تمام علاقائی اخبارات کو ملکی سطح کے اخبارات کے مطابق اہمیت دوں گا وزیراطلاعات سینیٹر شبلی فراز,

ویب ڈیسک (پشارو): وزیراطلاعات سینیٹر شبلی فراز کا ال پاکستان نیوز پیپرسوسائٹی اور کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز کی تقریب سے خطاب ، مجھے اندازہ ہے کہ یہاں کے اخبارات کے بہت سے مسائل ہیں، مسائل سے مکمل اگاہ ہوں، میں چاہتا تھا کہ اپ لے مسائل حل ہوسکیں، اشتہارات اور ان کی تقسیم کو اخبارات کی پشت پناہی کی بحث میں نہیں جاتا ہوں، اخبارات حکومت کے حوالے سے مکمل ہیں، اخبارات حکومت پر تنقید بھی کرتی ہے اور اشتہارات بھی مانگتی ہے، کوئی ایسا میکنزم بھی بنائیں کہ وہ تنقید بھی کریں اور حکومت بھی ان سے خوش رہے، 2018 سے لے کر اب تک کے بقایا جات کو تخمینہ لگا لیا گیا ہے بہت سارے اخبارات نے اپنے ملازمین کو تنخواہیں تک نہیں دی ہیں، اب ہم نے ایک طریقہ کاربنا لیا ہے کہ سب کو معلوم ہورہا ہے کہ کس کو کتنے اشتہارات ملی، آ پ کی تجاویز کے ساتھ مسائل کا حل نکالا جاے گا، اخبارات کے مسائل کے حوالے سے تمام مسائل وزیر اعلی سے بات کروں گا، تمام اخبارات کو میرٹ پر ان کا حق دیا جاے گا، جو اخبار چھپتا ہی نہیں تو اسے کیسے اس اخبار سے ملایا جائے، جو دن میں دس ہزار صفحہ چھاپتا ہے، جو اخبارات کام نہیں کررہے وہ حقدار ساتھیوں کا حق کھا رہے ہیں، پریس کلبز میں الیکشن کے لیے ممبرشپ دی جاتی ہے، صحافیوں کو بھی پرکھنے کے لیے نظام لائیں گے، جب تک میں وزیر ہوں تمام علاقائی اخبارات کو ملکی سطح کے اخبارات کے مطابق اہمیت دوں گا، مسائل کے حل کے لیے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے، مالکان کے ساتھ تعلق نہیں بناتا کیونکہ پھر فیصلے ازادانہ نہیں ہوسکتے ہیں۔