ہمارے قبائلی علاقے بازوئے شمشیر زن

ہمارے قبائلی علاقے ہمارے ملک کے بازوئے شمشیر زن ہیں اور یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ جب بھی ضرورت پڑی یہ نہتے بھی ملک کی حفاظت کیلئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ بھارت کیساتھ کشمیر کی پہلی جنگ تو انہی مجاہدین نے لڑی اور کشمیر کی آزادی کا سہرا اپنے سر باندھا، یہی قبائلی مغربی سرحد پر چوکس کھڑے رہے اور اسی لئے ہماری یہ سرحد بغیر باقاعدہ فوج کے بھی محفوظ تصور کی جاتی رہی۔ قیام پاکستان سے ہی یہ قبائلی پاکستان کے وفادار بلکہ انتہائی وفادار رہے ہیں۔ قائداعظم کے قبائلی علاقوں کے دورے کے موقع پر ان کے فقیدالمثال استقبال سے لیکر اب تک یہ قبائلی ہر قسم کے ملک دشمن عناصر کیخلاف ہمیشہ سینہ سپر رہے اور پاکستان کی عزت وتوقیرکا باعث بنے ہیں لیکن بیچ میں ایک ایسا وقت بھی آیا کہ یہی قبائلی علاقے دشمن کی سازشوں کی آماجگاہ بن گئے تھے۔ پاکستان میں دہشتگردی کی طویل جنگ میں نہ صرف یہ علاقے بری طرح متاثر ہوئے بلکہ یہی سے دہشتگرد بن بن کر نکلتے رہے اور پورے ملک میں فساد پھیلایا جاتا رہا اور ملک کا امن ہر وقت داؤ پر لگا رہا۔ انہی علاقوں میں دشمن بارود اور آگ کی فیکٹریاں بناتے رہے اور افغانستان کے راستے یہاں دہشتگردوں کو داخل کیا جاتا رہا اور اب بھی جب بھی موقع ملتا ہے ایسا کر لیا جاتا ہے۔ اسی مداخلت کے پیش نظر پاکستان کو اپنے محدود وسائل میں طویل پاک افغان سرحد پر خاردار تار لگانا پڑی تاکہ اس مداخلت کو روکا جاسکے، تاہم اب بھی افغان مہاجرین کی موجودگی کی وجہ سے ہم مکمل طور پر محفوظ نہیں کیونکہ ان مہاجرین کیساتھ ساتھ ملک دشمن عناصر بھی سرحد پار کر لیتے ہیں اور قبائلی علاقوں میں ان کی رشتہ داریاں ہونے کی وجہ سے ان کیلئے وہاں رک کر منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ ”را” کے سدھائے ہوئے یہ لوگ جو خاص کر پاکستان کے تناظر میں تربیت یافتہ ہوتے ہیں اپنے ان قبائلی رشتہ داروں کو بھی کانوں کان خبر نہیں ہونے دیتے کہ وہ کس نیت سے آئے ہیں اور یوں یہ قبائلی علاقوں کی بدنامی کا باعث بن جاتے ہیں۔ تاہم کئی دہائیوں کے نقصان اُٹھانے کے بعد اب یہ قبائلی بھی اس بات کو سمجھ چکے ہیں کہ سرحد پار سے ہر آنے والا ان کا دوست نہیں ہوتا اور ان کے اسی محتاط روئیے کی وجہ سے اب وہ اپنی حفاظت بہتر طور پر کر سکتے ہیں اور پاک فوج کی انتھک اور بے مثال کوششوں اور قبائلی عوام میں شعور کی بیداری کی وجہ سے اور اللہ پاک کے فضل سے ان کارروائیوں میں نمایاں کمی آچکی ہے اور جہاں ملک میں امن قائم ہوا ہے وہیں ان ضم شدہ قبائلی علاقوں میں ترقی کا سفر بھی شروع ہوگیا ہے۔ اچھے تعلیمی اداروں کے قیام سے یہاں کے عوام کو بہتر تعلیمی سہولتیں میسر آگئی ہیں خوبصورت اور کشادہ سڑکوں نے فاصلوں کو کم کرکے ان علاقوں میں آمدورفت کو آسان بنا دیا ہے جس سے وہاں کے لوگ ملک کے دوسرے علاقوں میں باآسانی آجاسکتے ہیں اور گھل مل کر بہتر اور پرامن زندگی کے ثمرات حاصل کرنے کی خواہش کر سکتے ہیں اور اسے حاصل کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں شاید پہلی بار صحت کی بہتر سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور اب یہ لوگ بھی خود کو ترقی یافتہ دنیا کے شانہ بہ شانہ لانے کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں اور ایسا ہو بھی رہا ہے۔ ان سارے حالات میں جبکہ زندگی ان علاقوں میں واپس لوٹ رہی ہے پی ٹی ایم جیسے لوگ اب اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ یہ علاقے ترقی کی دوڑ میں شامل ہوں اور ان کی منفی سیاست کا خاتمہ ہوجائے لیکن یہاں کے لوگ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اب وہ مزید کسی شازش کا شکار نہیں ہوںگے جس کا ایک ثبوت باجوڑ بار کونسل میں محسن داوڑ کیساتھ شرکاء کا سلوک ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ یہ لوگ اب ان لوگوں کو مزید بیوقوف نہیں بناسکتے۔ اس بات کا ایک اور خوشگوار ثبوت اس بار کی پاکستان ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ بھی ہے جس میں ان علاقوں کی بھرپور نمائندگی موجود تھی اور پندرہ ایسے کیڈٹ پاس آؤٹ ہوئے جن کا تعلق ان علاقوں سے تھا بلکہ قائداعظم گولڈ میڈل بھی وزیرستان کے ایک کیڈٹ جنید خان نے حاصل کیا۔ مجھے ذاتی طور پر اس بات کا تجربہ ہے کہ میرے ایسے کئی طالبعلم جن کا تعلق فاٹا سے ہے وہ اس وقت یا تو پی ایم اے میں زیرتربیت ہیں یا بے شمار ایسے ہیں جو اس کا حصہ بننے کی بھرپور خواہش رکھتے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے قبائلی اضلاع اب قومی دھارے میں مکمل طور پر شامل ہو چکے ہیں اور اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو یہ پیغام دے چکے ہیں کہ اب وہ اپنے علاقے، شہر اور دیہات ان کے مذموم عزائم پورے کرنے کیلئے کسی بھی دشمن کے حوالے نہیں کریںگے اور وہ پاکستان کے وسائل میں بھی اور مسائل میں بھی اسی طرح شریک ہوںگے جیسے کہ پاکستان کا کوئی بھی دوسرا شہری ہے اور وہ دن دور نہیں جب ان کے علاقے کراچی، پنڈی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ کے شانہ بہ شانہ چل سکیںگے۔ انشاء اللہ۔