اپنے گریباں میں جھانکنے کی ضرورت

درخت ماحول کی خوبصورتی میں نہ صرف اضافہ کرتے ہیں بلکہ حضرت انسان کو آکسیجن مہیا کرتے ہیں، ہمارے یہاں پشاور کو خوبصورت بنانے کے حوالے سے بلند بانگ دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ ہوتا نظر نہیں آتا اور اس کی بہت سی وجوہات ہیں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ پشاور کی آبادی بڑی تیزی کیساتھ بڑھتی ہی چلی جارہی ہے اور اس بے تحاشہ بڑھتی ہوئی آبادی نے پشاور شہر کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ وہ پشاور جسے پھولوں کا شہر کہا جاتا تھا اب اپنی ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ حکومت کی نااہلی کا رونا رویا جاتا ہے اس سے گلے شکوے بھی بہت کئے جاتے ہیں لیکن پشاور کی بدصورتی میں اس کے باسی بھی اپنا حصہ ڈالتے رہتے ہیں، ہمارے گلی کوچوں میں پھینکا گیا کوڑا کرکٹ ہمارے گھروں سے ہی نکلتا ہے بس گلی میں ایک خالی پلاٹ ہونا چاہئے، ہم اس میں اپنے گھروں کا گند پھینک کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری ذمہ داری پوری ہوگئی اور تھوڑی دیر کیلئے بھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ ہماری گلی میں موجود کوڑا کرکٹ ہمارے محلے کو نہ صرف بدصورت بناتا ہے بلکہ اس میں جراثیم بھی پرورش پاتے ہیں، جن سے بیماریاں پھیلتی ہیں۔ ہم نے پشاور کے ایک محلے میں گندگی کا ایک بہت بڑا ڈھیر دیکھا آس پاس رہنے والے لوگ اس کی بدبو کی وجہ سے ناک پر رومال رکھ کر اس کے قریب سے گزر رہے تھے، اس ڈھیر کے بالکل سامنے ایک گھر سے ایک صاحب نکلے تو ہم نے موقع غنیمت سمجھتے ہوئے ان سے کہا جناب! اس رہائشی گلی میں کوڑے کرکٹ کا اتنا بڑا ڈھیر؟ کیا ان لوگوں کو اسے ٹھکانے لگانے کی کوئی دوسری جگہ نہیں ملتی؟ انہوں نے بڑے افسوس کیساتھ کہا جناب ہمارے لوگوں کو اس بات کا شعور ہی نہیں ہے کہ اپنی گلیاں خود صاف رکھنی پڑتی ہیں، اب جب تک اس گلی میں یہ خالی پلاٹ موجود رہے گا لوگ یہاں گند پھینکتے رہیں گے۔ ہم نے ڈبلیو ایس ایس پی کے حوالے سے پوچھا کہ کیا وہ اس کوڑے کو یہاں سے اُٹھانے کا بندوبست نہیںکرتے تو وہ کہنے لگے جناب ڈبلیو ایس ایس پی کے کارکن تو یہاں سے ہر روز کوڑا اُٹھا کر لے جاتے ہیں لیکن یہاں آبادی اتنی زیادہ ہے کہ بمشکل دوگھنٹے گزر پاتے ہیں کہ پھر ایک بہت بڑا ڈھیر بن جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اپنے کئے کا علاج نہیں ہوتا، ہمارے یہاں پودے اگانے کا کلچر ہی نہیں ہے چین میں جہاں کسی کو تھوڑی سی خالی جگہ ملتی ہے وہ وہاں پودے اُگا تے ہیں درخت لگاتے ہیں، سبزیاں اُگائی جاتی ہیں جگہ کی خوبصورتی میں اضافہ بھی ہوتا ہے کھانے کیلئے سبزیاں اور پھل بھی مل جاتے ہیں اور صحت مند ماحول کی وجہ سے بیماریاں بھی نہیں پھیلتیں۔ اقبال نے کہا تھا ”اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے” ہم خود تو کچھ بھی نہیں کرتے البتہ حکومت سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے سارے دکھوں سارے مسائل کا حل تلاش کرے۔ اگر گلی میں سرکاری نلکا ٹوٹ جائے تو لوگ میونسپل کارپوریشن کو اطلاع دینے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے دو چار دنوں بعد جب پانی کی وجہ سے گلی ایک چھوٹے سے جوہڑ میں تبدیل ہوجاتی ہے تو پھر اللہ کا کوئی نیک بندہ متعلقہ ادارے کو اطلاع دیتا ہے اسی طرح اگر کسی علاقے کی بجلی خراب ہوجائے تو لوگ جنریٹر آن کرکے بے غم ہوجاتے ہیں، سب یہ سوچ کر بے فکر ہوجاتے ہیں کہ پڑوس میں سے کوئی واپڈا کو اطلاع کردیگا سب کے پاس جنریٹر یا یوپی ایس کی سہولت تو نہیں ہوتی، بہ امر مجبوری واپڈا میں شکایت درج کروانے کیلئے گھر سے نکلتا ہے،اسی طرح ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ نالیوں میں پلاسٹک کے شاپرز نہیں گرانے چاہئیں اس سے نالیاں بند ہوجاتی ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اپنے ہی علاقے کی نالیوں میں پلاسٹ بیگ گراکر انہیں بند کردیتے ہیں۔ درختوں کی اہمیت سے کون واقف نہیں ہے ان کی افادیت واہمیت کسی تشریح کی محتاج نہیں ہے لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو شجرکاری میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ سکول کی ابتدائی کلاسوں سے ہی اگر بچوں کو ان باتوں کی تربیت دی جائے ان میں درخت لگانے اور پودے اگانے کا شعور پیدا جائے، اپنی گلی کو صاف ستھرا رکھنے کی تعلیم دی جائے، تجاوزات کے نقصانات سے انہیں آگاہ کیا جائے، ٹریفک کے اصولوں سے روشناس کیا جائے، یہ اور اس طرح کے دوسرے بہت سے مفید کام نرسری سے ہی طلبہ وطالبات کی تربیت کا حصہ بنا دئیے جائیں تو ان کے اچھے اثرات یقینا نظر آئیں گے۔ اصلاح کا کام اپنی ذات سے شروع ہونا چاہئے جہاں ہم دوسروں پر تنقید کرتے ہیں وہاں ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہئے۔ جہاں ہم اپنے حقوق کے حصول کیلئے چیختے چلاتے رہتے ہیں وہاں ہمیں اپنے فرائض کے حوالے سے بھی سوچنا چاہئے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم یہ تو کہتے ہیں کہ وطن عزیز نے ہمیں کیا دیا؟ لیکن یہ نہیں کہتے کہ ہم نے اپنے پیارے وطن کو کیا دیا؟ اس کی خوبصورتی اس کی تعمیر وترقی میں ہمارا کیا کردار ہے؟ گزارش یہ کرنی تھی کہ ہم خود بہت کچھ کرسکتے ہیں جو ہمارے کرنے کے کام ہیں وہ ہمیں خود کرنے چاہئیں۔