مشرقیات

ایک اللہ کا بندہ ایسی پریشانیوں میں گھر گیا کہ کچھ نہ پوچھئے۔ مرتا کیا نہ کرتا ایک ایسے شخص کے پاس پہنچا جسے اللہ تعالیٰ نے بہت کچھ دے رکھا تھا۔ بڑا گھر، بڑا کاروبار، نوکر چاکر، بال بچے سبھی تھے، ہر دن عید اور رات شب برأت کی کیفیت تھی۔ سکھ کے اس زمانے میں اُسے دکھ کا احساس ہی باقی نہ رہا تھا۔ وہ اللہ کا بندہ جو پریشانیوں میں گھر گیا تھا اس کے پاس پہنچا اور اپنی بپتا سنائی۔ وہ مالدار تو پیسے کا دیوانہ تھا، مدد کیلئے اپنی گرہ سے کچھ خرچ کہاں سے کرتا؟ اس پریشان آدمی کو ڈانٹ کر بھگا دیا، دولت کا نشہ جو تھا! سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم کو کسی (مجبوری) سے ان (غربائ) سے مُنہ پھیرنا پڑے تو نرمی سے ان کو سمجھا دو۔لوگ سوچتے ہیں ہم اس لئے تو نہیں کماتے کہ دوسروں کو دیں! ہم کماتے ہیں ہماری مرضی گانے بجانے، پینے پلانے پر صرف کریں یا کسی اور طرح کوئی ہمیں پوچھنے والا کون؟ دوسروں کی مدد کی ہم پر کیا ذمہ داری؟ یہ ٹھیٹ سرمایہ دارانہ ذہنیت ہے۔ کمیونزم کمانے میں اتنا پابند کر دیتا ہے کہ خرچ کرنے کو کچھ باقی ہی نہیں رہتا اور پھر وہ دوسروں پر خرچ کرے بھی کیوں؟ ثواب کا کوئی تصور ہی ان کے پاس نہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ دولت اللہ تعالیٰ کی امانت ہے جو کچھ تم کماؤ اس پر صرف تمہارا ہی حق نہیں دوسروں کا بھی حق ہے، جب تک تم اس بات کا خیال نہ رکھو گے، روپیہ گردش نہ کرے گا اور معاشرے میں اونچ نیچ بہت رہے گی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے کمائی خرچ کرنے پر کچھ پابندیاں بھی لگائیں، کچھ ترغیبات بھی سامنے رکھیں، پابندیوں میں زکوٰة ہے، فطرہ ہے۔ ترغیبات یہ کہ صدقہ وخیرات کرو اچھی بات ہے اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ حالت تنگ دستی میں بھی دوسروں کی مدد کرو! کوئی مسلمان اگر دولت رکھ کے بُخل کرے تو اللہ پاک بہت جلد اُس کی دولت چھین لیتا ہے چنانچہ غریب آدمی جب امیر کے دروازے سے ناکام بڑھا دیا گیا تو اس کیساتھ ہی امیر کے گھر کی ساری برکتیں بھی چلی گئیں۔ عبداللہ بن اوفیٰ کہتے ہیں ارشاد نبویۖ ہے کہ جن میں ہمدردی کا جذبہ نہ ہو ان پر کوئی رحمت نازل نہیں ہوتی۔ ہمت ایک بہت بڑا ہتھیار ہے اس سے بڑا کام لیا جاسکتا ہے، جو ہمت نہ ہارے اس سے بڑا آدمی اور کوئی نہیں جو ہمت ہاردے پھر کہیں کا نہیں رہتا۔ اس پریشان حال آدمی نے حوصلہ نہ ہارا، محنت پر کمر باندھی اور اللہ تعالیٰ نے بہت جلد اس کے دن پھیر دیئے۔