امریکا کی جانب سے مزید 6 چینی میڈیا اداروں پر پابندیاں عائد

ویب ڈیسک (واشنگٹن )امریکا نے مزید 6 چینی میڈیا آرگنائزیشنز پر قوانین کو سخت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پروپیگینڈا آٹ لیٹس ہیں جو ریاست کو جوابدہ ہیں۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ غیرملکی مشنز کے طور پر چینی آٹ لیٹس پر امریکی پابندیوں کا تیسرا دور تھا، جس میں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے امریکا میں مقیم اسٹاف کی تفصیلات اور ریئل ای اسٹیٹ ٹرانزیکشنز سے متعلق اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹ دیں۔واضح رہے کہ غیرملکی مشنز کے طور پر شامل کی گئی ان 6 نئی تنظیموں میں یی کائی گلوبل، جی فینگ ڈیلی، شن من ایوننگ نیوز، سوشل سائنسز ان چائنا پریس، بیجنگ ریویو اور اکنامک ڈیلی شامل ہیں۔اس سے قبل اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے 9 معروف اداروں پر قوانین کا اطلاق کیا تھا جس میں ژنوا نیوز ایجنسی اور چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک شامل تھیاس حوالے سے امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو کا ایک نیوز کانفرنس میں کہنا تھا کہ ان اداروں کو اپنی رپورٹنگ کے دوران کوئی پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ادھر اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان مورگن ارتاگس نے پیپلز ریپبلک آف چائنا اور چائنیز کمیونسٹ پارٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دنیا بھر میں میڈیا سچائی کے لیے کام کرتا ہے جبکہ پی آر سی میڈیا سی سی پی کے لیے امور انجام دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا امریکا عوامی سطح پر ان پابندیوں کے ذریعے حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے۔ادھر چین نے ان ریگولیشنز کی مذمت کی اور نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال اسٹریٹ جرنل سمیت بڑی نیوز آرگنائزیشن کے لیے کام کرنے والے امریکی شہریوں کو بیدخل کرکے ردعمل دیا۔دوسری جانب کچھ میڈیا رائٹس ایڈووکیٹس کی جانب سے چینی اداروں کو اسٹیٹ کے لیے امور انجام دینے کو تسلیم کرتے ہوئے امریکی اقدامات پر بے چینی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ بیجنگ کو ان صحافیوں کو باہر نکالنے کا موقع دیتا ہے جنہون نے انسانی حقوق اور کووڈ 19 کے دوران قابل قدر تفتیشی کام کیا۔