حکومت اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے درمیان آخرکار مذاکرات کامیاب

ویب ڈیسک (اسلام آباد): اوسی حکومت اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے درمیان آخرکار مذاکرات کامیاب، احتجاجی دھرنا ساتویں روز میں داخل ہوتے ہی کامیاب مذاکرات کے بعد ختم کردیا گیا، وفاقی وزیر علی محمد خان کا زیر نگرانی کمیٹی اجلاس میں فیصلہ کرلیا گیا کہ خواتین ہیلتھ ورکرز کے تمام مسائل کی حل کرنے کیلئے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی بنائی جائے گی، اور اس خصوصی کمیٹی میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے چاروں صوبائی اور آزاد کشمیر کے نمائندے شامل ہونگے، کامیاب مذاکرات کے بعد وفاقی وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنی بہنوں کا شکریہ لمحہ فکریہ کی یہ یہاں آئیں اور اپنے حق لئے آواز بلند کرنا دین سیکھاتا ہے، ہم نے مطالبات کو سنا اور منتخب حکومت سے ناراض ہونا ان کا حق ہے، تاہم وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ مسائل کا حل نکالیں گے، ان مسائل کی حل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کردی ہے، جس کے ذریعے ہم آپ کی تنخواہ میں اضافے کے مطالبہ سے زیادہ کریں گے، صوبائی وزیر صحت کو ہدایات جاری کردی جائیں گی، جبکہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ اپنی بہنوں پر کسی قسم کی طاقت کا استعمال نہیں کرنا تاہم لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مرکزی صدر رخسانہ انور نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم بہت مشکلات جھیل کر یہاں آئے تھے ، یہاں کنٹینر دیکھ کر غصہ آیا تھا، آج ہمارے مسائل کے حل کے لئے کمیٹی بنائی گئی ہے مگر خوشی اس وقت ہوگی، جب عملی کام ہوگا، رخسانہ انور نے کہا کہ تین ماہ کا وقت ملنا ہماری بڑی کامیابی ہے، مگر کامیاب مذاکرات پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں، دھرنے کے اختتام پر میڈیا کا شکریہ جبکہ پولیس سے تشدد پر شکوہ بھی کیا۔