قومی اسمبلی اجلاس: اپوزیشن کی شدید ہنگامہ آرائی ،ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں

ویب ڈیسک: قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کی پھر ہنگامہ آرائی ،ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ ایوان میں سیٹیاں بجتی رہیں، اپوزیشن کے شور میں ہوتے ہوئے حکومت نے تین بلز منظور کرا لئے۔ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی کہتے ہیں اپوزیشن اگلے تین سال بھی سیٹیاں ہی بجاتی رہے گی۔گونیازی گو کے نعرے۔ سپیکر ڈائس کا گھیراو۔ قومی اسمبلی اجلاس میں دومرتبہ کورم کی نشاندہی پر اپوزیشن کو شکست تیسری مرتبہ کورم ٹوٹ گیا اجلاس جمعہ تک ملتوی کرنا پڑ گیا.

قومی اسمبلی اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں شروع ہوا تو اپوزیشن نے نکتہ اعتراض مانگا ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے ایجنڈے کی تکمیل کے بعد نکتہ اعتراض دینے کا کہا تو اپوزیشن نے شور شروع کردیا۔ سپیکر ڈائس کا گھیراو کرلیا ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ گونیازی گو مک گیا تیرا شو نیازی گو نیازی گو کی شدید نعرے بازی کی گئی۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن احتجاج تو دیکھنے میں آتا ہی رہتا تھا مگر اپوزیشن نے دلچسپ راستہ نکالا وہ سیٹیاں لیکر ایوان میں آگئی ایوان میں سیٹیاں گونجتی رہیں۔ قومی اسمبلی اجلاس میں دومرتبہ اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کی مگر کورم پورا نکلا اس دوران حکومت نے چار میں سے تین بلز اسلام آباد قانون کرایہ داری ،ریئل سٹیٹ اور اسلام آباد فوڈ سیفٹی ایکٹ کی منظوری دے دی۔

اپوزیشن احتجاج پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا اپوزیشن کے بلز موخر کرنے کی بجائے مسترد کئے جائیں کیونکہ ایوان میں موجود ہوکر بھی اپوزیشن نے بلز پیش نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اگلے تین سال بھی سیٹیاں ہی بجاتی رہے گی۔ اپوزیشن کے سپیکر ڈائس کے ساتھ اکھٹے احتجاج پر ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے اپوزیشن کو نصیحت کی کہ کرونا پھیل رہا ہے اس لئے ماسک پہنیں اور سماجی فاصلے کا خیال رکھیں۔

اپوزیشن نے مغرب کی نماز سے تھوڑا قبل حکومتی ارکان کی تعداد کم دیکھتے ہوئے ایک بار پھر کورم کی نشاندہی کی تو ڈپٹی سپیکر نے گنتی کی بجائے اجلاس میں مغرب کی نماز کا وقفہ کردیا مغرب کے بعد دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو گنتی کی گئی کورم پورا نہ نکلا تو اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔