بنیادی اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے تمام انتظامی اقدامات کو یقینی بنایا جائے-وزیرِ اعظم

ویب ڈیسک: وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت بنیادی اشیائے ضروریہ خصوصاً گندم اور چینی کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس

اجلاس میں وفاقی وزراء مخدوم شاہ محمود قریشی، محمد حماد اظہر، سید فخر امام، علی امین گنڈا پور، مشیران عبدالرزاق داؤد، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، ڈاکٹر عشرت حسین، مرزا شہزاد اکبر، معاونین خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، محمد عثمان ڈار، ڈاکٹر وقار مسعود، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر، ایم ڈی یوٹیلیٹی اسٹورز اور سینئیر افسران شریک۔ صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان کی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت

اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے گندم کی سرکاری ریلیز سولہ ہزار ٹن یومیہ سے بڑھا کر بیس ہزار ٹن یومیہ کر دی گئی ہے ۔ آئندہ ایک دو روز میں اسے پچیس ہزار ٹن یومیہ کیا جا رہا ہے۔

چیف سیکرٹری سندھ نے بتایا کہ سندھ حکومت کی جانب سے گندم کی باقاعدہ ریلیز کا عمل آئندہ ایک دو روز میں شروع ہو جائے گا۔ سولہ سے اکتیس اکتوبر کے لئے پچاسی ہزار ٹن گندم مختص کر لی گئی ہے جس کے لئے چالان جمع کرائے جا رہے ہیں۔

چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ فلور ملوں کو اس امر کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ گندم زیادہ دیر تک ملوں میں ذخیرہ نہ کر یں اور آٹے کی فوری ریلیز یقینی بنائیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے اور اس میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخواہ اور وفاق کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت متعین کرنے کی تجاویز موصول ہوگئی ہیں۔ حکومت سندھ پر زور دیا گیا کہ وہ بھی اس ضمن میں تجویز دےتاکہ آئندہ ایک دو روز میں گندم کی امدادی قیمت کا اعلان کیا جا سکے۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر گندم اور چینی کی وافر فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اس ضمن میں چیف سیکرٹری پنجاب نے اجلاس کو یقین دلایا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کو اسکی طلب کے مطابق گندم کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

اجلاس کو درآمد کی جانے والی گندم اور چینی کی ملک میں پہنچ کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔

اجلاس کو قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کے حوالے سے کیے جانے والے مختلف انتظامی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ

اجلاس کو بتایا گیا کہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف مہم میں رینجرز، کسٹم ، پولیس اور اسپیشل برانچ کی بھرپور مدد لی جا رہی ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ گذشتہ روز 475 ٹن چینی قبضے میں لی گئی ہے اسی طرح تیس ہزار ٹن گھی بھی پکڑا گیا ہے جو کہ ذخیرہ کیا جا رہا تھا۔

اجلاس میں صوبائی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ ذخیرہ اندوزی میں ملوث ملوں اور گوداموں کے اصل مالکان کے خلاف ایکشن یقینی بنایا جائے اور ان کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔

چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ عوام الناس کو بنیادی اشیاء سستے نرخوں پر فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اب تک 196 سہولت بازار قائم کیے جا چکے ہیں جن کو 350 تک بڑھایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اب تک 92 کسان مارکیٹس قائم کی جا چکی ہیں۔ ان تمام سہولت بازاروں اور کسان مارکیٹوں کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب کے چھتیس اضلاع میں ایک وزیر اور ایک سیکرٹری کو ہر ضلع کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اس ضلع میں قیمتوں اور خصوصاً سہولت بازاروں اور کسان مارکیٹوں کی نگرانی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ کو بھی مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے افسران کی کاکردگی اس پیمانے پر جانچی جا رہی ہے۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ نے بھی اجلاس کو اشیائے ضروریہ ، گندم اور چینی کی دستیابی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے اٹھائے جانے والے انتظامی اقدامات بشمول سہولت بازار کے قیام سے متعلق اجلاس کو تفصیلی طور پر بریف کیا۔

معاون خصوصی برائے امور نوجوان نے اجلاس کو ٹائیگر فورس کی جانب سے اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے مرتب کی جانے والی رپورٹ پیش کی۔

وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے تمام انتظامی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزوی میں ملوث افراد کے خلاف سخت ایکشن یقینی بنایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ درآمد کی جانے والی گندم اور چینی کے حوالے سے پیش رفت پر مسلسل آگاہ رکھنے کے ساتھ ساتھ سہولت بازاروں کی کارکردگی پر بھی مسلسل آگاہ رکھا جائے۔