ٹیکنالوجی کے پرائیویسی پر اثرات

جدید ٹیکنالوجی کے جہاں بے شمار فوائد ہیں وہیں پر اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں، ہم ٹیکنالوجی میں چونکہ دنیا سے بہت پیچھے ہیں اس لئے فی الوقت ہماری نظر ان نقصانات کی طرف نہیں جا رہی ہے کیونکہ ہم میں سے بہت سے تاحال جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ناواقف ہیں اور جو واقف ہیں وہ بھی خاص حد تک ہی اس کا استعمال جانتے ہیں جبکہ آج کیمونیکیشن سے لیکر بینکنگ کے تمام معاملات جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انجام پا رہے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دور میں صرف آن لائن شاپنگ ہی نہیں ہوگی بلکہ زندہ رہنے کیلئے بھی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہوگا کیونکہ ٹرانسپورٹ اور زندگی کے عام معاملات بھی ٹیکنالوجی پر منتقل ہونے والے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے استعمال کی حقیقت اپنی جگہ لیکن ایک مسئلہ جس سے عنقریب کروڑوں لوگ متاثر ہونے والے ہیں اس سے صارفین آگاہ ہیں اور نہ ہی حکومتوں کی اس پر نظر ہے، وہ مسئلہ ہے عام شہری کے پرائیویسی اور نجی معلومات کا کیونکہ جب آپ ای میل کا اکاؤنٹ بنانا چاہتے ہیں یا کسی بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنا اکاؤنٹ بنانا چاہتے ہیں تو وہ آپ سے شناخت کے نام پر متعدد سوالات کرتے ہوئے نام، فون نمبر اور ملک کے نام سمیت دیگر معلومات لے لیتے ہیں، صارف اس بات سے بے نیاز ہو کر کہ معلومات کی فراہمی اسے کسی مشکل میں بھی ڈال سکتی ہے جھٹ سے ان سوالوں کے جواب دیتا چلا جاتا ہے، آن لائن شاپنگ کیلئے تو صارفین کو ڈیبٹ کارڈ وغیرہ سے پیمنٹ کرنی پڑتی ہے اس میں اکاؤنٹ کی معلومات بھی کمپنیوں کے پاس چلی جاتی ہیں، سو ضروری ہے کہ صارفین کی پرائیویسی اور نجی معلومات کو محفوظ بنانے کیلئے حکومتی سطح پر کوئی ٹھوس اقدام اُٹھایا جائے تاکہ صارفین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایف اے ٹی ایف کی40سفارشات میں سے ایک ملک میں شہریوں کی ذاتی معلومات (ڈیٹا) اور ان کی پرائیویسی کے تحفظ پر قانون سازی بھی تھی، تاہم مہینوں کی مشاورت کے باوجود اس حوالے سے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا تیار کردہ قانون ابھی تک اسمبلی میں نہیں لایا جا سکا۔ ایف اے ٹی ایف کے علاوہ انٹرنیٹ کے صارفین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کا بھی دیرینہ مطالبہ ہے کہ پاکستان ایک ماڈرن قانون لائے جس سے شہریوں کی ذاتی معلومات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ایف اے ٹی ایف کی ذیلی تنظیم ایشیا پیسفک گروپ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کے پاس ڈیٹا کے پروٹیکشن کیلئے کوئی علیحدہ قانون موجود نہیں ہے۔ پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی سرمایہ کاری کیخلاف تقاضوں کو ڈیٹا پروٹیکشن اور پرائیویسی رولز کیساتھ ہم آہنگ بنانا ہوگا۔ پاکستان میں شہریوں کی معلومات کو محفوظ بنانے کیلئے قانون کا جو مسودہ تیار کیا جا رہا ہے وہ کافی حد تک یورپی قواعد یعنی جی ڈی پی آر سے مشابہ ہے تاہم جی ڈی پی آر میں یورپ کے رہنے والے تمام افراد کو جو حقوق حاصل ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں کہ اپنے بارے میں معلومات تک رسائی، اپنی معلومات کو ختم کرنے یا بھول جانے کا حق، یہ جاننے کا حق کہ آپ کی معلومات کو کیسے استعمال کیا جائے گا، یہ حق کہ اپنی معلومات میں موجود غلطیوں کو دور کر سکیں، اپنی معلومات کے استعمال کو روکنے کا حق، اپنی معلومات کو دوسری جگہ استعمال کرنے کا حق، اپنی معلومات کے استعمال پر اعتراض کرنے کا حق۔ اسی طرح یہ حق کہ آپ کی معلومات خودکار استعمال کے ذریعے آپ کی پروفائلنگ کیلئے استعمال نہ ہوں۔ اسی طرح اگر آپ کی معلومات کسی طرح چوری ہو جائیں تو آپ کا حق ہے کہ ڈیٹا رکھنے والی کمپنی آپ کو اطلاع دے۔ تاہم یورپ کے جدید قانون میں بھی آپ کی معلومات کے تحفظ سے کچھ چیزیں مستثنیٰ ہیں جیسا کہ قومی سلامتی کیلئے آپ کی معلومات استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح شماریاتی تجزئیے اور ملازمت کے تعلق میں بھی آپ کی معلومات کا استعمال آپ سے پوچھے بنا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اب یہ دیکھنا ہوگا کہ نئے قانون میں کیا ایسے تمام حقوق پاکستانی شہریوں کو بھی حاصل ہوں گے۔
پاکستانی مسودے کے مطابق ایک خودمختار ڈیٹا اتھارٹی بنائی جائے گی جو اس بات کو یقینی بنائے گی کہ حکومتی اور پرائیویٹ ادارے عوام کی معلومات، تصاویر اور ویڈیوز کو ان کی مرضی کے بغیر استعمال کریں اور نہ ہی انہیں شیئر کریں۔ نئے قانون کے تحت کسی بھی شہری کے ڈیٹا کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور کسی کی مرضی کیخلاف اس کی معلومات جیسے فون نمبر، ای میل، تصاویر، ویڈیوز، قومی شناختی کارڈ نمبر، بینک اکاؤنٹ نمبر اور میڈیکل رپورٹس شیئر کرنا قابل سزا جرم ہوگا۔ ذرائع کے مطابق ڈیٹا کنٹرول کرنے والے ادارے جیسے نادرا، سیف سٹی پروجیکٹ وغیرہ اس کو پروسیس کرنے والے جیسے موبائل فون کمپنیاں وغیرہ اور اس کا استعمال کرنے والے عام صارفین اور شہری نئے قانون کے دائرے میں آئیں گے۔
پاکستان میں شہریوں کی معلومات کو محفوظ بنانے کیلئے قانون سازی میں برق رفتاری کی ضرورت ہے کیونکہ اس معاملے میں جس قدر تاخیر کی جائی گی وہ شہریوں کیلئے پریشانی کا باعث بنے گی۔