رواں برس اہم عالمی شخصیات پاکستان کا دورہ کریں گے

ویب ڈ یسک( اسلام آباد )رواں برس متعدد اہم عالمی شخصیات پاکستان کا دورہ کریں گی ۔ پاکستان کا دورہ کرنے والوں والی اہم شخصیات میں بوسنیا ہرزیگووینا کے چئیر مین آف پریئڈ نسی , ترک وزیر خارجہ میلوت چاوش اوگلو,کینیا کے صدر اورو کینیاٹا, کینیائی وزیر خارجہ رچل اومامو,انڈونیشیائی وزیر خارجہ ریتنو مارسودی اور افغان راہنما گلبدین حکمتیار شامل ہیںبوسنیا ہرزیگووینا کے صدر اور چئیر مین آف پریئڈ نسی ملورڈ ڈوڈک 21 اکتوبر کو پاکستان کا دورہ کریں گے۔ 21 سے 23 اکتوبر جاری رہنے والے دورے میں بوسنیا ہرزیگووینا کے صدر کے ہمراہ ایک اعلی سطح کا بوسنیائی وفد بھی ہو گا۔, زرائع کے مطابق 17 رکنی وفد کا اسٹیٹ گیسٹ قرار دیتے ہویے کورونا ٹسٹ سے استشنی دیا جایے گا۔ بوسنیا کے صدر ملورڈ ڈوڈک وزیر اعظم عمران خان, وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر اعلی سیاسی و عسکری شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ان ملاقاتوں میں پاک بوسنیا تعلقات میں بہتری , دفاعی تعاون, تجارت, سرمایہ کاری میں اضافہ سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جایے گا۔ دفتر خارجہ میں اپنی ملاقاتوں میں بوسنیائی وفد بوسنیا ہرزیگووینا میں غیر قانونی پاکستانی تارکین وطن کے معاملے پر بھی بات چیت کرے گا ۔ 2012 میں سابق بوسنیائی صدر باقر عزت بیگووچ نے اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ رواں ماہ کے آخر میں ترک وزیر خارجہ میلوت چاوش اوگلو بھی پاکستان کا دورہ کریں گے۔ ترک وزیر خارجہ اکتوبر میں دورہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی دعوت پر کر رہے ہیں۔ ترک وزیر خارجہ اپنے دورہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی, وزیراعظم عمران خان سمیت اعلی سیاسی و عسکری شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ترک وزیر خارجہ اپنی ملاقاتوں میں پاک ترک تعلقات میں استحکام, خطے کی صورتحال, مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بات چیت کریں گے۔وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان میں قطر, سودی عرب اور مشرق وسطی کی صورتحال پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال میں ترک وزیر خارجہ میلوت چاوش اوگلو کا دورہ اہمیت کا حامل ہے۔ وزیر خارجہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ترکی کی جانب سے مسلسل واضح اور دو ٹوک موقف اپنانے پر ترک وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کریں گے۔19 اکتوبر کو افغانستان کی حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار پاکستان پہنچیں گے۔ گلبدین حکمت یار صدر مملکت, وزیر اعظم, اسپیکر قومی اسمبلی سمیت سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ زرائع کے مطابق ملاقاتوں میں افغان امن عمل, افغان ٹرانزٹ ٹریڈ, پاک افغان تعلقات سمیت خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ رواں برس کینیا کے صدر اورو کینیاٹا بھی دورہ پاکستان کریں گے۔انہیں دورے کی دعوت وزیر اعظم عمران خان نے دی ہے۔ کینیا کے صدر کے ہمراہ کینیا کی وزیر خارجہ رچل اومامو بھی پاکستان آئیں گی۔ دورے کی حتمی تواریخ کے حوالے سے مشاورت کا سلسلہ آخری مراحل میں ہے ۔جبکہ رواں برس ہی انڈونیشیا کی وزیر خارجہ ریتنو مارسودی بھی پاکستان کا دورہ کریں گی۔پاکستان میں اپنی ملاقاتوں میں ریتنو مارسودی دو طرفہ سیاسی، معاشی و تجارتی تعلقات کے فروغ, علاقائی و عالمی امور پر مشاورت اور خطے میں قیام امن کی مشترکہ کاوشوں پر بات چیت کریں گی۔