستان کی خاطر ایسا ہی کوئی میثاق کیوں نہیں ہوسکتا، کوئی ارادہ کیوں نہیں باندھتا، بابائے مذاکرات نوابزادہ نصراللہ خان کا سا کردار کوئی کیوں نہیں نبھاتا۔ شاہد خاقان عباسی بھی تو ایسے ہی نیشنل ڈائیلاگ کی بات کر رہے ہیں۔بات چیت کے راستے ایسے مفقود ہوئے کہ وہاں ملٹری اسٹیبلشمنٹ بھی عجب ایک کشمکش میں گھری ہے۔ سیاستدانوں سے ملیں تو مشکل نہ ملیں تو دقت۔ یہاں سیاستدان بھی ان کے بغیر خالی خالی سا محسوس کرتے ہیں۔سلامتی کے معاملات سے لیکر سیاست تک فوج کی موجودگی بلکہ بالادستی سے انکار کسی کو نہیں۔ اپوزیشن کے نامور رہنما تو ایک سیٹ جیتنے تک کیلئے آرمی چیف کو فون ملا لیتے ہیں پھر اسی فوج کو بات چیت کی میز پر بٹھانے میں کیسی قباحت؟آپ قومی سطح پر مکالمہ نہ ہونے کے نقصانات دیکھ لیں، سب کو ایک دوسرے سے خطرہ ہے۔ بے اعتمادی اتنی ہے کہ وسوسوں کے سائے میں ملاقاتیں ہوتی ہیں اور پھر اسے خفیہ ملاقات کا نام دیکر راز فاش کئے جاتے ہیں۔صوبائی عصبیت پروان چڑھتی ہے، حکومت اپنے سب سے بدمزاج گھوڑے سامنے لاتی ہے، ذاتیات پہ حملے ہوتے ہیں، گندے الزامات کے سلسلے چلتے ہیں۔ دھمکیاں، گرفتاریاں، کریک ڈاؤن اس ساری مشق میں عوام اور ان کے مسائل دور کہیں بہت دور رہ جاتے ہیں۔افہام وتفہیم کی بات کرنے والے کو کہا جائے کہ ڈر گیا، ملاقات کرنے والے کو کہیں بِک گیا، مل بیٹھنے کے حامی کو کہیں جھک گیا، تو سیاست میں قومی مفاد نہیں صرف ضد، انا پرستی رہ جائے گی۔ بات نہیں سنی جاتی تو ادھر تم ادھر ہم یعنی سانحہ مشرقی پاکستان ہو جاتا ہے۔کیوں پھر کسی حادثے کے منتظر رہیں، کیوں بار بار پردے سرکا کے دیکھیں کہیں سیاست کی شام ڈھلتے ڈھلتے آمریت کی سیاہ رات تو نہیں آ گئی۔ کیوں وقت کی پٹری پہ کان رکھ کر سنیں کہ کہیں جمہوریت کی ریل لڑھک تو نہیں گئی، کیوں خود ہی برپا شور کریں اور اس میں بوٹوں کی آہٹوں کو ٹٹولتے رہیں۔حکومت گرانے، حکومت بنانے کے اس کھیل میں ملک کا نقصان پہلے ہی بہت ہوچکا، کیوں نہ سیاست میں ایک قومی سطح کے مکالمے کا آغاز کریں۔ملک میں نوجوانوں کی اکثریت کو انتقامی سیاست کی بجائے مثبت سیاسی ماحول چاہئے۔ مفاہمت، مذاکرات، بات چیت کی طاقت بولنے نہیں ایک دوسرے کو سننے میں چھپی ہے اور ایک دوسرے کو سننے کا اصل جوہر ایک دوسرے کو سمجھنا ہے۔یا تو یہ ہو کہ ہمیں پاکستان کے علاوہ کوئی دوسری شہریت، قومیت اور کسی دوسری زمین سے انسیت ہو تو پھر ہم شوق سے تماشا دیکھیں لیکن اگر یہی مٹی نصیب کے سب امکان لئے ہوئے ہے، اگر سب کی سیاست اسی زمین سے جڑی ہے تو پھر کیوں نہ اس وطن کے پنپنے کی بات کریں۔