اپنے سے یہ حالات سنور کیوں نہیں جاتے ؟

کیا کیا جائے،مجبوری ہے کہانی اگر یاد آجاتی ہے تو اس میں حالات کا قصور ہے، سو بار بار اس کہانی کا تذکرہ ضروری ہو جاتا ہے مگر اب کی بار کہانی میں ایک ٹویسٹ بھی آچکا ہے یعنی صورتحال میں تھوڑی سے تبدیلی ہی نے نہ صرف چونکا دیا ہے بلکہ جب سے راوی نے کہانی کا آغاز کیا تھا اور سینہ بہ سینہ چلتی ہوئی یہ کہانی ہم تک آپہنچی ہے تب سے اب تک حالات نے غالباً پہلی بار یہ موڑ لے لیا ہے یوں بقول شاعر حیرت سے تک رہا ہے جہان وفا مجھے ،یعنی تقاضا تو جہان وفا کا یہی تھا کہ اصل کہانی کے کرداروں کی طرح سو پیاز اور نوے (سو درست نہیں ورنہ گن کر دیکھ لیں) کھائے جائیں اور پھر بھی سر اُٹھا کر خاموش رہا جائے،مگر ٹھہرئے یہ سو کی گنتی والی مثال اور اس سے جڑی کہانی کا اس کہانی سے کوئی تعلق نہیں ہے جس کا حوالہ دیتے ہوئے کالم کا آغاز کیا بلکہ وہ کہانی تو بادشاہ کی جانب سے رعایا کے بادشاہ کے بارے میں خیالات معلوم کرنے والی کہانی ہے اور عمال حکومت کے مشورے پر شہر پناہ کے پل سے گزر کر روزمرہ کے کاموں کیلئے جانے والوں پر ٹول ٹیکس لگا دیا۔ خاموشی سے برداشت کیا کچھ عرصہ بعد ٹیکس دوگنا کیا گیا، کوئی احتجاج نہیں، پھر ہر آنے جانے والے کو سر پر جوتے مارنے کا حکم صادر ہوا، تب چند ہفتے بعد بادشاہ کو شکایت موصول ہوئی۔ بادشاہ بہت خوش ہوا کہ چلو عوام کے اندر بیداری کی لہر پیدا تو ہوئی، مگر یہ کیا؟ شکایتی مراسلے میں تو جوتے مارنے والوں کی تعداد زیادہ کرنے کی التجا تھی سبحان اللہ! یہ تھی وہ بیداری جس کی توقع بادشاہ کئی ماہ سے لگائے بیٹھا تھا۔ یہ کہانی متعدد بار میں اپنے کالم میں مختلف انداز سے قارئین کرام کی نذر کر چکا ہوں تو پھر اب کیا ضرورت آن پڑی ہے اسے ایک بار پھر سنانے یا لکھنے کی؟ مگر یہی تو وہ ٹویسٹ ہے جس کی جانب اوپر کی سطور میں اشارہ کیا ہے، یعنی بالآخر ”رعایا”نے واقعی حقیقت میں ”بیداری” کا اظہار کردیا ہے اور پشاور کے شہریوں کی جانب سے اشیائے خورد ونوش کے ”سرکاری” نرخنامے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”مہنگائی کی شرح پہلے ہی متوسطہ طبقے کے برداشت سے باہر ہے حکومت فوری اقدامات کرے”۔ یوں گویا اب تک گزشتہ کئی دہائیوں سے مہنگائی کا جو حال تھا اور عوام محولہ بالا کہانی کی طرح اب تک سر نیوہاڑے نہ صرف ہر زیادتی کو برداشت کرتے چلے آرہے تھے ساتھ ہی سرکاری نرخنامے میں دئیے گئے نرخوں کو دکانداروں کی جانب سے خاطر میں نہ لاتے ہوئے من مانے نرخوں کی صورت ”سر پر جوتے” بھی کھا رہے تھے اب ان میں مزید تاب نہیں رہی اور چیخ اُٹھے ہیں، ادھر پشاور ہائی کورٹ میں مہنگائی پر برہم دکھائی دے رہی ہے اور جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”عوم کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں، وزراء سب اچھا کی رپورٹ دے رہے ہیں، وزیر ایک پودا لگائے تو اشتہار لگ جاتے ہیں لیکن یہ اشتہار نہیں دیتے کہ سستا آٹا کہاں ہے ہمیں غرض صرف اس سے ہے کہ عوام کو سستی چیزیں ملیں”۔ غالباً حکومت کو اب بالآخر احساس ہو ہی گیا ہے کہ مہنگائی واقعی ساتویں آسمان کو چھو رہی ہے کیونکہ اپوزیشن نے بھی اپنے بیانئے میں عوام پر مہنگائی کی اقتاد کو شامل کر لیا ہے، پھر وزیراعظم کا اس حوالے سے نوٹس لینا تو بنتا تھا اور انہوں نے گزشتہ روز مہنگائی کا نوٹس لیتے ہوئے اسے جلد ختم کرنے کا اعلان کر ہی دیا ہے تاکہ ”اپوزیشن کی تحریک” کے اثر کو زائل کیا جائے، مگر اپوزیشن کیساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر چلنے والی اس ٹرینڈ کا کیا کیا جائے جس میں حکومت کے ہر ”اچھے اقدام” پر بھی منفی تبصرے کئے جاتے ہیں اور اب کہا جارہا ہے کہ وزیراعظم مہنگائی کا نوٹس نہ ہی لیں تو اس سے عوام پر پڑنے والی مزید افتاد سے جان چھوٹی رہے گی یعنی بقول شاعر ہم پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا دراصل جو ”احسان فراموش” ایسے تبصرے کر رہے ہیں وہ سرکار کے ہر اچھے اقدام میں میخ نکالنے کے عادی ہیں اور وہ ماضی میں مختلف حوالوں سے ”نوٹس لینے” کے واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ”بعداز خرابی بسیار” کی طرز پر بعد ازنوٹس” صورت احوال کی یاد دلاتے رہتے ہیں جہاں تک البتہ مہنگائی کا تعلق ہے تو اوپر کی سطور میں عرض کر چکا ہوں کہ یہ صورتحال صرف گزشتہ ڈھائی سال کی تو نہیں بلکہ ماضی کے مہ وسال میں بھی ایسی ہی افتاد عوام پر پڑتی رہی ہے اب وزیراعظم نے مہنگائی کا نہ صرف نوٹس لے لیا ہے بلکہ اپنے ٹائیگر فورس کو ہائی الرٹ پر بھی ڈال کر مہنگائی کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کا حکم دیدیا ہے۔ لیکن یار لوگ بھی کہاں موقع ضائع کرنے والے، ٹائیگر فورس کو فعال بنانے کے احکامات پر کیا کیا تبصرے کئے جارہے ہیں کہ وزیراعظم کا یہ حکم آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے یعنی جب ضلعی سطح پر ایسے سرکاری ادارے اور عمال موجود ہیں جن کی یہی ذمہ داری ہے تو پھر مبینہ ”پرائیویٹ” فورس کو اس طرح کی ذمہ داریاں سونپنے سے شہر شہر، گاؤں، گاؤں، محلہ محلہ جھگڑے پیدا ہوں گے بلکہ گزشتہ روز ایک اخبار اسی نوعیت کی بھی پڑھنے کو ملی تھی جس کے مطابق تاجروں اور ٹائیگرفورس میں توتکار ہوئی اور سرکاری شیروں کی بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا یعنی وہ جو ہندکو کا ایک روزمرہ ہے کہ ”توکون؟ کہ میں خواہ مخواہ” بہرطور مہنگائی کو قابو میں تو کرنا ہی ہے خواہ انگلیاں ”ٹیڑھی” ہی کیوں نہ کرنی پڑیں، کیونکہ سیدھی انگلیوں سے گھی نکالنے کا تجربہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکا۔ قندیل جعفری نے کہا تھا
جب سنی قندیل اس نے رت بدلنے کی خبر
وہ سیاستدان تہہ خانے سے چھت پر آگیا