رزمک اورگوادر میں دہشت گردی کے واقعات

ایک ہی روز شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک اور بلوچستان کے ساحلی علاقہ گوادر میں دہشتگردوں کے حملے میں پاک فوج کے ایک کپتان سمیت21 جوانوں کی شہادت دہشت گردی کی وارداتوںکے عود کر آنے کا عندیہ ہیں۔ دو روز قبل ہی باجوڑ میں سرحد پار سے دہشت گردوں کی فائرنگ سے پاک فوج کا ایک جوان شہید اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔ان واقعات سے ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور نہ ہی دہشت گردوں کا مکمل صفایا ہوا ہے بلکہ ان کی باقیات متحرک ہیں۔ان واقعات سے سیکورٹی کی صورتحال کو لاحق خطرات کا بھی اظہار ہوتا ہے۔پاکستان جب بھی استحکام کی منزل کے قریب ہوتا ہے اور پاکستان وافغانستان کے درمیان معاملات طے ہونے لگتے ہیں دونوں ممالک میں یکے بعد دیگرے یا پھر کسی ایک ملک میں اس طرح کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ حالیہ واقعات بھی افغانستان کے ایک اعلیٰ حکومتی وفد کے کامیاب دورہ پاکستان کے بعد رونما ہوئے جس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ خفیہ ہاتھ ایک مرتبہ پھر دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان غلط فہمی پیدا کر کے دونوں کے تعلقات کو معمول پر آنے سے روکنے اور خاص طور پر افغانستان میں بین الافغان مذاکرات کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔ بلوچستان میں بھی جہاں دشمن کارندے چھپ کر حملے کر رہے ہیں ان کی کمین گاہیں پاک افغان سرحد کی دوسری جانب ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں بین الاقوامی اہمیت کے حامل پاک چین اقتصادی راہداری کے اہم منصوبے بھی ایسی وجوہات ہیں جو خطے میں متحرک تخریب کار عناصر کو کھٹکتے ہیں۔ پاکستان کو اس ساری صورتحال کا بخوبی ادراک ہے اور وہ اس کیلئے پوری طرح نہ صرف تیار ہے بلکہ گزشتہ کئی سالوں سے وہ ان حالات پر قابو پانے کی سعی میں ہے اگرچہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں آچکی ہے لیکن اکا دکا واقعات کی روک تھام ابھی باقی ہے۔ مشکل امر یہ ہے کہ افغان حکومت اپنے سرحدی علاقے میں سرحدی دفاع اور پاکستان دشمن عناصر کیساتھ نمٹنے کی ذمہ داریوں کو ہنوز پورا کرنے میں ناکام ہے، دفاعی طور پر افغانستان کی فوج کی صلاحیتوں اور وسائل کی کمی اپنی جگہ ایک حقیقت ضرور ہے البتہ افغانستان کو سیاسی طور پر اس کا مکمل ادراک کرنے اور پاکستان دشمن عناصر کی اپنے ملک سے صفایا کرنے یا پھر کم ازکم معلوم عناصر کو قابو میں رکھنے کی ذمہ داری نبھانے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کو اس امر کا ادراک ہونا چاہئے کہ دہشت گرد پاکستان اور افغانستان دونوں کیلئے خطرہ ہیں ،جہاں تک ملک کے اندرونی دفاع کا تعلق ہے اس حوالے سے قوم کو اطمینان ہے کہ پاکستان اپنے داخلی وخارجی دفاع اور امور ومعاملات میں سنجیدہ پرعزم اور مکمل صلاحیت کا حامل ملک ہے۔ پاکستان نے اپنی سرحدوں کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا صفایا کرنے اور ان کا قلع قمع کرنے میں جرأتمندانہ کا میابی حاصل کی ہے۔سرحد پار سے آنے والے عناصر کی روک تھام میں اگر افغانستان کی حکومت اپنا کردار ادا کر سکے تو اُمید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں اس طرح کے واقعات پر قابو پایا جاسکے گا۔ وزیرستان اور بلوچستان کے واقعات سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ دشمن ایک مرتبہ پھر پاکستان میں عدم استحکام کا کوئی منصوبہ بنا چکا ہے جسے ناکام بنانا جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے اور وہ یہ ذمہ داری بخوبی نبھا بھی رہے ہیں وہاں ہمیں بھی چاہئے کہ ہر محب وطن پاکستانی داخلی استحکام برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ مل جل کر ملک کیخلاف سازشوں کو ناکام بنایا جاسکے۔