لیڈی ہیلتھ ورکرز کے حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام

ویب ڈیسک: رخسانہ انور صدر لیڈی ہیلتھ ورکرز کی میڈیا سے گفتگو، ان کا کہنا تھا کہ سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کے ساتھ مذاکرات کے لیے گئے تھے، ساتھ پنجاب کا مسلہ نہیں پورے ملک کا مسلہ تھا ،چھ گھنٹے کے مزاکرات کے بعد مسلہ حل نہیں ہوا ،ہمیں مزاکرات کے لیے بلا کر ہراساں کیا، لیڈی ہیلتھ ورکرز کا حکومتی مذاکراتی ٹیم پر ہراساں کرنے کا الزام.

ان کا کہنا تھا کہ چاروں طرف سے ہمیں قید کردیا گیا ، ہمیں تنگ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، اگلا لائحہ عمل پارلیمنٹ کے اندر جانا ہے، آرمی چیف سے مطالبہ ہے کہ ہمارے مطالبات مانے، حکومتی وفد کسی ایک نقطے پر بھی راضی نہیں تھے،مجھ سمیت چھ لوگوں کو ٹرمینٹ کیا گیا.

ان کا کہنا تھا کہ 2018 اور 2019 میں ہم نے دھرنا دیا تھا ،ڈاکٹر یاسمین راشد کے رائٹ ہینڈ کو ہم نے بے نقاب کیا تھا ،ہمارے ساتھ انتقامی کارروائی ڈاکٹر یاسمین راشد نے کی، حکومتی وفد نے تحریری طور پر مذاکرات ماننے سے انکار کیا،اگر ہمارے خلاف انتقامی کارروائی نہ روکی گئی تو ان کے اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے،پیر کے روز گیارہ بجے ہم پارلیمنٹ ہاؤس کا رخ کریں گے.