دھاندلی اور احتساب ایک قصۂ ناتمام

حکومت نے اپوزیشن کو جلسوں کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن کو جلسوں کے این او سی جاری کئے جائیں گے تاہم انہیں کورونا ایس او پیز کا خیال رکھنا ہوگا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج اور جلسے کرنا اپوزیشن کا حق ہے۔ احتجاج کی آڑ میں انتشار کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اپوزیشن کی تحریک سیاسی ایلیٹ کے مفادات کیلئے ہے، اپوزیشن حکومت پردباؤ ڈال کر کرپشن کیسز سے نجات چاہتی ہے۔ پی ڈی ایم کی گیارہ جماعتیں گوجرانوالہ سے احتجاجی جلسوں کا آغاز کر رہی ہیں۔ یہ پنجاب کا وہ علاقہ ہے جو مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اسلئے پہلے جلسے سے ہی اپوزیشن اپنا ایک رنگ دکھانے اور دھاک جمانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن میں گزشتہ دو برس میں جو خلیج پیدا ہوچکی ہے اس کے کم ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں، اپوزیشن کے زخم اور درد بہت پرانے ہیں۔ موجودہ حکومت کا قیام ان زخموں کو ناسور بنانے کا باعث بنا اور حکومت نے بھی ان زخموں کو مندمل کرنے اور ان پر مفاہمت کا پھاہا رکھنے کی بجائے طعنوں اور غیرمفاہمانہ پالیسیوں کے باعث نمک پاشی ہی کی۔ وزیراعظم عمران خان کی کوئی بھی تقریر، انٹرویو اور بیان این آر او نہیں دوں گا کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اپوزیشن کی ساری سرگرمیوں کا مرکز ومحور کرپشن کیسز سے نجات اور حکومت کو اس حوالے سے نرم مؤقف اپنانے پر مجبور کرنا ہے۔ حکومت جنرل مشرف کے بعد اب این آر او پارٹ ٹو کے ذریعے ماضی کی حکمران جماعتوں کو حیاتِ نو نہیں دے سکتی۔ اپوزیشن حکومت کو دھاندلی کی پیداوار تو قرار دے رہی ہے مگر ابھی تک اس حوالے سے الیکشن کمیشن میں ایک عذرداری دائر نہیں کرائی گئی۔ موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے تو گزشتہ انتخابات جس میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی تھی، آصف زرداری کے بقول این آر اوز کی پیداوار تھی۔ عمران خان نے بھی اس الیکشن کیخلاف طویل المیعاد دھرنا دیا تھا۔ اس سے پہلے کا جو الیکشن ہوا وہ جنرل مشرف اور شہید بینظیر بھٹو کے درمیان دوبئی مفاہمت کا نتیجہ تھا گویاکہ انتخابات سے پہلے ہی عوامی رائے کو ایک کیک کی طرح تقسیم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
دوبئی مذاکرات میں یہ طے ہوچکا تھا کہ بینظیر بھٹو وزیراعظم اور جنرل مشرف صدر ہوں گے، اس تقسیم کیلئے انتخابات کے انعقاد اور عوامی رائے معلوم کرنے کا انتظار نہیں کیا گیا۔ اس سے پہلے جنرل مشرف نے جو الیکشن کرایا اس کے بارے میں لندن میں بینظیر بھٹو نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں انتخابات سے پہلے ہی اقتدار کی تقسیم کر دی گئی ہے اور صوبہ سرحد مذہبی جماعتوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ نوے کی دہائی میں انتخابات میں چمک اور ریگ مال کے استعمال کی اصطلاحات دھاندلی کیلئے ہی استعمال ہوتی تھیں۔ نوے کی دہائی میں میاں نوازشریف نے بینظیر حکومت کیخلاف تحریک نجات اور بینظیر بھٹو نے نوازحکومت کیخلاف ٹرین مارچ شروع کیا تھا۔ ان دونوں تحریکوں میں انتخابی دھاندلی کا الزام سرفہرست ہوتا تھا، یہ پاکستان کی ماضی قریب کی سیاسی اور انتخابی تاریخ کا سرسر ی جائزہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انتخابی دھاندلی اور فنکاری ہر دور میں کسی نہ کسی انداز میں جاری رہی ہے۔ ہر ہارنے والی جماعت نے جیتنے والی جماعت پر دھاندلی کا الزام عائد کیا۔ ہر جیتنے والے نے ہارنے والے کے آنسو پونجھتے ہوئے اسے عوام کا فیصلہ تسلیم کرنے کا مشورہ دیا اور اسے پانچ سال تک عوام کا فیصلہ تسلیم کرنے کا مفت مشورہ دیا جاتا رہا۔ یہاں عوام کے بھاری مینڈیٹ کو بھی ہارنے والے نے انتہائی ہلکا بنا کر پھبتی کسی یہ حکمران کیا ہر وقت ”مینڈک مینڈک” کرتے پھرتے ہیں۔ کچھ یہی تاریخ کرپشن کی کہانیوں اور داستانوں کی بھی ہے۔ ہر حکومت نے احتسابی ادارے بنا کر مخالفین کا قافیہ تنگ کیا مگر عملی طور پر قومی خزانے کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس سیاسی تاریخ کے ہوتے ہوئے اپوزیشن نے جلسے جلوس کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اپوزیشن اپنا مافی الضمیر چھپانے کی بجائے صاف لفظوں میں کہہ رہی ہے کہ ان کی مہم کا مقصد موجودہ حکومت کا خاتمہ ہے۔ اس مقصد کے تحت شروع ہونے والی مہم میں تصادم اور توڑ پھوڑ کے خدشات موجود رہتے ہیں کیونکہ کئی قوتیں درپردہ مقاصد کے تحت پرامن احتجاج کو تشدد کی جانب لے جانا چاہتے ہیں، اس دوران حادثات بھی رونما ہوتے ہیں۔ حکومت نے بہت اچھا کیا کہ اپوزیشن کو جلسے جلوس کی اجازت دیدی۔ پریشر ککر کا ویٹ اُٹھانے کی طرح اپوزیشن کو اپنے جذبات کے اظہار کا موقع ملنا بھی ضروری ہے۔ جذبات کا بھاپ اندر ہی رہے تو پریشر ککر دھماکے سے پھٹ جاتا ہے اور جذبات کی بھاپ نکلتی رہے تو توازن برقرار رہتا ہے۔ حکومت نے اپنا فرض پورا کیا اب اپوزیشن کو قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوئی بھی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ اپنی بات پرامن انداز میں عوام تک پہنچانی چاہئے اور عوام اگلے انتخابات میں اپنا فیصلہ سنا کر دودھ کا دودھ پانی کا پانی کردیں گے۔