نیب بمقابلہ انسانی حقوق

قومی احتساب بیورو انسانی حقوق کا کس قدر احترام کرتا ہے یہ سب خوب جانتے ہیں۔ نیب کی جانب سے انسانی حقوق کی کس قدر خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں یہ بات شواہد اور ثبوتوں سے خوب ثابت کی جا سکتی ہے۔ البتہ ثبوت ایک ایسی چیز ہے جس میں یہ ادارہ کچھ زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ادارے سے متاثرہ افراد بھی اس کی کارکردگی کے حوالے سے زیادہ بات نہیں کرتے۔ ایسی صورتحال میں سابق سینیٹر سحر کامران کی جانب سے مرتب کردہ فیکٹ شیٹ سے ہی اس ضمن میں ہماری رہنمائی کر سکتی ہے۔ اس رپورٹ میں بیان کردہ سب سے پہلا ہوش ربا انکشاف یہ ہے کہ نیب کا ادارہ مبینہ طور پر بارہ اموات کا ذمہ دار ہے۔اسلم محمود جنہیں فروری2019 سعودی عرب سے پاکستان بلوایا گیا تھا کے بارے کہا جاتا ہے کہ ان کی موت مبینہ طور پر نیب کے انہیں زیرتحویل رکھ کر کئے جانے والے سلوک کے باعث دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ اعجاز میمن کو بھی سکھر جیل میں دل کا دورہ پڑا اور وہ اسپتال میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ان کی موت نیب کی جانب سے مالی غبن کے الزام پر تحویل میں لئے جانے کے تین ماہ بعد واقع ہوئی۔ ایڈووکیٹ ظفر اقبال مغل کو11اکتوبر2019 میں گرفتار کیا گیا۔ نیب کے پاس ان کی چھیاسی روزہ تحویل میں ان کی صحت بری طرح متاثر ہوئی۔ انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ چار روز بعد ہی جاں بحق ہوگئے۔ راجہ عاصم بھی پانچ سال تک نیب کی تحویل میں رہے اور اس لمبے عرصے میں بھی ان کی تفتیش مکمل نہ ہو سکی۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی موت مبینہ طور پر انہیں لاحق نمونیہ کی بیماری کا بروقت علاج فراہم نہ کر نے کے سبب ہوئی۔ مزید برآ ان کی موت کا اعلان بھی پانچ دن کی تاخیر کے بعد کیا گیا۔ برگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر نے بھی نیب کے ہاتھوں ذلت سے بچنے کیلئے خودکشی کی راہ اپنائی۔ انہوں نے اپنے آخری تحریری پیغام میں چیف جسٹس آف پاکستان سے نیب کے اس روئیے کا نوٹس لینے کی درخواست کی تھی تاکہ کسی اور سرکاری افسر کو ان جرائم کی سزا نہ بھگتنا پڑے جو اس نے کئے ہی نہیں تھے۔ کے ڈی اے کے محمد ناصر شیخ کو نومبر2015 میں گرفتار کیا گیا۔ انہیں تین سال تک کیس کی پیروی کئے بغیر ہی حراست میں رکھا گیا اور وہ اسی تحویل میں دل کا دورہ پڑنے کے سبب جاں بحق ہوگئے۔ بہاالدین ذکریہ یونیورسٹی، ملتان کے پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین ایک دفعہ خودکشی کی کوشش میں ناکام ہونے کے بعد اسی ادارے کی تحویل میں ہی کچھ عرصہ بعد خالق حقیقی سے جا ملے۔ اسی طرح اگست2018 میں گرفتار ہونے والے قیصر عباس نے جب اپنے دل میں تکلیف کی شکایت کی تو انہیں یکم اکتوبر کو اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ اسی دن موت کا شکار ہو گئے، وہ موت تک نیب کی تحویل میں ہی تھے۔ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے چودھری ارشد کو نیب کی زیرتحویل، تفتیش کے دوران دل کا دورہ پڑا اور وہ جاں بر نہ ہو سکے۔ محمد سلیم کا تعلق لاہور ڈویلمپنٹ اتھارٹی سے تھا۔ انہیںستمبر2017 میں گرفتار کر کے عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل کیا گیا۔ اس دوران ان کی صحت کو نقصان پہنچا اور جب انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تو نیب کی تحویل میں ہوتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پروفیسر جاوید احمد کو نیب نے گرفتار کر کے عدالتی ریمانڈ پر لاہور کیمپ آفس کی جیل میں بند کر دیا جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔ کے ڈی اے کے عبدالقوی کو نومبر2015 میںگرفتار کیا گیا۔ دو سال بعد کراچی سینٹرل جیل میں نیب کی زیرتحویل ہی ان کی بھی موت واقع ہوگئی۔نیب کے زیرحراست قیدیوں کی یہ شرح اموات خوفناک حد تک زیادہ ہے۔ یہ صورتحال عدالتی دخل اندازی کی متقاضی ہے تا کہ نیب کی کارروائیوں اور طریقہ کار کی قانونی حیثیت اور ایک مہذب نظام انصاف میں ایسی کسی چیز کی گنجائش یا اجازت کا پتہ لگایا جا سکے۔ نیب کے طریق کارروائی پر سب سے بنیادی اعتراض اس کا شواہد کے حصول کیلئے ملزمان کو اپنی زیرتحویل رکھنے پر ہے۔ نیب اب تک ہر الزام سے اس غلط فہمی کو بنیاد بنا کر اپنا پہلو بچانے میں کامیاب رہا ہے کہ بدعنوانی کے خاتمے کیلئے تمام ذرائع استعمال کرنا جائز ہے۔ سحر کامران کے اس دعوے میں خاصا وزن ہے کہ نیب کی کارروائیاںآئین میں دی گئیں، انسانی حقوق کی ضمانتوں کی سرعام خلاف ورزی ہے۔ یہ آرٹیکل کسی شہری کی تحقیر، جبری گرفتاری اور شواہد کے حصول کیلئے تشدد کے استعمال کی ممانعت کرتے ہیں اور نیب ان سب کی صریح خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔قومی کمیشن برائے انسانی حقوق، عدالت عظمیٰ اور اعلیٰ عدالتوں سے نیب کے بارے خاصے سخت اعتراضات کئے گئے ہیں۔ البتہ اس سب کے باوجود نیب کے کان پر جوں تک نہ رینگنا اس بات کا عکاس ہے کہ اس کو ریاست کی خوب پشت پناہی حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نیب کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی تمام خلاف ورزیوں کی ذمہ داری ریاست پر بھی عائد ہوتی ہے اور یہ وہ ذمہ داری ہے جس کا بار کوئی بھی مہذب حکومت اپنے کندھوں پر لینے کی ہرگز متحمل نہیں ہو سکتی۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)