احتیاط سے احتیاط برتنے کی روش

اصل ضرورت کورونا سے احتیاط کی تھی مگر ہمارے ہاں اُلٹی گنگا بہہ رہی ہے کہ لوگ احتیاط سے احتیاط برتنے اور گریز کرنے لگے ہیں۔ حکومت اور ریاستی ادارے عوام کو احتیاط برتنے کی مسلسل تلقین کررہے ہیں مگر ایک مکمل لاک ڈاؤن کے بغیر یہ سب پند ونصائح سروں کے اوپر سے ہی گزرتے معلوم ہو رہے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا انتباہ سامنے آتا ہے مگر عوامی سطح پر ”زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد” کی کیفیت صاف دکھائی دیتی ہے۔ اس روش کا نتیجہ یہی ہے کہ کورونا کے موسم کی کروٹ کیساتھ ہی کورونا کے کیسز بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کورونا وباء کے کیسز میں اضافے کے بعد عوام کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ کورونا کیخلاف جنگ جیت چکے ہیں مگر تاحال مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا ہے کہ جن ممالک میں کورونا کیسز میں کمی آئی ہے ان میں یہ وبا دوبارہ سر اُٹھا رہی ہے، لہٰذا عوام ماسک پہنیں، سماجی فاصلہ رکھیں، بار بار ہاتھ دھوئیں، گھروں اور شادی ہالوں میں احتیاط برتیں۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ علمائے کرام اور میڈیا نے کورونا کے بارے میں آگاہی دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ صدر مملکت کی طرف سے عوام کے نام یہ اپیل اس وقت ہوئی ہے جب ملک میں کورونا کے کیسز تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کو سمارٹ لاک ڈاؤن میں تبدیل کیا جا چکا ہے مگر سمارٹ لاک ڈاؤن عوام کو کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش ہی معلوم ہوتا ہے۔ بازاروں، عدالتوں، ہسپتالوں اور پبلک مقامات کو دیکھیں تو سمارٹ لاک ڈاؤن کی سمارٹنس دھری کی دھری نظر آتی ہے۔ ملک میں کورونا کی جس دوسری لہر کے آنے کے خدشات موجود تھے ایسا لگتا ہے کہ اس کا آغاز ہو گیا ہے۔ موسم کی نئی کروٹ کیساتھ ہی ملک بھر میں کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے اور اسی انداز سے اموات کا سلسلہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ان رپورٹس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بھی کورونا کی دوسری لہر آنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ اپنے ٹویٹر پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ دوسری ریاستوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے ہم پرمہربانی کی اور ہمیں کورونا کے بدترین اثرات سے بچایا تاہم خدشہ ہے کہ موسم سرما کا آغاز کورونا کی دوسری لہر کا آغاز بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ کورونا کو بڑھنے سے روکنے کیلئے ماسک پہنیں اور سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔ تمام اداروں اور دفاتر کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی، ان کے ملازمین کو بھی ماسک پہننا ہوں گے۔ وزیراعظم کے اس انتباہ کے بعد بھی حالات میںکوئی بہتری نہیں ہوئی اور کاروبار زندگی پوری بداحتیاطی کیساتھ جاری رہا۔ کچھ عرصہ قبل کراچی میں کئی کاروباری اداروں کیخلاف ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی کی گئی جس کے تحت شادی ہالز، میڈیکل سٹورز اور ریستورانوں کو بند کیا گیا۔ خیبر پختونخوا حکومت نے کورونا کے کیس سامنے آنے کی وجہ سے تعلیمی اداروں کو سیل کردیا تھا۔ ملک کے مختلف حصوں میں تعلیمی اداروں اور گلی کوچوں کو جزوی طور پر بند کیا گیا مگر خاطرخواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اس حوالے سے کورونا ایڈوائزری گروپ نے سخت تبینہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو کورونا دوبارہ پھیل سکتا ہے کیونکہ اسی فیصد افراد نے احتیاطی تدابیر چھوڑ دی ہیں، پچہتر فیصد ماسک ہی نہیں پہنتے پچاسی فیصد سماجی دوری اور سینیٹائزر کا استعمال ہی نہیں کرتے۔ اب تازہ ترین گھنٹی وفاقی وزیراسد عمر نے بجائی ہے کہ ان کا کہنا تھا کہ عوام کورونا ایس او پیز کو نظرانداز کرکے غلطی کررہے ہیں۔ موجودہ راستہ تبدیل نہ کیا تو زندگی اور معاش سے محروم ہوجائیں گے۔ کورونا کیسز کی موجودہ شرح چند ہفتے کے مقابلے میں ایک سو چالیس فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ ہفتے کورونا سے یومیہ اموات کی تعداد بارہ رہی۔ کورونا کی دوسری لہر کے خدشات اور حکومتی ذمہ داروں کے ویڈیو پیغامات، ٹویٹر اور دوسرے ذرائع سے بجائے جانے والے خطرات کے الارم اور ایڈوائزری کونسل کے اعداد وشمار ایک افسوسناک کہانی سنارہے تھے۔ حقیقت یہ کہ معمولی سی چھوٹ ملتے ہی لوگوں نے احتیاطی تدابیر کو مکمل طور پر خیرباد کہہ دیا ہے۔ ماسک اور سماجی فاصلہ دوبارہ متروک ہوگیا ہے۔ لوگ ایک بار پھر اس خطرے سے بیگانہ اور لاپرواہ ہو گئے ہیں۔ سماجی فاصلے کی بجائے لوگوں نے دوبارہ ہجوم بنانا شروع کیا ہے۔ شادی بیاہ جلسے جلوس ماضی کی طرح اپنا رنگ جما رہے ہیں۔ بازاروں میں ہمیشہ کی طرح کھوے سے کھوا چلتا ہے۔ اس کے باوجود کہ مرض کی ابھی تک ویکسین دریافت نہیں ہوئی احتیاطی تدابیر کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا حماقت اور خودکشی کے سوا کچھ نہیں۔ ویکسین دریافت نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کورونا بدستور لاعلاج مرض ہے کیونکہ ابھی اس کا علاج ہی دریافت نہیں ہوسکا۔ عوام کو اس دوسری لہر میں ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا بصورت دیگر اس کا انجام پچھلی لہر سے زیادہ بھیانک ہوسکتا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم ابھی تک کورونا کے خوف اور خطرے سے آزاد نہیں ہوئے مگر احتیاطی تدابیر سے آزاد ہو چکے ہیں اور وبا کی مکمل رخصتی سے پہلے ہی احتیاط کو خداحافظ کہہ دیا گیا ہے۔